افغانستان میں کم از کم 70 صحافی کرونا وائرس میں مبتلا ہیں، آر ایس ایف

فائل فوٹو

صحافیوں کے لیے کام کرنے و الے ایک عالمی ادارے نے بتایا ہے کہ افغانستان میں کم از کم 70 صحافی عالمی وبا کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز، جسے 'آر ایس ایف' بھی کہا جاتا ہے، نے اس خبر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغان حکام نے بتایا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 1900 کے لگ بھگ ہے جب کہ 300 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

آر ایس ایف نے جو معلومات اکھٹی کیں ہیں، ان کے مطابق مارچ کے آخر سے اب تک کم ازکم 70 افغان صحافی کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک اور معاشرے کے صحافیوں کی نسبت افغان صحافیوں پر اس وبا کا حملہ زیادہ شدت سے ہوا ہے۔

فرانس میں قائم صحافیوں کی تنظیم نے کہا ہے کہ تقریباً 50 صحافیوں کا تعلق کابل کے علاقے سے ہے، جنہیں مناسب علاج معالجہ نہیں مل رہا، کیونکہ یا تو ان کے پاس علاج کے لیے رقم نہیں ہے یا پھر انہیں ادویات دستیاب نہیں ہیں۔

کابل کے صحافیوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں میڈیا گروپس کی جانب سے، جن کے لیے وہ کام کرتے ہیں، ضروری حفاظتی سامان مہیا نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی حکومت ان کی مدد کر رہی ہے۔

آر ایس ایف نے ایک افغان صحافی کے حوالے سے بتایا، جس نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی تھی، زیادہ تر میڈیا گروپس کے پاس مناسب وسائل نہیں ہیں اور وہ انہیں تنخواہ تک نہیں دے سکتے۔ جب کہ صحافیوں کی مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے کام نہیں کر پا رہیں، کیونکہ انہیں سرمایہ صحافیوں کی ممبرشپ فیس سے ملتا ہے۔ مگر وہ انہیں فیس نہیں دے رہے۔

صحافی نے بتایا کہ میں پانچ دنوں سے اسپتال جا رہا ہوں، مگر میرا ٹیسٹ نہیں ہو رہا۔ اسپتال والے کہتے ہیں کہ ان کے پاس ٹیسٹ ختم ہو گئے ہیں۔ صحافی نے بتایا کہ میں نہ تو اسپتال میں داخل ہو سکتا ہوں اور نہ ہی اپنے لیے ادویات خرید سکتا ہوں۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میڈیا کارکنوں کو عالمی وبا اور تشدد کی کارروائیوں سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔

افغان حکام کی جانب سے آر ایس ایف کی اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مئی کے دوران افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں 684 فی صد اضافہ ہوا جب کہ ٹیسٹوں کی کمیابی کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ٹیسٹنگ کی سہولت میسر نہیں ہے اور مریضوں کی شناخت نہیں ہو پا رہی۔

بین الاقوامی کمیٹی آئی آر سی نے گزشتے ہفتے انتباہ کیا تھا کہ دنیا کے ان تمام ملکوں میں، جہاں آئی آر سی کام کر رہا ہے، افغانستان میں کرونا ٹیسٹ کی پازیٹو شرح سب سے زیادہ ہے جو 40 فی صد ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس ملک میں ایسے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کی ابھی تک شناخت نہیں کی گئی۔

ایک پرائیویٹ نیوز چینل آریانا نیوز کے ڈرائیور اور سرکاری ٹیلی وژن آر ٹی اے کے رپورٹر اس ہفتے کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہو گئے۔

30 مئی کو ایک صحافی اور ایک میڈیا ٹیکنیشن اس وقت ہلاک اور چار دوسرے افراد زخمی ہو گیے جب ان کو لے جانے والی منی ویگن سڑک پر نصب ایک بم سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔

آر ایس ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن 2015 سے اب تک داعش کے حملوں میں 15 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔یہ واقعات افغانستان کو دنیا بھر میں صحافیوں کے خطرناک ملک کے درجے پر لا کھڑا کرتے ہیں۔