رسائی کے لنکس

خواتین کا وزیرِ اعظم کو خط، 22 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز ارسال


فائل فوٹو

پاکستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق وزیرِ اعظم عمران خان کو بھیجے گئے ایک خط پر مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے بہت سے قوانین بنا دیے گئے ہیں جن سے خواتین کو انصاف مل سکے۔ لیکن ان پر مکمل طور پر عمل نہیں ہوتا۔

'ویمن فرام پاکستان' نامی پلیٹ فارم سے وزیرِ اعظم عمران خان کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں خواتین سے ناانصافی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ خط میں انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم 'ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان' (ایچ آر سی پی) بھی معاون ہے۔

خواتین کے خط میں حالیہ موٹر وے زیادتی کیس، کراچی میں لڑکی سے مبینہ زیادتی، تربت میں خاتون صحافی کی ہلاکت اور سجاول میں کھانا تیار نہ کرنے پر خاتون کی مبینہ ہلاکت سمیت دیگر واقعات کا ذکر ہے۔

خط میں 22 نکات پر مشتمل 'چارٹر آف ڈیمانڈز' بھی ہے جس میں پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 کو لاگو کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

دیگر مطالبات میں عدالتوں میں خواتین پراسیکیوٹر کو بڑھانا، پولیس کی جنسی جرائم کی تحقیقات کی تربیت، سرکاری سطح پر خواتین کے لیے ہیلپ لائن، عدالتوں میں جنسی جرائم کے جلد فیصلے، اضلاع کی سطح پر خواتین میڈیکو لیگل افسران کی تعیناتی اور ریاستی سطح پر جنسی زیادتی کے شکار افراد کے نفسیاتی اور جسمانی علاج کے لیے انتظامات کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔

اس خط کے حوالے سے ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ معلوم نہیں کہ حکومت اِس معاملے پر کتنا ساتھ دے گی۔ کیوںکہ حکومت جب تک مشکل میں نہ پڑ جائے اُس وقت تک کوئی چیز منظور نہیں ہوتی۔ ان کے بقول ماضی میں بھی یہی ہوتا رہا ہے۔

خط پر دستخط کرنے والی خواتین میں شامل آمنہ مسعود جنجوعہ کہتی ہیں کہ انہیں لکھنے اور اُس پر دستخظ کرنے کی ضرورت اِس لیے محسوس ہوئی کہ آئے دن خواتین پر طرح طرح کے ظلم اور تشدد بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ریاست اُن کے تحفظ میں ناکام ہوتی جا رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ جب بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں تو میڈیا پر شور اور ہنگامہ تو بہت ہوتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد لوگ اُس واقعے کو بھول جاتے ہیں اور متاثرہ خاتون کو انصاف نہیں ملتا۔

ان کے بقول اِس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ خواتین کو تحفظ دیا جائے۔ اُن کی رائے میں خواتین کب تک صبر سے کام لیں۔

آمنہ مسعود جنجوعہ کہتی ہیں کہ کوئی بھی کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ اُن کے مطابق ایسے واقعات کے بعد خواتین اور خاص طور پر کام کرنے والی خواتین اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم لوگ جو مہم چلا رہے ہیں اِس کا مقصد یہی ہے کہ حکومت اقدامات تو کر رہی ہے۔ لیکن اُن اقدامات کو ہنگامی بنیادوں پر کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوانین تو اچھے بنانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اُن پر عمل درآمد کون کرے گا۔ اگر عمل درآمد پولیس کے ہی ہاتھوں ہونا ہے تو پولیس سے ہی تو ڈر محسوس ہو رہا ہے۔ جو بھی واقعات سامنے آئے ہیں اُن میں اکثر پولیس ملوث ہوتی ہے۔

ان کے بقول مقدمات کے اندراج میں بھی ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔

معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی سرگرم رکن حنا جیلانی کہتی ہیں کہ خط کے بارے میں تو اُنہیں علم نہیں ہے۔ لیکن یہ معاملہ بار بار اِس لیے سامنے آتا ہے کیوں کہ قوانین پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا۔

حنا جیلانی کہتی ہیں کہ زیادہ تشویش اِس بات کی ہے کہ پہلے گھروں میں تشدد کا رحجان زیادہ تھا لیکن اب اسٹریٹ کرائمز اور خواتین کے خلاف دیگر جرائم بڑھ رہے ہیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ پہلے جو خط خواتین صحافیوں کی جانب سے لکھا گیا تھا اُس میں یہ کہا گیا تھا کہ خواتین صحافیوں کو پریشان کیا جاتا ہے۔ اُنہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ جس پر ایک لمبی بحث ہوئی اور بہت سے تجزیے بھی کیے گئے۔

ڈاکٹر مہدی حسن سمجھتے ہیں کہ یہ صرف خواتین صحافیوں تک محدود نہیں ہے۔ ان کے بقول معاشرے میں عام طور پر خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

حنا جیلانی کے مطابق ریاستی ادارے کمزور یا پھر بددیانت ہیں۔ فوجداری نظامِ انصاف میں بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں مذہبی گروہوں کی وجہ سے بہت دباؤ میں آتی ہیں اور خواتین کو تحفظ دینے والے قانون پر عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔

لاہور میں ہونے والے 'عورت مارچ' کی ایک متحرک رکن لینیٰ غنی کہتی ہیں کہ یہ خط عورت مارچ کے کسی بھی چیپٹر کی طرف سے نہیں لکھا گیا۔ لیکن بہت سی خواتین اِس پر بات کر رہی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے لینیٰ غنی نے کہا کہ اِس سے پہلے بھی وزیرِ اعظم کو خواتین نے ایک خط لکھا تھا لیکن اُس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں احساس پیدا ہو رہا ہے کہ خواتین کو ہراساں نہ کیا جائے اور اُنہیں اُن کا مقام دیا جائے۔

حنا جیلانی سمجھتی ہیں کہ 1980 سے لے کر اب تک خواتین نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں ہیں اور کچھ جگہوں پر وہ آگے گئی بھی ہیں۔ البتہ خواتین پر تشدد یا جرائم میں کمی نہیں ہو رہی۔

وائس آف امریکہ نے اس خط کے سلسلے میں پاکستان کی وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کشمالہ طارق سے رابطہ کیا۔ تو اِنہوں نے خط سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے اِس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں خواتین کے تحفظ، مساوی حقوق اور ملازمتوں میں برابر مواقع دینے سمیت دیگر قوانین موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG