رسائی کے لنکس

logo-print

یمن پر نئے حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر امریکہ کی امن کی اپیل


یمن میں ہیضے کے علاج کے مرکز پر سعودی قیادت کے طیاروں کی بمباری کے بعد تباہی کا منظر۔ 11 جون 2018

عالمی برادری کے ان خدشات میں اضافے کے ساتھ کہ سعودی عرب یمن کے ساحلی شہر حدیدہ پر فوجی کاروائی کا آغاز کرنے والا ہے، امریکہ نے تمام سٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر اس کا پر امن حل تلاش کریں۔

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ “ میں نے متحدہ عرب امارات کے راہنماوں کے ساتھ بات کی ہے اور ان کے سیکورٹی خدشات کو حل کرنے کے لیے اپنی خواہش کو واضع کیا ہے، اور بتایا ہے کہ یمن میں انسانی امداد اور زندگیاں بچانے کے لیے پہنچائی جانے والی اشیاء کی ترسیل جاری رہنا ضروری ہے۔” متحدہ عرب امارات ایرانی مدد کے حامل حوثی باغیوں کے خلاف جاری لڑائی میں سعودی عرب کا بڑا حلیف ہے۔

حالانکہ اقوامِ متحدہ نے فائر بندی کرانے کی کوشش کی لیکن گزشتہ دو دنوں میں حدیدہ کے اطراف میں جاری لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں وارنگ دی گئی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو منگل تک یہاں سے نکال لیں جس کے بعد متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں دو سال سے شہر پر قابض جنگجوں کے خلاف لڑائی کا آغاز ہونے والا ہے۔

عرب اتحاد کے کہنا ہے کہ باغیوں پر اسلحہ خریدنے کی بین الاقوامی پابندی کے باوجود حدیدہ کی بندرگاہ کو ملک میں اسلحہ سمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے برطانیہ کی درخواست پر پیر کی صبح بند دروازہ ایمرجنسی میٹنگ کی۔ اقوامٕ متحدہ میں انسانی امداد کی شعبے کے سربراہ مارک لوکوک نے کونسل کے ارکان کو تفصیلات بتائیں۔ بعد ازاں انہوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ حدیدہ غربت میں جکڑے ملک میں زندگی کا واحد راستہ ہے، جہاں 90 فیصد خوراک تیل اور ادویات درآمد کی جاتی ہیں، اس کا 70 فیصد حصہ اسی شہر کی بندرگاہ سے درآمد ہوتا ہے۔

“حدیدہ زندگیاں بچانے کے لیے بہت اہم ہے” لو کوک نے کہا۔ “ اگر کسی بھی وقت حدیدہ سے یہ ترسیلات نہیں پہنچتیں تو انسان زندگیوں پر اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ نے یمن کو دنیا کا سخت ترین انسانی بحران قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ بیس لاکھ یمنی باشندوں کو تحفظ اور امداد کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب نے یمنی حکومت کی حمایت میں حوژی باغیوں کے خلاف مارچ 2015 میں حملے شروع کیے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق اس وقت سے اب تک دس ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG