رسائی کے لنکس

فوج کی تعداد بڑھانے سے باغیوں کا عزم نہیں ڈگمگائے گا: افغان طالبان سربراہ


باغیوں کے روپوش سربراہ نے کہا ہے کہ ’’اگر آپ یہ سمجھتے ہو کہ فوجی موجودگی اور فوجوں کی تعداد بڑھا کر ہمارے عزم کو متزلزل کروگے، تو یہ آپ کی بھول ہے! یہ مسئلے کا حل نہیں کہ کابل کی نااہل انتظامیہ کی درخواست پر آپ اپنا قبضہ جاری رکھو‘‘

افغان طالبان کے سربراہ نے کہا ہے کہ سرکشوں سے لڑنے کے لیے فوجوں میں اضافہ کرکے امریکہ ’’غلطی کرے گا‘‘، جنھوں نے اُس وقت تک لڑنے کا عہد کر رکھا ہے جب تک ملک سے ‘‘ناجائز (بیرونی) قبضہ‘‘ ختم نہیں کرایا جاتا۔

مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے یہ بات ماہ رمضان کے اختتام پر عید الفطر کے سالانہ مذہبی تہوار سے قبل جمعے کے روز ایک پیغام میں کہی ہے۔

باغیوں کے روپوش سربراہ نے کہا ہے کہ ’’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ فوجی موجودگی اور فوجوں کی تعداد بڑھا کر ہمارے عزم کو متزلزل کروگے، تو یہ آپ کی بھول ہے! یہ مسئلے کا حل نہیں کہ کابل کی نااہل انتظامیہ کی درخواست پر آپ اپنا قبضہ جاری رکھو‘‘۔

اُنھوں نے اِس بات کا بھی انتباہ جاری کیا کہ امریکی فوج میں اضافے سے ملک میں عدم استحکام مزید بڑھے گا۔


اُنھوں نے غیر ملکی افواج پر الزام لگایا کہ وہی ’’افغانستان کے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں‘‘۔

طالبان کی خواہش ہے کہ کسی امن بات چیت سے قبل، نیٹو افواج ملک سے چلی جائیں۔

حالیہ دِنوں، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع جِم میٹس کو یہ اختیار دیا تھا کہ افغانستان میں تعیناتی کے لیے امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد 8400 میں کئی ہزار کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، جو بنیادی طور پر افغان افواج کو تربیت اور مشاورت فراہم کرتی ہے، جو میدانِ جنگ میں طالبان کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

امریکی فوج کے ایک اندازے کے مطابق، کابل کی حکومت کو ملک کے صرف 60 فی صد علاقے پر کنٹرول حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG