رسائی کے لنکس

logo-print

گلگت بلتستان: سوست میں آبی ذخائر منجمد، خواتین کے مسائل میں اضافہ


شدید

چین کی سرحد سے ملحقہ پاکستان کے علاقے اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ سرحد سے 87 کلو میٹر دور واقع سوست گاؤں میں درجہ حرارت منفی 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے سے پانی کے ذخائر منجمد ہو چکے ہیں۔

خون منجمد کر دینے والی سردی میں یہاں کی رہائشی صائمہ کمال صبح سویرے پانی بھرنے کے لیے ایک کلو میٹر دور پانی کے چشمے تک کا فاصلہ طے کرتی ہیں۔ تاکہ صاف پانی بھر کر گھر لا سکیں۔ تاہم شدید سرد موسم میں پانی لانا اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔

دونوں ہاتھوں میں بالٹیاں اٹھائے جب وہ چشمے پر پہنچتی ہیں تو انہیں پانی بھرنے کے لیے سب سے پہلے چشمے کی جمی برف کی تہہ توڑنی پڑتی ہے۔ جہاں سوراخ ہونے کے بعد وہ وہاں سے پانی نکالنا شروع کرتی ہیں۔

موسم سرما میں وادی ہنزہ اور اس کے بالائی علاقوں میں پانی کی لائنیں مکمل طور پر منجمد ہو جاتی ہیں جس کے باعث مقامی افراد شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جمعہ کو سوست سے تعلق رکھنے والی صائمہ کمال سمیت کچھ خواتین نے شدید سرد موسم میں پانی کی عدم دستیابی پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ان خواتین نے حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سمیت مقامی سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے اراکین کو بھی مدعو کیا تھا۔

صائمہ کمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے علاقے میں 40 سال قبل پانی کی لائن بچھائی گئی تھی جس میں گرمی کے موسم میں بھی زنگ لگنے کے باعث آلودہ پانی آتا ہے۔

ان کے بقول ہر سال نومبر میں سردی میں اضافے کے بعد پانی وہ لائن مکمل طور پر منجمد ہو جاتی ہے جس کے بعد مقامی خواتین کو ضرورت کا پانی لانے کے لیے کئی کلومیٹر دور پانی کے ذخائر تک جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت اسکیمیں بھی عرصہ دراز سے تاخیر کا شکار ہیں۔ اگر پانی کی فراہمی کی وہ اسکیمیں جلد بحال ہو جائیں تو علاقے کی خواتین کی مشکلات میں کمی آ سکتی ہے۔

احتجاج میں شریک عوامی ورکرز پارٹی کے مقامی رہنما آصف سخی نے بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث علاقے کی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ حکومت سیاحت کے فروغ پر تو زور دے رہی ہے۔ البتہ اس کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔

ذوالقرنین خان گلگت بلتستان کے علاقے گوجال میں بطور اسسٹنٹ کمشنر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالقرنین خان نے بتایا کہ حکومت پہلے سے ہی ان مسائل کے حل پر کام کر رہی ہے۔

اسسٹنٹ کمشر کا کہنا تھا کہ سوست اور ملحقہ علاقوں کو مستقل بنیادوں پر پانی کی فراہمی کے لیے منصوبہ پہلے کرونا وبا، بعد ازاں گلگت بلتستان کے انتخابات کے باعث تاخیر کا شکار ہوا ہے۔

ان کے بقول اب یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ رواں سال مئی میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا جس کے بعد پانی کی فراہمی کے مسائل دوبارہ جنم نہیں لیں گے۔

ذوالقرنین خان نے کہا کہ ہنگامی بنیادوں پر پانی کے ٹینکرز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ عارضی بنیادوں پر علاقے کے افراد کے مسائل حل ہو سکیں۔

دوسری جانب صائمہ کمال کہتی ہیں کہ ان کا علاقہ ‘پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے' کا گیٹ وے ہے اس کے باوجود علاقے کا یہ حال ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ نے پانی کے ٹینکرز مہیا کرنے کے وعدے کیے ہیں۔ البتہ ابھی تک تو کوئی ٹینکر نہیں آیا۔ اگر انتظامیہ وعدے پورے نہیں کرتی تو وہ مقامی خواتین کے ہمراہ دوبارہ احتجاج کریں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG