رسائی کے لنکس

کراچی: کیا بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس وصولی سے شہری مسائل حل ہو پائیں گے؟


فائل فوٹو

سندھ کابینہ نے گزشتہ ہفتے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو بجلی کے بلوں کے ذریعے کنزروینسی اور فائر ٹیکسز کی وصولی کے لیے بجلی فراہم کرنے والے ادارے ‘کے الیکٹرک’ کے ساتھ میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر دستخط کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جس کے تحت اب بجلی کے بلوں میں کے ایم سی کا ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

اس تجویز پر شہریوں، وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں اور گورنر سندھ سمیت دیگر حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔

اگرچہ اس بارے میں حتمی طور پر یہ طے ہونا باقی ہے کہ ٹیکس کتنے روپے کا ہوگا تاہم ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تجویز دی ہے کہ تقریباً 30 لاکھ گھرانوں سے 200 روپے فی گھر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

مرتضٰی وہاب کا، جنہیں سال 2020 میں بلدیاتی حکومتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد رواں سال اگست میں ہی کراچی کا نیا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے، کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں میں ٹیکس وصولی کا بنیادی مقصد کے ایم سی کو مالی طور پر مضبوط بنانا ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کے ایم سی ٹیکس سے ماہانہ 60 کروڑ روپے جمع ہوں گے جب کہ سات ارب 20 کروڑ روپے کی سالانہ اضافی آمدنی میسر آئے گی۔ جس سے کے ایم سی شہر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر پائے گی۔

یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں: مرتضیٰ وہاب کا دعویٰ

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ میونسپل ٹیکس پر بلاوجہ سیاست کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں۔ بلکہ یہ 2008 سے سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کے دور میں ناٖفذ کیا گیا تھا اور ہر سال اس کی وصولی کے اہداف مقرر کیے جاتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سال 2020 میں اس کا ہدف ایک ارب روپے مقرر کیا گیا تھا لیکن کے ایم سی عام طور پر محض 22 سے 23 کروڑ روپے ہی حاصل کرپاتی تھی۔ جس میں سے ساڑھے چار کروڑ روپے نجی کمپنی کو ٹیکس وصولی کا کمیشن دیا جاتا تھا۔

ان کے بقول، "ہم نے یہ پیسہ شفافیت کے لیے بینکوں کے ذریعے ڈیجیٹائز طریقے سے اکھٹا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب یہ تجویز انہوں نے دی تو کے الیکٹرک نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا۔"

تاہم کے الیکٹرک حکام کے مطابق اس بارے میں وفاقی حکومت کی مرضی شامل ہونا ضروی ہے۔ کیوں کہ بجلی فراہم کرنے والا یہ ادارہ وفاقی حکومت کے ماتحت ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اس تجویز پر وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاقی وزیرِ خزانہ سے بات کی تو انہوں نے اور چیئرمین نیپرا نے بھی اس تجویز سے مکمل اتفاق کیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی کا کہنا ہے کہ آئندہ چھ ماہ بعد بلدیاتی الیکشنز ہوں گے۔ جس میں چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کا میئر آئے، اسے ادارہ چلانے کے لیے 60 کروڑ روپے ماہانہ آمدن مل رہی ہوگی اور اس کو ادارہ چلانے کے لیے صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب ہاتھ نہیں پھیلانے ہوں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پیسے کو مکمل طور پر شفاف انداز سے خرچ کیا جائے گا اور اس کی نشاندہی ویب سائٹ پر کی جائے گی۔

'سرکاری ادارے بھی کراچی کو اس کا واجب الادا ٹیکس نہیں دیتے'

مرتضیٰ وہاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ بندرگاہ رکھنے والا شہر ہونے کے باوجود کراچی میں وفاقی ادارے ٹیکس نہیں دیتے۔ وفاقی ادارے پہلے کراچی کے انفراسٹرکچر پر خرچ کرتے تھے۔ لیکن گزشتہ سات آٹھ سال سے وفاقی اداروں کی جانب سے شہر کی تعمیر و ترقی پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا جا رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ایکٹ میں درج ہے کہ وہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ٹیکس دینے کا پابند ہے۔ لیکن یہ ٹیکس نہیں دیا جاتا اور 2009 سے 2016 تک کے پی ٹی کے ذمے 65 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ اپنے پاؤں پر کھڑی ہونا چاہتی ہے اور اس کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں جب کہ اس مقصد کے لیے دیگر اداروں کی بھی مدد درکار ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں 21 ہزار 300 ملازمین کو ہر ماہ پینشن اور ساڑھے بارہ ہزار کے قریب حاضر ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ جو کئی ارب روپے بنتی ہے جب کہ ادارے کو چلانے کے لیے دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔

حکام کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی ترقیاتی اسکیموں پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے بمشکل اپنے ہی اخراجات پورا کر پاتی تھی اور انہیں پورا کرنے کے لیے بھی کبھی صوبائی حکومت اور کبھی وفاقی حکومت کی مالی امداد کی منتظر رہتی ہے۔

تاہم حقائق کچھ اور بھی کہتے ہیں۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کی شہر میں موجود 53 مارکیٹوں میں 9 ہزار 192 دکانیں ہیں۔ جو اس ادارے کی جائیداد ہیں۔ لیکن ان سے حاصل ہونے والا سالانہ کرایہ 15 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔ یعنی ایک دکان سے اوسط سالانہ کرایہ 16 ہزار 300 روپے وصول کیا جارہا ہے جو ماہانہ محض 1360 روپے بنتا ہے۔

شہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کیا اس قدر کم کرائے پر بھی کراچی بھر میں کوئی جگہ مل سکتی ہے؟

سرکاری دستاویزات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 11 پیٹرول پمپس شہر کی پرائم لوکیشن پر ہونے کے باجود ان سے محض 70 لاکھ روپے سالانہ کرایہ وصول ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کے ایم سی کے پاس ساحل پر 243 ہٹس ہیں جہاں سے محض 40 لاکھ 16 ہزار وپے سالانہ آمدنی ہوتی ہے یعنی ایک ہٹ سے مہینے کا اوسط کرایہ صرف 1400 روپے وصول کیا جاتا ہے۔

اسی طرح شہر میں 65 مقامات پر چارج پارکنگ سے سالانہ محض تین کروڑ روپے ملتے ہیں۔ جب کہ موجودہ مالی سال کے صرف پہلے تین ماہ میں یہ آمدن چار کروڑ 68 لاکھ روپے تک جاپہنچی ہے۔

کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ پارکنگ فیس کی مد میں وصول ہونے والا پیسہ کچھ مافیاز اپنی جیبوں میں ڈال رہی تھیں جن کا اب صفایا کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح بلدیہ کراچی کے زیر انتظام شہر میں 46 پارکس ہیں جن میں سے 28 پارک مکمل طور پر ڈویلپ ہیں مگر یہاں سے بھی کوئی خاطر خواہ آمدنی نہیں ہو رہی۔

'میونسپل ٹیکس ادا کرنا بطور شہری ہم سب کی ذمہ داری ہے'

کراچی میں دو بار ایڈمنسٹریٹر کراچی مقرر رہنے والے فہیم الزمان اس تجویز سے مکمل طور پر اتفاق کرتے ہیں کہ بطور شہری ہر شخص کو اپنا ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔

ان کے بقول کے ایم سی کا کنزروینسی ٹیکس محض 20 سے 30 فی صد لوگ ہی ادا کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ادارہ مالی بحران سے نکل ہی نہیں پاتا۔ پھر یہی وجہ ہے کہ محلّے سے کچرا نہیں اٹھتا، فائر بریگیڈ زبوں حالی کا شکار ہوتا ہے، میونسپل سروسز ٹھیک طرح سے ڈلیور نہیں ہو پاتیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے فہیم الزمان نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ٹیکس وصولی کوئی آج کی بات نہیں بلکہ اس کی کوشش 25،30 سال سے کی جا رہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ بجلی کا بل ادا نہ کرنے کی صورت میں بجلی کا کنکشن کٹ سکتا ہے، لیکن شہر میں چھ سات لاکھ سے زائد گھرانوں سے زیادہ کوئی پانی، سیوریج اور دیگر میونسپل بل ادا نہیں کرتے۔ ایسے میں اگر یہ سہولتیں بھی گھر کی دہلیز پر پہنچ رہی ہیں یا اس میں بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو ضروری ہے کہ اس کی ادائیگی بھی کی جائے۔

'پہلے شہریوں کو سہولتیں دیں پھر ٹیکس بھی ضرور وصول کریں'

شہری امور کے ماہر اور کراچی اربن لیب میں سینئیر ریسرچر محمد توحید ٹیکس وصولی سے متعلق مختلف رائے رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے کوئی بھی اسٹرکچر سامنے نہیں لایا گیا اور اس حوالے سے کوئی دستاویزات بھی شیئر نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں اس سے قبل ٹی وی لائسنس فیس بھی وصول کی جاتی ہے اور اس کی آج تک کوئی آڈٹ رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ آیا یہ پیسے جو عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں وہ کتنے وصول ہوئے اور کس مد میں خرچ ہوئے۔

ان کے بقول یہی نہیں بلکہ موٹر وہیکل ٹیکس تو وصول کیا جاتا ہے مگر کیا یہ پیسہ سڑکوں کی بہتری پر خرچ ہوتا ہے۔ اسی طرح کروڑوں روپے ٹریفک چالان کی مد میں جمع ہوتے ہیں، کیا اس سے کوئی ٹریفک کے نظام میں ٹھوس بہتری لائی گئی، کیا شہر میں دہائیوں میں کوئی نئی بسیں لائی گئیں، کیا تعلیم، صحت، پبلک ٹرانسپورٹ پانی کی فراہمی سمیت اور دیگر شعبوں میں کوئی بہتری کے اشارے ہیں کہ شہریوں کو مزید ٹیکس دینے کے لیے کہا جارہا ہے؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی کی آمدن 15 ہزار روپے ماہانہ ہے تو وہ کیسے اس بوجھ کو مزید اٹھا سکے گا؟۔

ان کے خیال میں مزید ٹیکس کے نفاذ سے مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل کا انبار کھڑا کیا جا رہا ہے۔

محمد توحید کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات شہریوں کو مزید ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں کرتے اس لیے پہلے حکومت کو اس بارے میں اعتماد پر پورا اترنے کے لیے عملی طور پر کچھ کر کے دکھانا ہو گا جس کے بعد ہی لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکس کی صورت میں دینے سے نہیں گھبرائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG