رسائی کے لنکس

logo-print

سینیٹ امور خارجہ کمیٹی کی ایران پر مفاہمتی بِل کی منظوری


مفاہمتی بِل کو ایوان کے دونوں اطراف کے ارکان کی حمایت حاصل تھی، اور ووٹنگ کے دوران، 19 حق میں جب کہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔۔۔وائٹ ہاؤس اس بات کا عندیہ دے چکا ہے کہ صدر براک اوباما مفاہمی بِل پر دستخط کریں گے

امریکی سینیٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی نے منگل کو ایک مفاہمتی مسودہٴ قانون کی منظوری دی ہے؛ جب کہ ایران کے ساتھ حتمی جوہری سمجھوتا طے ہونے کی صورت میں، کانگریس پھر اس کا جائزہ لے گی، جسے منظور یا مسترد کیے جانے پر ممکنہ ووٹنگ ہوگی۔

مفاہمتی بِل کو ایوان کے دونوں اطراف کے ارکان کی حمایت حاصل تھی، اور ووٹنگ کے دوران، 19 حق میں جب کہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔

اب یہ بِل سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے مکمل ایوانوں کے سامنے پیش ہوگا۔

وائٹ ہاؤس اس بات کا عندیہ دے چکا ہے کہ صدر براک اوباما مفاہمی بِل پر دستخط کریں گے۔

اس ترمیمی بل میں کانگریس کی جانب سے ایران کے ساتھ سجھوتے کا جائزہ لینے کے لیے 60 دِن کی میعاد کو گھٹا کر 30 دن کر دیا گیا ہے۔ صدر کو ہر 90 دِن کے بعد، یہ تصدیق کرنی ہوگی آیا ایران اپنے عہد کی پابندی پر کاربند ہے۔ اگر ایران سمجھوتے کی انحرافی کرتا ہے، تو کانگریس کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ فوری طور پر تعزیرات لاگو کردے۔

امریکہ اور پانچ دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کے دوران، متعدد ریپبلکینز نے اپنی آواز شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی آواز کو شامل کرنے سے امریکہ کا مؤقف زیادہ مؤثر ہوگا۔ لیکن، اوباما انتظامیہ نے متنبہ کیا تھا کہ ایسا عمل کرنے سے ایران مذاکرات کی میز سے بھاگ سکتا ہے۔

ایران کے معاملے پر، امریکی وزیر خارجہ، جان کیری نے منگل کو سینیٹ کے چوٹی کے سینیٹروں کے ساتھ آج دوسرے روز بھی بند کمرے میں اجلاس جاری رکھا۔

بدھ کو وہ جرمنی کے شہر، لیوبیک جائیں گے جہاں ’جی سیون‘ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

XS
SM
MD
LG