رسائی کے لنکس

logo-print

ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو شکست، سیریز آسٹریلیا کے نام


آسٹریلیا کے کھلاڑی فتح کا جشن مناتے ہوئے۔

آسٹریلیا نے پاکستان کو ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں اننگز اور 48 رنز سے شکست دے دی ہے۔ مہمان ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 239 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

آسٹریلیا نے پہلی اننگز تین وکٹوں پر 589 رنز بنانے کے بعد ڈکلیئر کی تھی جس کے جواب میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 302 اور دوسری میں 239 رنز بنائے۔ اس طرح میزبان آسٹریلیا نے سیریز میں پاکستان کو وائٹ واش کر دیا ہے۔

اس سے قبل برسبین ٹیسٹ میں بھی آسٹریلیا نے پاکستان کو اننگز اور پانچ رنز سے شکست دی تھی۔

پیر کو ایڈیلیڈ کے اوول گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے میچ کے چوتھے روز پاکستان نے اپنی نامکمل اننگز تین وکٹوں کے نقصان پر 39 رنز سے دوبارہ شروع کیا تو شان مسعود 14 اور اسد شفیق آٹھ رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔

دونوں بلے بازوں نے محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے اسکور آگے بڑھایا لیکن 123 کے مجموعے پر شان مسعود 68 رنز بنا کر ہمت ہار گئے اور وہ نیتھن لیون کی گیند پر مچل اسٹارک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

دوسرے آؤٹ ہونے والے بلے باز اسد شفیق تھے جن کی اننگز 57 رنز پر سمٹ گئی۔ ان کے بعد افتخار احمد نے 27 رنز بنائے لیکن انہیں بھی لیون نے لیبوچنگنے کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

محمد رضوان 45، یاسر شاہ 13، شاہین شاہ آفریدی اور ایک ایک رن ہی اسکور کر سکے جب کہ محمد موسیٰ 4 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ ​

آسٹریلیا کی جانب سے سب سے کامیاب بالر نیتھن لیون رہے جنہوں نے 5 وکٹ لیے جب کہ جوش ہیزل وڈ نے تین اور مچل اسٹارک نے ایک وکٹ حاصل کی۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا نے ایڈیلیڈ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 589 رنز بنا کر اننگز ڈکلیئر کر دی تھی جس کے بعد مہمان ٹیم لیگ اسپنر یاسر شاہ کی سنچری کی بدولت پہلی اننگز میں صرف 302 رنز بنا سکی تھی۔

ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کی بیٹنگ اور بالنگ دونوں ہی شعبوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی، ان کی سلیکشن اور حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی جانب سے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو انتہائی خراب اور مایوس کن قرار دیا جارہا ہے جب کہ میزبان ٹیم کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نے تو اسے اپنے ملک کی سر زمین پر ہونے والا اب تک کا بدترین 'اٹیک' قرار دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی اور موجودہ کمنٹیٹر رمیز راجہ نے ایک ویڈیو انٹرویو میں ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو سپورٹ کر کر کے تھک چکے ہیں۔

رمیز راجہ کے بقول، "برسبین ٹیسٹ میں کھلاڑی فائٹ کرتے نظر آئے تھے اور توقع یہی تھی کہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ جو پاکستان کے لیے مرنے اور مارنے کی حد تک اہم تھا لیکن وہی سب سے مایوس کن ثابت ہوا۔"

اُن کا کہنا تھا کہ ٹیم باؤنسرز سے ڈر کر بھاگ گئی ہے۔ ماسوائے بابر اعظم کے سب نے شارٹ لینتھ گیند کا انتظار کیا اور ٹیکنک کا بیڑا غرق ہوگیا۔ آخری چالیس منٹ میں جہاں پنک بال کے خلاف لڑنا تھا وہاں مڈل آرڈر تتر بتر ہوگیا اور آسٹریلیا کو پلیٹ میں رکھ کر وکٹ دے دیے گئے۔

آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نے پاکستانی بالرز کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی بالنگ اٹیک کو بدترین قرار دیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی سر زمین پر اس قدر برا بالنگ اٹیک انہوں نے ایک طویل مدت کے بعد دیکھا ہے۔

'کرکٹ ڈاٹ کام' سے گفتگو میں رکی پونٹنگ کا کہنا تھا کہ "پاکستانی بالرز کی کارکردگی ناقص رہی ہے۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ بولنگ اٹیک اس قدر بدتر بھی ہوسکتا ہے۔"

پونٹنگ کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ بات جاننے سے قاصر ہیں کہ پاکستان نے 16 سالہ نسیم شاہ کو ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں کیوں نہیں کھلایا؟ نسیم شاہ نے اپنی بالنگ سے پریکٹس میچ اور ڈیبیو ٹیسٹ میں سب کو متاثر کیا تھا۔

رکی پونٹنگ کا کہنا تھا کہ نسیم شاہ کی جگہ محمد موسیٰ کو لینا متاثر کن نہیں کیوں کہ ابھی تو وہ ٹیسٹ میچ بالنگ کے لیے پوری طرح تیار بھی نظر نہیں آتے۔

دوسری جانب سابق ٹیسٹ بالر شعیب اختر نے یاسر شاہ کی جانب سے سنچری بنانے اور شاندار بیٹنگ کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آٹھویں نمبر پر کھیلنے والے یاسر شاہ نے دوسرے کھلاڑیوں کو دکھا دیا ہے کہ 'ایسے ہوتا ہے بھائی۔'

شعیب اختر نے پہلی اننگز میں اچھی بیٹنگ کرنے پر بابر اعظم کی پرفارمنس کی بھی تعریف کی ہے۔

یاد رہے کہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے 113 اور بابر اعظم نے 97 رنز کی اننگز کھیلی تھی جب کہ پانچ بلے باز ڈبل فیگر میں بھی شامل نہیں ہو سکے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG