رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سینیٹ میں یمن جنگ کی حمایت ختم کرنے کی قرارداد منظور


یمن جنگ سے امریکی حمایت ختم کرنے کی سینیٹ کی قرار داد کے حق میں واشنگٹن میں مظاہرہ۔ 13 دسمبر 2018

سینیٹرز نے 41 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے قرار داد کو منظور کیا، جس میں صدر سے یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ 30 روز کے اندر  یمن کی جنگ پر اثرانداز ہوئے والے تمام فوجی دستوں کو وہاں سے نکال لیں، تاوقتیکہ کہ وہ القاعدہ کے خلاف نہ لڑ رہے ہوں۔

امریکی سینیٹ نے جمعرات کے روز ایک قرار داد کی منظوری دی جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ سعودی قیادت میں لڑی جانے والی یمن کی جنگ کے لیے اپنی حمایت ختم کر دے۔

یہ قرار داد امریکہ میں مقیم سعودی صحافی کی استنبول میں سعودی قونصلیٹ کے اندر قتل کے واقعہ پر صدر ٹرمپ اور ایوان کے ارکان کے درمیان جاری کشیدگیوں کو نمایاں کرتی ہے۔

سینیٹرز نے 41 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے قرار داد کو منظور کیا، جس میں صدر سے یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ 30 روز کے اندر یمن کی جنگ پر اثرانداز ہوئے والے تمام فوجی دستوں کو وہاں سے نکال لیں، تاوقتیکہ کہ وہ القاعدہ کے خلاف نہ لڑ رہے ہوں۔

تاہم قرار داد کو صدر کے پاس بھیجے جانے کے لیے ضروری ہے کہ ایوان نمائندگان اس کی منظوری دے، جو پہلے ہی اس کے حق میں ووٹ دینے کی دھمکی دے چکا ہے۔

اگرچہ جمعرات کو منظور کی جانے والی سینیٹ کی قرار داد کیپیٹل ہل میں سعودی عرب کے حوالے سے مایوسی کو نمایاں کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان امریکہ اور سعودی بادشاہت کے تعلقات پر بڑھتے ہوئے فاصلوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ قرار داد اس کے دو روز بعد سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنا موقف برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سعودی حکومت اور خاص طور پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ کھڑے ہیں، جن کے متعلق، خبروں کے مطابق، امریکہ کے انٹیلی جینس عہدے داروں کا خیال ہے کہ استنبول میں اکتوبر کے شروع میں سعودی قونصلیٹ میں خشوگی کے قتل کا حکم انہوں نے دیا تھا۔

سینیٹ کے زیادہ تر ارکان کا خیال ہے کہ ولی عہد خشوگی کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں کیونکہ خشوگی سعودی قیادت پر کھلم کھلا نکتہ چینی کرتا تھا۔

سینیٹ نے جمعرات کو ایک اور قرار داد بھی منظور کی جس میں سعودی کراؤن پرنس کو خشوگی کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کے روز صدر ٹرمپ نے خبررساں ادارے روئیٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاض ہمارا ایک بہت اچھا اتحادی رہا ہے اور اس لمحے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG