رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی ادارۂ صحت نے امریکہ میں کرونا کی صورتِ حال کو خطرناک قرار دے دیا


فائل فوٹو

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکہ میں کرونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی صحتِ عامہ کی صورتِ حال کو خطرناک قرار دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی رسپانس ڈائریکٹر مائیک ریان نے پیر کو بریفنگ کے دوران امریکہ میں رپورٹ ہونے والے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے کیسز کا ایک تہائی امریکہ میں رپورٹ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی وبا امریکہ میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ ہر گزرتے منٹ میں ایک سے دو اموات ہو رہی ہیں۔

ریان نے کہا کہ یہ صورتِ حال اس ملک کی ہے جہاں صحتِ عامہ کا نظام مضبوط ہے اور جو زبردست قسم کی ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران اسپتالوں میں ریکارڈ مریض داخل ہوئے ہیں جس سے اسپتالوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس کے لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ کیسز اور دو لاکھ 83 ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبراسس نے کہا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی ٹرانزیشن ٹیم سے رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ میں نئی انتظامیہ تشکیل نہیں پاتی اُس وقت تک وہ بائیڈن یا اُن کی ٹیم کی جانب سے کسی بھی قسم کے رابطے کی توقع نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت کے لیے فنڈ بند کرتے ہوئے اسے خیرباد کہہ دیا تھا۔

امریکہ عالمی ادارۂ صحت کو کثیر فنڈ فراہم کرنے والا اہم ملک تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس ادارے پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ کرپٹ ادارہ ہے جو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ذمہ دار چین کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔

امریکہ کے عالمی ادارۂ صحت کو چھوڑنے پر جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کو واپس لینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG