رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا فیصلہ، مبصرین کیا کہہ رہے ہیں؟


FILE - In this Sept. 11, 2011 photo, US soldiers sit beneath an American flag just raised to commemorate the tenth anniversary of the 9/11 attacks at Forward Operating Base Bostick in Kunar province, Afghanistan.

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی جانب سے افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے لیے گیارہ ستمبر کی نئی ڈیڈلائن کے اعلان پر امریکہ کے سیاسی ، صحافتی حلقوں اور تھنک ٹینکس کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔

بعض رہنماوں اور تجزیہ کاروں کے نزدیک افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاٗ ایک ناگزیر فیصلہ ہے، تو کچھ کا خیال ہے کہ اس سے افغانستان کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا، جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔

باراک اوباما، سابق صدر امریکہ

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ افغانستان میں آگے چل کر بہت مشکلات اور سخت چیلنجز سامنے آئیں گے اور امریکہ کو ان کے الفاظ میں ہر صورت سفارتی طور پر اور ترقیاتی کوششوں کے ذریعے افغانستان کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہے تاکہ افغان عوام کی مدد کی جا سکے، خاص طور پر ان لوگوں کی جنہوں نے انسانی حقوق کی خاطر غیر معمولی خطرات مول لیے ہیں۔

سابق امریکی صدر کے بقول، یہ بھی درست ہے کہ تقریبا دو دہائیوں تک اپنی فوجوں کو خطرات سے دوچار رکھنے کے بعد یہ تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ ہم نے وہ تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں جو فوجی سطح پر کیے جا سکتے تھے اور وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی فوجوں کو گھر واپس لائیں۔ اوباما کے الفاظ میں، وہ قوم سازی اور دنیا میں امریکہ کے مقام کے تعین میں صدر بائیڈن کی دلیرانہ قیادت کی حمایت کرتے ہیں۔

سینیٹر جین شاہین، ڈیموکریٹ (نیو ہیمپشائر)

"میں صدر بائیڈن کی جانب سے افغانستان سے نکلنے کے لیے ستمبر کی ڈیڈلائن مقرر کرنے کے فیصلے سے بہت مایوس ہوں۔ اگرچہ امریکہ نے یہ فیصلہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشورے کے بعد کیا ہے، لیکن امریکہ نے افغانستان کے اندر استحکام لانے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اور اب وہ ایک محفوظ مستقبل کی قابل بھروسہ یقین دہانی کے بغیر وہاں سے نکل رہا ہے۔

سینیٹر لنزی گراہم، ری پبلکن رہنما (ساوتھ کیرولائنا)

’’ ہم افغانستان سے انخلا سے کیا کچھ کھو رہے ہیں؟ ہم ایک اور نائن الیون برپا ہونے کے خلاف انشورنس پالیسی سے محروم ہو رہے ہیں۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں،

’’ کوئی شاندار نتیجہ نہیں تھا لیکن یہ نتیجہ تو بد ترین ہے کہ ہم اپنی فوجیں نکال لیں اور امید رکھیں کہ حالات بہتر ہو جائیں گے‘‘

سینیٹر گراہم کہتے ہیں کہ جناب صدر بائیڈن، بصد احترام کہوں گا کہ آپ نے جنگ ختم نہیں کی، آپ نے جنگ کو وسیع کر دیا ہے۔

ہم افغانستان گئے اور طالبان کی حکومت گرا دی۔ اس کے بعد ہم نے صورت حال کا مکمل انٹیلی جنس جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ القاعدہ کے خطرے سے امریکی فوجیوں کو افغانستان میں رکھے بغیر بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

رابن رفیل، سابق امریکی سفارتکار

جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کی سابق نائب وزیرخارجہ رابن رفیل نے اردو وی او کے پروگرام ویو تھری سکسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،

’’یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ اور دنیا میں پچھلے بیس برسوں میں بہت کچھ تبدیل ہوا ہے۔ اس وقت کچھ اور ترجیحات ہیں، اور امریکہ کو افغانستان میں القاعدہ سے کہیں زیادہ دوسرے خطرات لاحق ہیں ‘‘

افغانستان میں عدم استحکام کے خدشات کے سوال پر رابن رفیل کا کہنا تھا،

’’ امریکہ افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑ رہا۔ میرے خیال میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہم مذاکرات سے منسلک رہیں گے جس کے بارے میں ہمیں طویل عرصے سے یقین ہے کہ یہ ہی درست راستہ ہے ۔ اور ہم سفارتی اور معاشی طور پر بھی منسلک رہیں گےاور فلاحی امداد اور اس سے متعلق باقی تمام کاموں کو جاری رکھیں گے‘‘

مائیگل کوگل مین، تجزیہ کار (تھنک ٹینک)

مائیکل کوگل مین واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ولسن سنٹر میں ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائیریکٹر ہیں۔

صدر بائیڈن کی جانب سے افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے گیارہ ستمبر تک انخلا کے اعلان پر اپنے ایک ٹویٹ میں مستقبل قریب میں افغانستان کے لیے نئے چیلنجز کا امکان دیکھتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ

’’ صدر بائیڈن کی طرف سے انخلا کا منصوبہ افغانستان کے امن عمل کے لیے نئے چیلنجز پیدا کرتا ہے۔ آئندہ پانچ ماہ افغانستان میں امن کے کسی بھی امکان کے لیے بے حد اہم ہوں گے‘‘

کوگل مین نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے کہ وزیرخارجہ بلنکن کا کابل کا اچانک دورہ ایک دانش مندانہ فیصلہ ہے۔ افغانستان کو یقین دلانا کہ اس کے لیے امریکہ کا سفارتی اور معاشی عزم جاری رہے گا، وقت کی ضرورت ہے۔ اور امریکہ افغانستان کے نازک تعلقات کے بازو میں ایک انجکشن لگانے کی کوشش سے کوئی تکلیف نہیں ہو گی‘‘

سوزینہ جارج، صحافی

سوزینہ جارج افغانستان اور پاکستان کے لیے واشنگٹن پوسٹ کی بیورو چیف ہیں۔ انہوں نے کابل سے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے:

’’آپ جس قدر بھی اچھے لفظوں میں بیان کریں، افغانستان سے انخلا کا اعلان افغان عوام کے لیے قبول کرنا مشکل ہو گا۔ ایک ایسے پالیسی پر مبنی فیصلے کو میٹھے لفظوں میں بیان کرنے کی کوئی صورت نہیں، جو بہت ممکن ہے کہ اس ملک میں عدم استحکام کی صورتحال کو مزید بگاڑ دے، جو چالیس برسوں سے جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔

تلسی گیبرڈ، سیاستدان، سابق امریکی فوجی

تلسی گیبرڈ ریاست ہوائی سے امریکی کانگریس کی رکن رہ چکی ہیں اورانہوں نے امریکی فوج کے لیے بھی خدمات انجام دے رکھی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں صدر بائیڈن کے فیصلے کو سراہا ہے۔

’’ شکریہ جناب صدر کہ آپ نے افغانستان سے نکلنے کا اپنا وعدہ پورا کیا۔ یہ کام انیس سال قبل ہو جانا چاہیے تھا تاکہ ہم ہزاروں زندگیاں اور کھربوں ڈالر بچا سکتے‘‘

کامران بخاری، تجزیہ کار (ٹھنک ٹینک)

ایک امریکی تھنک ٹینک نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجی اینڈ پالیسی سے منسلک تجزیہ کار کامران بخاری نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن کا افغانستان سے انخلا کا فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ لیکن ان کے بقول،یہ تاثر درست نہیں ہے کہ امریکہ افغانستان کو بالکل نظر انداز کر دے گا۔

کامران بخاری کہتے ہیں کہ، آج کے دور میں سپیشل آپریشن فورسز، انٹیلی جنس، فضائی حملوں کی بہت اہمیت ہے۔ ایسے دور میں فوج کو میدان جنگ میں اتارنے یا اتارے رکھنے یعنی ’’ بوٹس آن گراونڈ‘‘ کا زیادہ فائدہ نہیں ہے۔

ان کے بقول، افغانستان کی جنگ ایک لا متناہی جنگ تھی اور اس کو کسی طریقے سے باعزت واپسی پر ختم کرنا تھا۔ صدر بائیڈن کی طرف سے اب ایک تاریخ سامنے آنے کے بعد یہ انتظار ختم ہو گیا ہے۔

ان کے بقول، گیارہ ستمبر کو اس جنگ کو ختم کرنے کی ایک علامتی اہمیت بھی ہے کہ یہ جنگ جس تاریخ سے شروع ہوئی تھی، اسی پر ختم کر دی گئی۔

XS
SM
MD
LG