وزن، قد اور رنگ سے متعلق طعنے، 'جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے'

عام لوگ تو رشتہ داروں کی محفل میں 'باڈی شیمنگ' کا نشانہ بنتے ہیں البتہ مشہور شخصیات کو نجی محفلوں سے لے کر سوشل میڈیا کے عوامی فورم پر بھی تنقید اور طعنے سننے پڑتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

عام لوگ تو رشتہ داروں کی محفل میں 'باڈی شیمنگ' کا نشانہ بنتے ہیں البتہ مشہور شخصیات کو نجی محفلوں سے لے کر سوشل میڈیا کے عوامی فورم پر بھی تنقید اور طعنے سننے پڑتے ہیں۔

وزن، رنگ یا قد سے متعلق مذاق اڑانے والے افراد یہ بات نہیں جانتے کہ ان کا کوئی جملہ سامنے والے شخص پر کیا اثر مرتب کرتا ہے۔

جسمانی ساخت پر طعنے اور تنقید سننے کو ملیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے اور ایسے رویوں کا سامنا کرنے والے ہی جانتے ہیں کہ ان پر کیا بیتی ہے۔

اس ہی موضوع پر وائس آف امریکہ کے حالیہ شو 'عین مطابق' میں گفتگو کی گئی ہے۔

ہماری نمائندہ سدرہ ڈار نے مندرجہ ذیل تحریر میں کچھ ایسی ہی خواتین کا احوال بتایا ہے جنہیں اپنے وزن کی وجہ سے لوگوں کی تکلیف دہ باتیں سننی پڑیں۔

آپ ہمارا یہ شو ہر پیر کی شب نو بجے اردو وی او اے کے یوٹیوب چینل اور فیس بک کے صفحے پر براہِ راست دیکھ سکتے ہیں۔

'عین مطابق' کا حالیہ شو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

'ڈاکٹر نے کہا شرم کرو، تم شادی شدہ عورت جیسی نظر آتی ہو'

"مجھے کچھ میڈیکل ٹیسٹس کے لیے شہر کے مشہور اسپتال جانا پڑا، جہاں ایک ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟ جب میں نے نفی میں جواب دیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ شرم کرو اپنا وزن دیکھو تم تو کسی شادی شدہ عورت جیسی نظر آتی ہو۔"

یہ کہنا تھا 24 سالہ علشبہ اظہر کا جو ایم بی اے کی طالبہ ہیں۔

ان کے بقول جب تک میں اسپتال میں موجود رہی ڈاکٹر اپنے اسٹاف کے سامنے میری شکل اور وزن پر کمنٹس دیتی رہیں اور اس وقت میری یہ کیفیت تھی کہ میں جلدی سے اس کمرے سے نکل کر کہیں دور چلی جاؤں، کیوں کہ وہاں مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ہر کوئی مجھ پر ہنس رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اُس دن میں نے سوچا کہ اگر اتنے پڑھے لکھے لوگ اور ڈاکٹرز کا یہ حال ہے تو عام آدمی سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟

علشبہ اظہر بتاتی ہیں کہ وہ پہلے دبلی پتلی تھیں البتہ انہیں آٹھ برس کی عمر سے پیریڈز شروع ہو گئے تھے جس کے بعد ان کا وزن بڑھنا شروع ہوا اور پھر انہیں اسکول، گھر اور باہر مختلف ناموں سے پکارا جانے لگا۔ ان کی جسامت، رنگ، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے حتیٰ کہ ہر چیز کو نوٹس کیا جانے لگا۔

ان کے بقول وہ یہ سب سن کر ذہنی دباؤ میں آ جاتی تھیں اور پھر زیادہ کھانے لگتی تھیں۔ وہ لوگ جو ان کے اپنے تھے وہ بھی ان کی ظاہری شخصیت کو دیکھ کر ان پر ہنستے اور مذاق اڑاتے تھے۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا تھا کہ ان پر کیا گزرتی ہو گی۔

علشبہ اظہر

چھ ماہ کے دوران علشبہ اپنا وزن 94 سے 56 کلو تک کرنے میں کامیاب ہوئیں مگر آج جب ان کا وزن بہت کم ہو چکا ہے تب بھی ان کی 'باڈی شیمنگ' کا سلسلہ جاری ہے۔

پہلے ان کے بڑھے ہوئے وزن پر تنقید کی جاتی تھی البتہ آج وزن کم ہونے پر بھی انہیں مختلف ناموں سے پکارا جا رہا ہے۔ لیکن اب وہ اس کی پرواہ نہیں کرتیں۔

'لوگ اتنے برے کیسے ہو سکتے ہیں'

عام لوگ تو رشتہ داروں کی محفل میں 'باڈی شیمنگ' کا نشانہ بنتے ہیں البتہ مشہور شخصیات کو نجی محفلوں سے لے کر سوشل میڈیا کے عوامی فورم پر بھی تنقید اور طعنے سننے پڑتے ہیں۔

مشہور اینکر اور مارننگ شو کی میزبان مایا خان کی آنکھیں ان دنوں کو یاد کر کے نم ہو گئیں جب بھائی کے انتقال کے بعد ذہنی تناؤ کے سبب ان کا وزن بڑھ گیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ عوام ہی ہیں جو اپنی زندگی میں ان کو عزت اور جگہ دیتے ہیں اور جب وہی انہیں گرا دیتے ہیں تو سب ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے مداح تو ان سے پیار کرتے ہیں اور یہ ساری زندگی ان سے محبت کریں گے لیکن یہ بہت بڑا جھٹکا تھا جب ان کو کام ملنا بند ہو گیا۔

ان کے بقول ڈزائنرز نے یہ کہہ کر کپڑے دینا بند کر دیے تھے کہ وہ 'لارج' اور 'ایکسٹرا لارج' سائز نہیں بناتے۔

مایا کا کہنا تھا کہ ان کو ان کی پسند کے کپڑے ملتے نہیں تھے اور جو الماری میں رکھے ہوتے تھے وہ اب پہن نہیں سکتی تھیں۔ یہ سب ان کے اعتماد کو چُور چُور کر دینے کے لیے کافی تھا۔

مایا خان

مایا کے مطابق انہوں نے اپنے لیے گالیاں اور طعنے سنے، پیغامات پڑھے اور یہ سب دیکھ کر وہ سوچتی تھیں کہ لوگ اتنے برے کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ سب ان سے اتنی نفرت کیسے کر سکتے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ یہ سب دیکھ کر سانس پھولنا، نیند نہ آنا، بے تحاشا کھانا اور پھر یہ دیکھنا کہ سب کام کر رہے ہیں اور ان کو کام نہیں مل رہا، مزید تکلیف دینے لگا۔

احساس کا اظہار یا باڈی شیمنگ؟

باڈی شیمنگ سے متعلق لوگوں کو یہ سمجھانا بے حد مشکل ہے کہ اس سے متاثرہ شخص کس ذہنی کیفیت سے گزرتا ہے۔

عموماً وزن کی طرف توجہ دلانے والے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمدردی یا فکر کا اظہار کر رہے ہیں۔ البتہ مایا کا کہنا تھا کہ لوگ ان سے بہت عجیب انداز میں پوچھتے تھے کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ نے وزن بہت بڑھا لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان طعنوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا۔ شاپنگ پر جانا چھوڑ دیا تا کہ ان کا لوگوں سے سامنا نہ ہو۔

’اوئے موٹی‘

ٹیکسٹائل ڈزائنر حرا مسحور نے باڈی شیمنگ کی طرف توجہ دلانے کے لیے ایک آرٹ پراجیکٹ شروع کیا جس کا نام 'اوئے موٹی' تھا۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ایسے لوگ نا قابلِ قبول ہیں۔ ان کے بقول وہ ایک خوش باش اور باتونی بچی تھیں مگر اپنی جسامت کے بارے میں دوسروں کی باتیں سن سن کر ڈپریشن میں چلی گئیں۔

ان کے مطابق تب ان کے گھر والوں کو احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ وہ حرا کے رویے سے پریشان رہنے لگے اور چاہتے تھے کہ وہ ان کا مسئلہ سمجھ سکیں۔

حرانے کہا کہ وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھیں کہ ان کی اداسی کی وجہ کیا ہے۔

حرا

’’شادی کیسے ہو گی؟ تمہیں کوئی پسند بھی کرے گا؟ اگر اتنا ہی وزن رہا تو آگے شادی کے بعد کے مراحل کو کیسے طے کرو گی؟ تم تو ریجکٹڈ مال ہو! تمہارے ناپ کے کپڑے تو ملتے ہی نہیں ہوں گے؟ کھا کھا کر کہیں پھٹ نہ جانا۔‘‘

یہ وہ جملے تھے جو علشبہ کو خاندان اور دوستوں کی محفلوں میں سننے کو ملتے تھے۔ وہ کبھی ان جملوں کو ہنس کر ٹال دیتیں تو کبھی ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہو جاتی تھیں۔

علشبہ کہتی ہیں کہ ان کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے لیے کبھی بات نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ان لوگوں کو یہ احساس دلا سکتی تھیں کہ چپ ہو جاؤ، ان کو یہ سب برا لگ رہا ہے، وہ بھی انسان ہیں، سرکس کا جوکر نہیں۔

کسی کے ساتھ ہنسنا ہے یا کسی پر ہنسنا ہے؟

چونتیس سالہ زینب چغتائی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ وہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھیں جب انہیں اسکول میں بچوں کے ڈرانے دھمکانے والے رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

اس واقعے نے انہیں اس مسئلے کے خلاف آواز اٹھانے اور دوسروں کو آگاہی دینے کا راستہ دکھایا۔ اور آج وہ 'بُلی پروف' کے نام سے اینٹی بولیئنگ کمپین چلا رہی ہیں جس کے ذریعے وہ خواتین اور بچوں کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کرتی ہیں۔

زینب کے مطابق ہمارے معاشرے میں کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا جگت بازی تصور کیا جاتا ہے۔ تنقید کرنے والے کا خیال ہوتا ہے کہ یہ تو مذاق تھا۔ اب اگر سامنے والے نے اس کا اتنا اثر لے لیا ہے تو یہ اس کا مسئلہ ہے۔

زینب

زینب کے مطابق، انہوں نے کئی سیشن کیے، جس میں انہوں نے بچوں سے بات کی اور ان سے جانا کہ جب ان کے دوست ان کے رنگ، جسم یا کسی بھی اعتبار سے ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور انھیں یہ برا بھی لگتا ہے تو وہ یہ سن کر کیوں ہنستے ہیں، یہ کیوں نہیں ظاہر کرتے کہ انھیں یہ بات بری لگی ہے۔ اس پر ان سے ایک بچے نے کہا کہ میں اتنے سال اس لیے ہنستا رہا کہ کہیں دوستی ختم نہ ہو جائے۔ میں کہیں اکیلا نہ رہ جاؤں۔ لیکن اندر سے مجھے رونا آرہا ہوتا ہے۔

زینب کا کہنا تھا کہ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کسی کے ساتھ ہنسنا ہے یا کسی پر ہنسنا ہے۔ اگر اس فرق کو سمجھ لیا جائے کہ کسی مذاق پر آپ کھل کر ہنس پڑے یا آپ کو زبردستی ہنسنا پڑ رہا ہے تو شاید زندگی کے رویے بدل سکتے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے والے خود بھی ایسے رویے کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ آپ جتنا مرضی دبلے ہو جائیں۔ گورے ہو جائیں۔ آپ کا وزن کم ہو جائے یا زیادہ ہو جائے۔ کسی نہ کسی نے آ کر کچھ تو کہنا ہے۔ یہی جب آپ سنتے سنتے بڑے ہو جاتے ہیں تو آپ بھی وہی کچھ کرنے لگ جاتے ہیں کیوں کہ یہ شروع تو گھر سے ہی ہوتا ہے۔

مایا خان کہتی ہیں کہ یہاں تو وہ خواتین جو شادی شدہ ہیں اور بچہ پیدا کریں ان کا شوہر بھی اپنے بچے کی ماں کی باڈی شیمنگ کرتا ہے۔ یہ سوچے بنا کہ وہ اس کا بچہ پال رہی ہے۔ اس کا جسم اس مرد کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ جب آپ کسی عورت کو یہ کہہ دیں کہ اپنا وزن دیکھو۔ کسی دن پھٹ جاؤ گی۔ فلاں عورت کو دیکھو وہ کتنی دبلی ہے۔ آپ کیسے ایک غیر سے ایسی عورت کا موازنہ کر سکتے ہیں جو آپ کی اپنی ہے۔ یہ طعنہ ایک عورت کی عزت نفس کو تباہ کر دیتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے یہاں ایک عورت کی پہچان موٹی ہے اس کی پہچان تعلیم یافتہ، خود مختار عورت، ماں، بہن، بیٹی، بیوی نہیں ہے۔ کیا اسے ان سب سے پہچانا نہیں جا سکتا؟

کیا باڈی شیمنگ کو روکا جاسکتا ہے؟

زینب کے مطابق جنوبی ایشیائی خاندانوں میں یہ سب اس لیے عام ہے کہ ہم ابھی تک نوآبادیاتی دور سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ ہم پر راج کرنے والے غیر ملکیوں نے ہمیں بتایا کہ ہماری روایات، ثقافت فرسودہ ہیں۔ ہم کمتر ہیں اور اگر ہمیں بہتر ہونا ہے تو ہمیں خود کو مغربی معیارات کے مطابق ڈھالنا ہو گا تاکہ ہم بھی گوروں کی طرح نظر آئیں۔ ان جیسے لگیں۔

Your browser doesn’t support HTML5

امریکہ میں موٹاپا اتنا عام کیوں ہے؟

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں کوئی ایسی خاتون یا مرد جس کا رنگ صاف نہ ہو کمتر دکھائی دیتا ہے کیوں کہ وہ معیارات ابھی تک ہمارے ذہنوں میں پیوست ہیں جن کو ہم استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے جسم میں نقائص تلاش کرتے ہیں۔

زینب کا کہنا تھا کہ جب کسی کی باڈی شیمنگ کی جائے تو اسے بہت اعتماد سے سامنے والے کو کہہ دینا چاہیے کہ انہیں کسی کے جسم پر رائے دینے کا کوئی حق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہتر حل یہی ہے کہ تنقید کرنے والے کو اسی وقت روکا جائے اور یہ سوچنے پر مجبور کیا جائے کہ اس کا عمل دوسرے کے لیے کتنی تکلیف کا باعث بن رہا ہے تاکہ وہ آئندہ کسی کو بھی ایسا کہنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچے۔

ان کا مشورہ ہے کہ وہ بچے جو 'بُلنگ' کا شکار ہوتے ہیں انھیں کسی ایسے شخص کو جس پر انھیں اعتبار ہو، بتانا چاہیے۔ خاموش رہنے سے معاملات حل نہیں ہو سکتے۔

اس حوالے سے مایا کا کہنا تھا کہ ان کو آج بھی فخر ہے کہ وہ اس مشکل وقت سے نکلیں، اگر وہ اسی میں رہتیں تو ان پر یہ الزام درست ہوتا کہ وہ ایسے ہی رہنا چاہتی تھیں اور انہوں نے کوشش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے خود قبول کیا کہ وہ جیسی ہیں بہت اچھی ہیں۔ وزن تو کبھی بھی بڑھ سکتا ہے البتہ لوگوں کو حق نہیں ہے کہ وہ ان کے وزن کو ان کی شناخت بنائیں۔ ان کی پہچان ان کا کام ہے۔