رسائی کے لنکس

logo-print

ذہنی سکون کے لیے صوفی رقص سکھانے والی افغان خاتون


فاطمہ مرزائی کا رقص سکھانے کا اسکول کابل کے مغرب میں واقع ہے

فاطمہ مرزائی نے گزشتہ برس افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خواتین کے لیے ایک ایسا اسکول قائم کیا تھا جہاں رقص کی تربیت دی جاتی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جنگ زدہ ملک میں فاطمہ مرزائی اس اسکول میں آنے والی طالبات کو رقص سکھا کر ذہنی تناؤ میں کمی اور سکون کے لیے مدد کرنے کی خواہاں ہیں۔

اس اسکول میں 20 طالبات 'سما' نامی رقص سیکھنے میں مصروف ہیں۔ اس رقص کی قدیم تاریخ ہے جو کہ 13 ویں صدی کے مشہور شاعر جلال الدین رومی تک جاتی ہے۔ یہ رقص مخصوص انداز میں گول گھوم کر کیا جاتا ہے۔ اس رقص کو صوفی ازم سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں شدت پسند مختلف مزارات کو نشانہ بناتے رہے ہیں جب کہ کئی مزار ایسے بھی تھے جن میں مدفون شخصیات کو صوفی بزرگ مانا جاتا تھا۔

فاطمہ مرزائی کے بقول وہ جب 'سما' کرتی ہیں تو انہیں نہ صرف مزہ آتا ہے بلکہ وہ اس سے سکون بھی محسوس کرتی ہیں۔

کابل کے مغربی علاقے میں قائم اسکول کی کلاس میں کھڑے ہو کر اس 23 سالہ لڑکی کا کہنا تھا کہ اس رقص سے افسردگی ختم ہونے اور مشکلات کم ہونے کا احساس جاگتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کے جس علاقے میں یہ اسکول قائم کیا گیا ہے یہاں عسکریت پسند گزشتہ سالوں میں کئی بار حملے کر چکے ہیں۔

فاطمی مرزائی کہتی ہیں کہ اس صوفی رقص سے نہ صرف میری بلکہ میری شاگردوں کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے۔ کئی نے اس سے خود اعتمادی حاصل کی ہے جب کہ وہ تمام جو ذہنی تناؤ اور پریشانی کا شکار تھیں اب کافی خوش نظر آتی ہیں۔

افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی باتیں سامنے آنے کے ساتھ کئی حلقے پریشان بھی ہیں۔ جن کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکہ 18 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ اور فوجی انخلا کرنے جا رہا ہے تو کیا اس کے بعد دوبارہ سماجی سرگرمیاں، تعلیم کی ترویج اور اسی طرح کے دیگر کام دوبارہ محدود تو نہیں ہو جائیں گے۔

فاطمہ مرزائی کہتی ہیں کہ میرے خدشات میں ملک کا مستقبل ہے جو کہ واضح نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہمارے مخالف ہمیں پاگل کہتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ایسی سرگرمیاں بالکل نہیں ہونی چاہیئں۔ لیکن ہم مولانا رومی کے راستے پر لازمی چلتے رہیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG