رسائی کے لنکس

logo-print

ہالینڈ کسی ملک کا نام نہیں


پون چکیوں اور ٹیولپ کے پھولوں کے لیے مشہور یورپی ملک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ آئندہ اسے ہالینڈ کے بجائے دی نیدرلینڈز کے نام سے پکارا جائے۔

پہلے اس ملک کے لیے ہالینڈ اور دی نیدرلینڈز، دونوں نام استعمال کیے جاتے تھے اور غیر ملکیوں کے علاوہ مقامی افراد بھی دونوں ہی نام لیتے تھے۔ لیکن بہت کم لوگ ہالینڈ اور دی نیدرلینڈز میں فرق کے بارے میں جانتے تھے۔

جرمنی اور بیلجئم کے پڑوس میں واقع اس ملک کا نام پہلے بھی دی نیدرلینڈز ہی تھا۔ ہالینڈ اس کے ایک حصے کا نام ہے جس میں دارالحکومت دی ہیگ، سب سے بڑا شہر ایمسٹرڈیم اور یورپ کی سب سے بڑی بندرگاہ روٹرڈیم واقع ہیں۔ یہ حصہ اب دو صوبوں شمالی ہالینڈ اور جنوبی ہالینڈ میں تقسیم ہے۔

ملک کی حکومتیں اور شہری خود بھی دونوں نام استعمال کرتے تھے بلکہ سیاحت کی سرکاری ویب سائٹ کا ایڈرس بھی ہالینڈ ڈاٹ کام تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ دوسرے شہروں میں رہنے والوں کو احساس ہوا کہ ان کا ملک صرف ہالینڈ کے نام سے مشہور ہے اور ان کی شناخت تسلیم نہیں کی جا رہی ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہوا کہ غیر ملکی سیاح ہالینڈ ہی آتے اور دوسرے حصوں کی سیاحت کے بغیر چلے جاتے۔

اب حکومت نے 2 لاکھ یورو سے مہم شروع کی ہے کہ ان کے ملک کو دی نیدرلینڈز کے نام سے پکارا جائے اور ہالینڈ کا نام استعمال نہ کیا جائے۔ تمام وزارتوں، محکموں، سفارت خانوں، کمپنیوں اور یونیورسٹیوں سے بھی کہا گیا ہے کہ نئے سال سے صرف دی نیدرلینڈز نام لکھیں۔ اس سال یورو وژن کی میزبانی اور ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کے موقع پر خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG