رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ اور ڈاکٹر فاؤچی کے درمیان کیا چل رہا ہے؟


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے ساتھ ان کے بہت اچھے تعلقات ہیں، لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ان سے متفق نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر فاؤچی وبائی امراض کے قومی ادارے کے سربراہ اور وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں گزشتہ ہفتے خبریں شائع ہوئی تھیں کہ وائٹ ہاؤس ان کا کردار کشی کی کوشش کررہا ہے۔

صدر کے تجارتی امور کے مشیر پیٹر نیویرو نے 11 جولائی کو واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹر فاؤچی کا عوامی تاثر اچھا ہے لیکن میں نے جب بھی ان سے بات کی تو انھیں ہر معاملے میں غلط پایا۔ نیویرو کے بیان کو ڈاکٹر فاؤچی کے خلاف مہم کا حصہ سمجھا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیلے میک اینانی سے پیر کو اس بارے میں سوال کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کی کردار کشی نہیں کی جارہی۔ واشنگٹن پوسٹ نے ہم سے ایک خاص سوال کیا تھا۔ اور وہ سوال یہ تھا کہ صدر ٹرمپ نے نوٹ کیا ہے کہ ڈاکٹر فاؤچی نے کچھ غلطیاں کی ہیں۔ ہم نے اس براہ راست سوال کا براہ راست جواب دیا تھا۔

اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ اور ڈاکٹر فاؤچی کے درمیان آخری بار بات جون کے پہلے ہفتے میں ہوئی تھی۔ صدر ٹرمپ مسلسل وبا کی سنگینی کو کم قرار دیتے رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر فاؤچی کا موقف اس کے برعکس ہے۔

ڈاکٹر فاؤچی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اموات کی کم شرح سے مطمئن ہونا خود کو جھوٹی تسلی دینے کے مترادف ہوگا۔ اس وائرس سے متعلق بہت سی چیزیں بری اور خطرناک ہیں۔ اپنے آپ کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ ڈاکٹر فاؤچی اور دوسرے ماہرین صحت کی تجویز کردہ کئی حفاظتی تدابیر پر بھی شک کا اظہار کرچکے ہیں۔

کانگریس مین ایمی بیرا فزیشن ہیں۔ انھوں نے اس صورتحال پر کہا کہ صدر ٹرمپ اور نیویرو ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے ان کے پاس میڈیکل لائسنس ہوں، جو ان کے پاس نہیں ہیں۔ اس وقت بادشاہ بے لباس ہے۔ اور یہ وہ وقت ہے جب ہمیں حقیقی قیادت درکار ہے۔ اور ہمیں وہ صدر ٹرمپ میں دکھائی نہیں دے رہی۔

پیر ہی کو صدر ٹرمپ نے اپنے 8 کروڑ 30 لاکھ فالوورز کے لیے ان الزامات کو ری ٹوئیٹ کیا کہ کرونا وائرس کے بارے میں سینٹرز فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن سمیت "ہر شخص جھوٹ بول رہا ہے۔"

یہ ٹوئیٹ ایک ٹی وی گیم شو کے سابق میزبان چک وولری نے کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ سب سے بدتر جھوٹ کرونا وائرس کے بارے میں بولے جارہے ہیں۔ ہر شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ سی ڈی سی، میڈیا، ہمارے ڈاکٹر، سب نہیں لیکن بیشتر، جن کے بارے میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ان پر بھروسہ کریں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ ری ٹوئیٹ کرنے سے صدر کا مقصد اس بات کا اظہار کرنا تھا کہ وہ سی ڈی سی سے خوش نہیں ہیں جہاں بعض گھٹیا افراد قبل از وقت رہنما ہدایات لیک کردیتے ہیں۔ ان کے پاس 63 صفحات کا منصوبہ تھا جو لیک کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں اسکول کھولنے سے متعلق سی ڈی سی کی ہدایات بہت سخت، ناقابل عمل اور مہنگی ہیں۔ پیر کو انھوں نے پھر کہا کہ اسکولوں کو کھلنا چاہیے۔ انھیں بند کرنے سے ہم بہت سے زندگیاں گنوا رہے ہیں۔

لیکن تعلیمی ادارے اور ماہرین تعلیم ان سے متفق نظر نہیں آتے۔ کیلی فورنیا کے دو سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹس لاس اینجلس اور سان ڈیاگو نے پیر کو مشترکہ بیان میں کہا کہ آئندہ ماہ تعلیمی سال شروع ہوگا تو وائرس کی وجہ سے تمام کلاسیں آن لائن ہوں گی۔ کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے بھی ریاست میں کاروبار اور عبادت گاہیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کانگریس مین ایمی بیرا کا تعلق بھی کیلی فورنیا سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ بہتر قیادت فراہم نہیں کریں گے تو ہمیں براہ راست ریاستوں اور گورنرز کے ساتھ کام کرنا پڑے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انھیں بہترین معلومات میسر ہیں۔ ہمیں جنوبی کوریا اور سنگاپور جیسے ملکوں سے معلومات کو حاصل کرنا چاہیے جنھوں نے وائرس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ان کے برعکس وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔

ایمی بیرا نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری خیالی دنیا میں رہتی ہیں اور صدر ٹرمپ اس حقیقت کا سامنا نہیں کررہے کہ ان کی انتظامیہ یہاں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ایک لاکھ 35 ہزار امریکی ہلاک ہوچکے ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ کیسز یہاں ہیں۔ خوش فہمی سے یہ وائرس کہیں نہیں جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG