رسائی کے لنکس

logo-print

آرمی ایکٹ ترمیمی مسودہ، اپوزیشن کی حمایت کے لیے حکومت کی کوششیں تیز


حکومت آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع بل کا مسودہ جمعے کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کی وفاقی حکومت، ملک کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق مسودہ قانون بل جمعے کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق 28 نومبر کے اپنے فیصلے میں حکومت کو نئی قانون سازی کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی تھی۔

ایک طرف حکومت آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ کابینہ سے منظور کرا چکی ہے جسے پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ وہیں حکومت نے سپریم کورٹ کے 28 نومبر کے فیصلے پر حکم امتناع کے لیے عدالت سے رجوع بھی کر لیا ہے۔

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت ایک ہی وقت میں دو متضاد اقدامات کیوں کر رہی ہے؟ اس حوالے سے معروف قانون دان بیرسٹر علی ظفر کہتے ہیں حکومت کنفیوژ نہیں بلکہ اس میں حکمت ہے۔

ان کے بقول، سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا، کہ نئی قانون سازی چھ ماہ کے اندر نہ کی تو تعیناتی کا پراسیس ختم سمجھا جائے گا، جب تک اس فیصلے پر حکم امتناع نہیں آتا اس وقت تک اس فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ اس لیے حکومت اس حوالے سے ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔

تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ حکومت کشمکش کے ساتھ دباؤ کا شکار بھی نظر آ رہی ہے۔ حکومت ہر صورت اس معاملے کو حل کرنا چاہ رہی ہے اور اس کے لیے مختلف اقدامات اٹھا رہی ہے۔

اُن کے بقول، حکومت کو آرمی ایکٹ کی منظوری کے لیے پارلیمان میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے باضابطہ طور پر اس قانون سازی کے لیے مدد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی کسی قسم کی مزاحمت نہیں دکھائی۔ لہذا لگ رہا ہے کہ حکومت باآسانی اس بل کو منظور کرا لے گی۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اکرام چوہدری حکومت کی طرف سے نظرثانی کی کوشش کو ایک لاحاصل کوشش سمجھتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کو تحریری طور پر یقین دہانی کرائی اور بیان حلفی دیا کہ وہ چھ ماہ میں قانون سازی کرلیں گے۔ لیکن اب اس کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی اور حکم امتناع کی درخواست دینا دراصل سپریم کورٹ کو متنازع بنانا اور شرمندہ کرنے کے مترادف ہے۔

حکومت کے اپوزیشن سے رابطے

وزیرِ دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مسودہ قانون پر حمایت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ مشاورت شروع کر دی ہے۔

جمعرات کو وزیر دفاع پرویز خٹک، قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز اور وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی پر مشتمل حکومتی وفد نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں لیگی رہنماؤں خواجہ آصف، ایاز صادق اور رانا تنویر سے ملاقات کی۔

پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک اور حکومتی وفد نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کی۔

وزیرِ دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی ٹیم نے پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی ہے۔
وزیرِ دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی ٹیم نے پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی ہے۔

ان ملاقاتوں کا مقصد آرمی ایکٹ کے ترمیمی مسودے پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے تعاون کا حصول بتایا جاتا ہے۔

حکومت کو امید ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے مشاورت کے بعد جمعے کو پارلیمان سے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ترامیم منظور کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 28 نومبر کو آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ آرمی چیف کی توسیع یا دوبارہ تقرری کے حوالے سے پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کرے۔

وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قانون سازی کے لیے بدھ کو آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ 1952 میں ترامیم کے مسودے کی منظوری دی تھی۔

پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب

حکومت نے حزب اختلاف کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے مسودہ قانون پر اعتماد میں لینے کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بھی بلایا ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت تحریک انصاف نے اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی جمعے کی صبح طلب کر لیا ہے جس کی صدارت وزیرِ اعظم عمران خان کریں گے۔

اجلاس کا مقصد جمعے کو ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں پارٹی ارکان کی حاضری کو یقینی بنانا ہے۔

تحریک انصاف کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

لیگی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیرِ دفاع نے کہا کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حزب اختلاف کی جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بعد دیگر اپوزیشن سے بھی رابطے کر رہے ہیں۔

پرویز خٹک نے امید ظاہر کی کہ مشاورت کا یہ عمل مکمل کرنے کے بعد آرمی ایکٹ میں ترامیم کے مسودے کو منظوری کے لیے جمعے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس قانونی مسودے کو پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور کرانا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹ میں پارلیمانی سربراہ مشاہد اللہ خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانونی بل کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لندن میں مقیم ان کی قیادت نے پارٹی رہنماؤں کو پیغام دیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آرمی چیف کے عہدے کو متنازع نہیں بنانا چاہتی۔

آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ کیا ہے؟

آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ بھی منظر عام پر آیا ہے جس میں حکومت نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ساتھ آرمی ایکٹ 1952 میں ایک نیا باب شامل کیا ہے۔

تحریری مسودے کے مطابق نئے آرمی چیف کی تعیناتی وزیرِ اعظم کی سفارش پر صدر مملکت کریں گے۔ وزیرِ اعظم کی سفارش پر آرمی چیف کو تین سال کی توسیع دی جا سکے گی اور وزیرِ اعظم زیادہ سے زیادہ تین سال اور اس سے کم مدت کی سفارش بھی کر سکتے ہیں۔

نئے ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی اور توسیع کو کسی بھی عدالت میں کسی صورت چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ آرمی چیف پر ایک جنرل کی مقرر کردہ ریٹائرمنٹ کی عمر کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اپنی مدتِ تعیناتی کے دوران ریٹائرمنٹ کی عمر آنے پر بھی آرمی چیف رہیں گے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو آرمی، نیوی یا فضائیہ کے سربراہان میں سے کسی کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی مدت تعیناتی تین سال ہوگی۔

نئے ایکٹ کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے لیے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز وزیرِ اعظم کی سفارش پر صدر طے کریں گے۔ پاکستان آرمی کے سینئر جنرل کو بھی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بنایا جاسکتا ہے۔

ترمیم شدہ ایکٹ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اختیار بھی دے دیا گیا۔ وزیرِ اعظم کی سفارش پر صدر مملکت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو ملازمت میں تین سال تک توسیع دے سکتے ہیں۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی اور توسیع کو بھی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

اس سے قبل حکومتی وفد کے ساتھ ملاقات میں پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پارلیمانی قواعد کو نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومتی وفد کو اس قانونی بل پر ایوان میں بحث کروانے کا مطالبہ کیا۔

سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی جمہوری قانون سازی کو مثبت طریقے سے کرنا چاہتی ہے جب کہ کچھ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنا چاہتی ہیں، پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جتنی اہم قانون سازی ہے، اتنا ہی اہم ہمارے لئے جمہوری عمل کی پاسداری ہے۔

پیپلز پارٹی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے حوالے سے تین مسودے تیار کر رکھے ہیں جنہیں پارلیمانی قانون سازی کمیٹی میں پیش کیا جائے گا اور اتفاق رائے پانے والے مسودے کو جمعے کو منظوری کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع کے مسودے میں فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کی توسیع کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG