رسائی کے لنکس

logo-print

شام: داعش کے خودکش حملے میں چار امریکی ہلاک


منبج میں خودکش حملے کے بعد امریکی فوجی اہلکار جائے واقعہ پر موجود ہیں۔

شام میں تشدد کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے کہا ہے کہ حملے میں کم از کم نو عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شام کے شمالی شہر منبج میں ایک خود کش حملے میں چار امریکی شہریوں سمیت 10 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق حملہ بدھ کو اس ریستوران میں کیا گیا جہاں امریکی اہلکار مقامی فوجی حکام کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں امریکی فوج کے دو اہلکار، محکمۂ دفاع کا ایک سول ملازم اور ایک کانٹریکٹر شامل ہیں۔ حملے میں تین امریکی فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

منبج میں موجود طبی عملے نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ دونوں فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔ حملے کے بعد جائے واقعہ کی ویڈیوز اور تصاویر میں زمین پر پڑی لاشیں اور خون پھیلا دیکھا جاسکتا ہے۔

امریکہ کی حمایت یافتہ شامی باغیوں کے اتحاد 'سیرین ڈیموکریٹک فورسز' نے کہا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے امریکی اہلکاروں کو پڑوسی ملک عراق میں واقع اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

شام میں تشدد کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے کہا ہے کہ حملے میں کم از کم نو عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

حملے کے فوری بعد شدت پسند تنظیم داعش نے انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے ایک بیان کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

بیان میں داعش نے کہا ہے کہ خودکش حملہ آور کا تعلق شام سے ہی تھا جس نے امریکہ اور اتحادی فوج کی ایک گشتی پارٹی کو نشانہ بنایا۔

حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ٹرمپ حکومت داعش کے خلاف جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کرچکی ہے اور شام سے امریکی افواج کی واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ٹرمپ حکومت داعش کے خلاف جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کرچکی ہے اور شام سے امریکی افواج کی واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

داعش کے خلاف کارروائی کے لیے شام میں 2015ء میں امریکی فوج کی تعیناتی کے بعد سے امریکی شہریوں کی ہلاکت کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔

حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ٹرمپ حکومت داعش کے خلاف جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کرچکی ہے اور شام سے امریکی افواج کی واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

صدر ٹرمپ نے 19 دسمبر کو شام میں داعش کو شکست دینے اور وہاں موجود دو ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہلکاروں کو وطن واپس بلانے کا اچانک اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے اس غیر متوقع اعلان پر ان کے اپنے کئی حامی ری پبلکن رہنماؤں اور سابق فوجی اور انٹیلی جنس افسران نے تحفظات ظاہر کیے تھے اور کہا تھا کہ شام سے قبل از وقت انخلا کے نتیجے میں داعش کو دوبارہ مضبوط ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

اس اعلان کے اگلے ہی روز امریکی وزیرِ دفاع جِم میٹس "صدر کے ساتھ موجود پالیسی اختلافات" کی بنیاد پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو ہونے والے حملے میں ہلاک امریکی فوجیوں اور سول اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے سے متعلق صدر ٹرمپ کو مکمل بریفنگ دے دی گئی ہے۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ امریکہ داعش کی باقیات کو کبھی دوبارہ اپنی شیطانی اور قاتل حکومت کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG