رسائی کے لنکس

حراستی مرکز میں پناہ گزینوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے


غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک عارضی حراستی مرکز میں۔ (فائل)

امیگریشن کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ستمبر کے مہینے تک ملک بھر میں 38 ہزار سے زیادہ لوگ امیگریشن کے قوانین کی خلاف ورزیوں کی بنا پر حراست میں تھے ۔ ان میں سے کچھ پناہ کے متلاشی ہیں۔

اس وقت امریکہ کی پالیسی ہے کہ وہ ان لوگوں کو حراست میں لے، جو کسی امریکی ساحل پر پہنچنے کے بعد پناہ حاصل کرنے کی درخواست دائر کرنا چاہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کے پاس کوئی مستند ویزہ ہے یا نہیں۔

امیگریشن سے متعلق وائس آف امریکہ کی نمائند ایلین بیرروس نے نیو جرسی میں ایک حراستی مرکز کا دورہ کیا اور حراست کے دوران جلاوطنی کی کارروائی سے گذرنے والے کچھ لوگوں سے بات کی۔

پناہ کے متلاشیوں پر امیگریشن کے حراستی مرکز کے دروازے جب ایک بار بند ہو جاتے ہیں تو وہ کئی ماہ تک دوبارہ نہیں کھلتے۔

نیوایک ایئر پورٹ کے قریب واقع ایک صنعتی علاقے میں قائم ایلزبتھ ڈی ٹینشن سینٹر میں ایسے تارکین وطن کو رکھا جاتا ہے، جن میں سے کچھ جرائم کا ارتکاب کر چکے ہوتے ہیں۔ امیگریشن کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ستمبر کے مہینے تک ملک بھر میں 38 ہزار سے زیادہ لوگ امیگریشن کے قوانین کی خلاف ورزیوں کی بنا پر حراست میں تھے ۔ ان میں سے کچھ پناہ کے متلاشی ہیں۔

سیکیورٹی کی جانچ پڑتال ایئر پورٹ کے کسی چیک پوائنٹ کی طرح ہوتی ہے۔ وہاں پہنچنے والوں کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ وہ اپنی شناختی دستاویز دکھائیں، اپنا سامان ایک لاکر میں چھوڑیں، ان کے پاس کوئی فون، کوئی تصویر، اور کسی قسم کی کوئی ریکارڑنگ نہ ہو۔

ایک تارک وطن ایڈیف اوکپورہ کو الزبیتھ سینٹر میں پانچ ماہ رکھا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے ا امیگریشن والوں نے بتایا تھا کہ ان کے پاس تارکین وطن کے رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس لیے مجھے بتایا گیا کہ مجھے ایک جیل میں لے جایا جائے گا۔

اوکپورو کا تعلق نائیجیریا سے ہے جہاں وہ ہم جنس پرستوں کے لئے کام کرنے والے ایک گروپ کے ساتھ ایک سر گرم کارکن کے طور پر کام کرتے تھے ۔ لیکن نائیجیریا میں ایک ہی جنس کے لوگوں کے درمیان شادی قانون کے خلاف ہے ۔ اکتوبر 2016 میں انہیں نیویارک میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی جانب سے ایک ایوارڈ ملا جس نے اس کی تصویر شائع کی اور انہیں منظر عام پر لائی۔

وہ کہتے ہیں کہ کمیونٹی میرے لیے پھانسی کا مطالبہ کر رہی تھی اس لیے مجھے وہاں سے فرار ہونا پڑا ۔ میرے پاس امریکہ کا ایک ویزہ تھا اور یہ ہی میرے پاس وہ واحد سفر ی دستاویز تھی جس کے ساتھ میں نے سفر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے اس طرح الگ تھلگ رہنے سے کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔ آپ کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ کیا کریں اور کیا نہ کریں ۔ او وہ مجھے کھانے کے لیے خوراک دے رہے ہیں چاہے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں، آپ کو وہ لینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ کمرے میں اس بارے میں پریشانی کے ساتھ رہا کرتا تھا کہ میرے مقدمے کا فیصلہ کیا ہو گا۔ اگر میں مقدمہ ہار گیا تو مجھے اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے گا ۔ اگر میں جیت گیا تو مجھے رہا کر دیا جائے گا ۔ مجھے رہا کر کے کہاں بھیجا جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔ میں ہمیشہ اپنی فیملی کی وجہ سے پریشان تھا ۔ میرا اپنی فیملی سے کوئی رابطہ نہیں ہے کیوں کہ وہ مجھے اپنے جنسی رجحان کی وجہ سے قبول نہیں کرتے ۔

اوکپوروکو پناہ دے دی گئی اور اس نے امریکہ میں اپنی نئی زندگی شروع کر دی ہے ۔ وہ تین جگہ ملازمت کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانے پکانے کی ایک کتاب لکھی ہے جس میں دنیا بھر کے مختلف ملکوں کے چالیس پناہ گزینوں کو شامل کیا گیا ہے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG