رسائی کے لنکس

logo-print

‫کرتار پور کمپلیکس کے دوسرے مرحلے میں کیا ہوگا؟‬


کرتار پور راہداری منصوبے کے ‫پراجیکٹ ڈائریکٹر عاطف مجید کے مطابق پہلے مرحلے میں ‬خریدی گئی ‫800 ایکڑ زمین کا تقریباً ساڑھے پانچ سو رقبے کو آباد کیا گیا ہے.

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل ‎‫فیروز والا میں واقع کالا خطائی نارنگ منڈی سڑک پر آج کل خاصی آمد و رفت ہے۔ لاہور، اسلام آباد سمیت پاکستان کے ہر علاقے کی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں یہاں کا رُخ کر رہی ہیں۔ کیونکہ یہی وہ اکلوتی سڑک ہے جو سیدھی کرتار پور صاحب جاتی ہے۔

ستر کلو میٹر لمبی یہ سڑک نارووال سے ہوتی ہوئی جیسے ہی کرتار پور کی حدود سے ملتی ہے تو سب سے پہلے گوردوارہ سری دربار صاحب کا خوش آمدی بورڈ پتہ دیتا ہے کہ منزل اب دور نہیں۔ یہاں جو سب سے پہلا فرق دکھائی دیتا ہے وہ دو الگ الگ بولی اور لکھی جانے والی زبانوں کا میل ہے۔

سڑک کے اطراف پر آوایزاں تمام اشتہاری اور معلوماتی بورڈز پر اُردو اور ہندی میں عبارتیں درج ہیں۔ چار چیک پوسٹس سے گزرنے کے بعد سڑک کے بائیں جانب دودھا گاؤں جیسے ہی ختم ہوتا ہے تو شروع ہوتی ہے کرتار پور ٹینٹ سٹی یعنی خیمہ بستی۔ جو مذہبی تہواروں پر سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر بنائی گئی ہے۔

اس خیمہ بستی میں تقریباً دس ہزار بستروں کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہاں سے چند میٹر کے فاصلے سے گوردوارہ دربار صاحب کی عالی شان عمارت شروع ہوتی ہے۔ جس کا پہلا پڑاؤ درشن دیوڑھی ہے۔ یہاں داخل ہوتے ہی وسیع و عریض احاطے میں کھڑی وہ تاریخی عمارت دکھائی دیتی ہے جو کرتار پور راہداری منصوبے کی بنیاد بنی۔‬

پاکستان فوج کے ترقیاتی کاموں کے ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (‫ایف ڈبلیو او) سے تعلق رکھنے والے منصوبے کے ڈائریکٹر عاطف مجید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 11 ماہ قبل گوردوارہ دربار صاحب چار ایکڑ پر مُحیط تھا، آس پاس زرعی زمین تھی، توسیعی منصوبے اور راہداری کی تعمیر کے لیے بڑے رقبے کی ضرورت تھی جس کے لیے زیرو لائن سے لے کر کرتار پور کمپلیکس کے اختتام تک آٹھ سو ایکڑ زمین کی خریداری کی گئی۔ جس میں سے 104 ایکڑ کو خالصتاً گوردوارے کے لیے مختص کیا گیا۔ جس میں 42 ایکڑ دیوان استھان، لنگر خانے، سرائے، بارہ دری، مہمان خانے کو دیے گئے ہیں۔

باسٹھ ایکڑ پر پھیلے کھیتی صاحب کو اس زمین کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ کھیتی صاحب کے 26 ایکڑ رقبے پر سرسوں اور دوسری موسمی سبزیاں، کینو، امرود اور دوسرے پھلوں کی فصلیں اُگائی جائیں گی جبکہ باقی 36 فی صد پر گندم اور گنا لگایا جائے گا۔

عاطف مجید نے بتایا کہ دُنیا بھر کی سکھ برادری نے حکومت پاکستان سے درخواست کی تھی کہ پانچ صدی قبل بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس کرتار پور کے 104 ایکڑ رقبے پر بسر کیے تھے، اس لئے یہ ہندسے سکھ مذہب کے پیروکاروں کے دل کے قریب ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے نو نومبر کو کرتارپور راہداری منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے نو نومبر کو کرتارپور راہداری منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔

سکھوں کی مذہبی تاریخ کو دیکھتے ہوئے ہی کھیتی صاحب پر وہی فصلیں کاشت کی جائیں گی جو بابا گرونانک اپنے ہاتھوں سے بویا کرتے تھے۔ گوردوارہ دربار صاحب میں 19 برسوں سے گرنتھی کے فرائض نبھاتے سردار گوبند سنگھ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہوگی کہ لنگر خانے میں اسی زمین سے آئے راشن سے لنگر بنے گا اور وہ یاتری خوش نصیب ہوں گے جو یہ کھائیں گے۔ ‬

گوردوارہ دربار صاحب کا پہلا حصہ مکمل ہونے کے بعد اسے نو نومبر کو دُنیا بھر کے سکھ یاتریوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے ہر صبح سات بجے گرداس پور بارڈر کھول دیا جائے گا۔ زیرو لائن سے وہ پیدل یا الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے پانچ سو میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے امیگریشن ٹرمینل پُہنچیں گے۔

بائیو میٹرک کے عمل سے گزرنے کے بعد اُنہیں ایک انٹری کوپن دیا جائے گا۔ یہاں سے نکلنے کے بعد یاتریوں کو راوی پر بنا ایک کلو میٹر پُل عبور کرنے کے لیے شٹل بس سروس مُہیا کی جائے گی۔

بیرون ممالک سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے یہاں چھپن بائے سولہ فُٹ کے دس ہال تعمیر کیے گئے ہیں، بارہ دری میں بنے اس سرائے میں 2000 افراد کے رہنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔

ہر ہال میں دس سے زیادہ بستر، معذور اور بوڑھے افراد کے لیے ایک ایک بیڈ رکھا گیا ہے۔ مہمان خانہ اس کے علاوہ ہے۔ امیگریشن ٹرمینل سے لے کر شٹل بسوں، سرائے اور واش روم تک سب کی رسائی معذور افراد کے لیے آسان بنائی گئی ہے۔ یہاں دو سو پندرہ سیکیورٹی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

جہاں بجلی نہیں تھی، وہاں چراغاں ہو گیا
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:44 0:00

پہلے مرحلے میں ‬خریدی گئی ‫800 ایکڑ زمین کا تقریباً ساڑھے پانچ سو رقبے کو آباد کیا گیا ہے، جس میں راوی پر ایک کلو میٹر پُل کے علاوہ اطراف کی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔

گوردوارے کو سیلابی پانی سے بچانے کے لیے نہ صرف دریا کا رُخ موڑا گیا ہے بلکہ گہری کُھدائی کر کے اسے ساڑھے چار لاکھ کیوسک سیلابی پانی کا مُقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق پچھلے سو برس میں کبھی یہاں اس سے زیادہ سیلابی پانی نہیں آیا۔‬

‫پراجیکٹ ڈائریکٹر عاطف مجید کے مطابق دوسرے مرحلے میں باقی رہ جانے والا ڈھائی سو ایکڑ رقبہ آباد کیا جائے گا۔ بین الاقوامی گرداس پور بارڈر چونکہ بُڈھی راوی میں قائم ہے تو مُستقبل میں کسی بھی مُشکل سے بچنے کے لیے اس پر بھی پُل بنانے کی ضرورت ہے۔ جس کا 68 میٹر حصہ بھارت میں ہے اور 330 میٹر پاکستان کی طرف ہے۔

پاکستان نے فی الحال یہاں سلپ روڈ بنائی ہے، اگلے مرحلے میں جب یہ تعمیر ہوگا تو اسے بھارت کی جانب سے بنائے گئے 68 میٹر لمبے پُل سے جوڑ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی ہوٹل، سیمینار ہالز کی تعمیر شامل ہے۔ جس کے بعد اسے کرتار پور سٹی کا درجہ دیا جائے گا۔‬

اس منصوبے سے جُڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ کرتار پور رقبے کے اعتبار سے دُنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بن گیا ہے۔ ‬پنجہ صاحب چار ایکڑ اور ‫ننکانہ صاحب چودہ ایکڑ پر مُحیط ہے، جبکہ بھارت میں واقع ہرمیندر صاحب جسے گولڈن ٹیمپل کہتے ہیں، تیس ایکڑ پر قائم ہے۔‬

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG