رسائی کے لنکس

logo-print

یروشلم میں امریکی سفارت خانے کا افتتاح آج ہوگا


​​اسرائیل کی وزارتِ خارجہ میں ہونے والی اس تقریب میں اسرائیل میں تعینات 86 ممالک کے سفیروں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن صرف 33 ملکوں کے سفیر اس تقریب میں شریک ہوئے۔

امریکہ فلسطینیوں اور عالمی برادری کے احتجاج اور مخالفت کے باوجود پیر کو اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ باضابطہ طور پر تل ابیب سے یروشلم منتقل کر رہا ہے۔

سفارت خانے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسٹیون نوچن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ اور ان کے شوہر جیراڈ کوشنرپر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد اسرائیل پہنچ گیا ہے۔

اسرائیلی حکومت امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی پر خاصی خوش ہے اور اس نے سفارت خانے کے افتتاح کے سلسلے میں یروشلم میں کئی تقاریب اور جشن کا اعلان کیا ہے۔

اتوار کو افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے امریکی وفد کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے سے خطاب میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے دیگر ملکوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفارت خانوں کی یروشلم منتقلی سے امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی کیوں کہ ان کے بقول "جھوٹ کی بنیادوں پر امن کی عمارت نہیں اٹھائی جاسکتی۔"

اسرائیلی حکام نے سفارت خانے کے افتتاح کے موقع پر یروشلم کو سجایا ہے۔
اسرائیلی حکام نے سفارت خانے کے افتتاح کے موقع پر یروشلم کو سجایا ہے۔

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ میں ہونے والی اس تقریب میں اسرائیل میں تعینات 86 ممالک کے سفیروں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن صرف 33 ملکوں کے سفیر اس تقریب میں شریک ہوئے۔

عالمی برادری کا موقف ہے کہ یروشلم ایک متنازع علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان طے پانے والے حتمی امن معاہدے میں ہی ہوگا۔

دنیا کے بیشتر ملکوں اور اقوامِ متحدہ کے خیال میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی امن معاہدے سے قبل سفارت خانوں کی یروشلم منتقلی سے خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور عالمی براری کی غیر جانب داری متاثر ہوگی۔

لیکن عالمی اداروں اور خود امریکہ کے قریب ترین اتحادی یورپی ممالک کی مخالفت کے باوجود صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال جون میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سفارت خانے کی منتقلی کا وعدہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا جو ان کے بقول "تاریخی طور پر ایک صحیح فیصلہ ہے۔"

اسرائیلی حکام امریکہ کے اس اقدام کو اپنے موقف کی فتح اور فلسطینی مقبوضات پر اپنے ملکیتی دعووں کی حمایت سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ مزید ممالک بھی اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کریں۔

اسرائیلی بلدیہ کا ایک اہلکار نئے امریکی سفارت خانے کی جانب جانے والی سڑک پر بورڈ نصب کر رہا ہے۔
اسرائیلی بلدیہ کا ایک اہلکار نئے امریکی سفارت خانے کی جانب جانے والی سڑک پر بورڈ نصب کر رہا ہے۔

فلسطینی یروشلم کے مشرقی علاقے کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں اور فلسطینی اتھارٹی اور عوام صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر خاصے برہم ہیں۔

سفارت خانے کے افتتاح کے موقع پر یروشلم کے عرب علاقوں اور فلسطین کے دیگر قصبوں اور شہروں میں مظاہرے متوقع ہیں جنہیں روکنے کے لیے اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

اتوار کو تقریب سے اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے ساتھ مستقبل میں جو بھی امن معاہدہ طے پائے گا اس میں یروشلم اسرائیل ہی کا دارالحکومت ہوگا۔

امریکی سفارت خانے کے افتتاح کے موقع پر یروشلم شہر کو امریکی اور اسرائیلی پرچموں اور بینرز سے سجایا گیا ہے جن پر صدر ٹرمپ کے شکریے اور ان کی تحسین پر مشتمل پیغامات درج ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال نیا امریکی سفارت خانہ یروشلم میں واقع امریکی قونصل خانے کی عمارت میں کام شروع کر رہا ہے جب کہ سفارت خانے کی نئی عمارت کے لیے جگہ کی تلاش جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG