رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے 'جنگ بندی' کا امکان


فائل فوٹو

افغانستان میں طالبان نے ایک تازہ حملے میں افغان فوج کے 17 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ دوسری جانب طالبان قیادت مبینہ طور پر امریکہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی پر غور کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق طالبان کی جانب سے چند دن کے لیے جنگ بندی پر غور اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق معاہدہ طے ہو سکے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق افغان صوبے تخار کی حکومتی ترجمان جواد ہیجری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہفتے کی رات ہونے والے حملے میں ایک فوجی چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس چوکی پر طالبان مخالف حکومت کی حامی ملیشیا کے اہلکار ڈیوٹی دے رہے تھے۔

جواد ہیجری نے مزید بتایا کہ طالبان کے اچانک حملہ میں چار افراد زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ حملے میں حکومت نواز ملیشیا کے 21 اہلکار ہلاک ہوئے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ طالبان کا کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

افغانستان میں شدید سردی کے باوجود طالبان کے حملے جاری ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران طالبان نے سرکاری فوج کے 50 سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی فوج کی طرف سے جوابی کارروائی کے دوران طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

یہ ہلاکت خیز کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکہ کی سربراہی میں غیر ملکی فوج کے ساتھ طالبان قیادت مبینہ طور پر ایک ہفتے کی عارضی فائر بندی پر رضامند ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق فریقین میں آئندہ ماہ یعنی جنوری 2020 کے اوائل میں کچھ وقت کے لیے جنگ بندی ہو سکتی ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس عارضی جنگ بندی سے طالبان اور امریکہ کے درمیان امریکی فوجی انخلا سے متعلق معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایسے معاہدے کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بھی دو دہائیوں سے جاری محاذ آرائی کے مستقل خاتمے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کی قیادت اور شوریٰ جنگ بندی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

جنگ بندی کے حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ اس بارے میں اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا جبکہ اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کا اعلان مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق طالبان کا خیال ہے کہ عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکہ کے ساتھ امن بات چیت فوری طور پر شروع ہو سکتی ہے جس میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کی واپسی کا امکان پیدا ہو جائے گا۔

امریکہ نے طالبان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ اس ماہ منقطع کرتے ہوئے طالبان سے کہا تھا کہ وہ بات چیت کو آگے بڑھانے کی خاطر عارضی جنگ بندی پر رضامند ہو۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG