رسائی کے لنکس

logo-print

بورس جانسن کی تحریک ناکام، برطانوی پارلیمان 5 ہفتوں کے لیے معطل


حکمراں جماعت کنزرویٹو پارتی کو پارلیمنٹ میں دوسری مرتبہ ناکامی، اراکین کی بڑی تعداد نے نئے انتخابات کی تحریک بھی مسترد کردی۔ (فائل فوٹو)

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی نئے انتخابات کے لیے تحریک کی ناکامی کے بعد پارلیمان 14 اکتوبر تک کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم 31 اکتوبر کو ہر حال میں یورپی یونین سے علیحدگی کے خواہاں ہیں۔ اس مقصد کے لیے اُنہوں نے حزب اختلاف کو نئے انتخابات کی بھی پیشکش کی جس کے لیے پیر کو اسمبلی میں تحریک پیش کی گئی۔

اراکین کی بڑی تعداد نے نئے انتخابات کی تحریک مسترد کردی اور اس طرح مسسلسل دوسری مرتبہ حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کو پارلیمنٹ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وزیرِ اعظم بورس جانسن یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے قانون سازی کرنے کا اختیار بھی کھو چکے ہیں۔

نئے انتخابات کی تحریک کی ناکامی کے بعد بورس جانسن نے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ میرے ہاتھ باندھ سکتے ہیں لیکن میں یورپی یونین سے علیحدگی میں تاخیر نہیں کروں گا۔'

بورس جانسن کے بقول 'آپ میرے ہاتھ باندھ سکتے ہیں لیکن میں یورپی یونین سے علیحدگی میں تاخیر نہیں کروں گا'۔ (فائل فوٹو)
بورس جانسن کے بقول 'آپ میرے ہاتھ باندھ سکتے ہیں لیکن میں یورپی یونین سے علیحدگی میں تاخیر نہیں کروں گا'۔ (فائل فوٹو)

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت یورپی یونین سے نئے معاہدے کے لیے مذاکرات کرے گی یا پھر کسی معاہدے کے بغیر ہی یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کی جائے گی۔

بورس جانسن کے بقول وہ 17 اکتوبر کو یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور وہاں قومی مفاد میں کسی سمجھوتے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدگی میں مزید تاخیر نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ یورپی یونین کا اجلاس 17 اور 18 اکتوبر کو ہونا ہے جس میں بورس جانسن شرکت کریں گے اور وہ پرامید ہیں کہ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی سے متعلق کوئی نیا معاہدہ کرلیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے رہنما کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اُنہیں برطانیہ کی طرف سے یورنین سے علیحدگی سے متعلق کوئی تجاویز موصول نہیں ہوئی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نئے انتخابات کی حامی ہے۔ (فائل فوٹو)
حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نئے انتخابات کی حامی ہے۔ (فائل فوٹو)

حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کا پارلیمنٹ میں پیر کو اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اُن کی جماعت نئے انتخابات کی حامی ہے لیکن بورس جانسن کے اقدام کی حمایت نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی سے پیدا ہونے والی تباہی کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 کے ریفرنڈم کے بعد سے برطانیہ شدید سیاسی بحران کا شکار ہے اور دو وزرائے اعظم اپنے عہدوں سے استعفیٰ بھی دے چکے ہیں۔

موجودہ وزیراعظم بورس جانسن نے رواں سال جولائی میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ عوام کی خواہشات پر عملدر آمد کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG