رسائی کے لنکس

logo-print

کیا روزے کی حالت میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا جاسکتا ہے؟


فائل فوٹو

دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی ان دنوں کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے جہاں ہفتے سے ماہِ رمضان بھی شروع ہو رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا روزے کی حالت میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا جا سکتا ہے؟

کہیں ٹیسٹ سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا اور کیا کرونا کی علامات کی صورت میں روزہ چھوڑا جا سکتا ہے؟ بہت سے لوگ ان سوالات کے لیے علما اور ماہرین سے رابطہ بھی کر رہے ہیں۔

کراچی میں واقع جامعہ بنوریہ کے چانسلر اور شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ روزے کی حالت میں کرونا وائرس ٹیسٹ کرایا جا سکتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ روزہ بہت سی وجوہات کے سبب ٹوٹ جاتا ہے جن میں کھانا پینا سب سے اہم ہے۔ لیکن چونکہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ میں کسی قسم کی دوا یا کوئی اور ایسی شے جو حلق سے نیچے اتر جائے، استعمال نہیں ہوتی اس لیے کرونا وائرس کے ٹیسٹ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

مفتی نعیم کے مطابق کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
مفتی نعیم کے مطابق کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ بیماری شدید ہونے کی صورت میں تو روزہ ویسے بھی چھوڑا جاسکتا ہے لیکن اگر آپ صحت مند ہیں اور روزہ رکھ سکتے ہیں تو کرونا وائرس کے خوف سے روزہ نہیں چھوڑا جاسکتا۔

مفتی نعیم کے بقول جس طرح انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طرح روزے کی حالت میں کرونا وائرس ٹیسٹ کرانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی فتویٰ کونسل کا بھی یہی کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں کرونا ٹیسٹ کرانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ روزے کی حالت میں کرونا ٹیسٹ کرانے سے گریز نہ کیا جائے۔

فتویٰ کونسل کی جانب سے یہ بات ماہِ رمضان سے متعلق جاری کردہ گائیڈ لائنز میں کہی گئی ہے۔ ان گائیڈ لائنز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جن میں کرونا کی علامات ظاہر ہوں وہ روزہ چھوڑ سکتے ہیں لیکن روزے میں ٹیسٹ کرانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

کرونا وائرس ٹیسٹ کس طرح ہوتا ہے؟

ناک، کان اور حلق کے امراض کے ماہر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ کئی طریقوں سے ہوتا ہے۔ ایک طریقہ 'پی سی آر' ٹیسٹ ہے جس میں ڈاکٹر روئی کا ٹکڑا مریض کی ناک کے پچھلے حصے میں ڈالتا ہے جس سے ناک میں موجود رطوبت روئی میں لپٹ جاتی ہے جس کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عاطف کے مطابق دوسرے طریقے میں مریض کا لعاب حاصل کیا جاتا ہے جو بعد میں جانچ کی غرض سے لیبارٹری بھیج دیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان دونوں طریقوں میں استعمال ہونے والے روئی کے پھائے میں کسی قسم کی کوئی دوا لگی نہیں ہوتی جس سے مریض کا روزہ ٹوٹے۔ اس لیے روزے کی حالت میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے میں کوئی قباحت نہیں۔

ڈاکٹر عاطف کے مطابق کرونا وائرس کی علامات میں شدت آجائے تو ٹیسٹ فوری کرا لینا بہتر ہے۔ (فائل فوٹو)
ڈاکٹر عاطف کے مطابق کرونا وائرس کی علامات میں شدت آجائے تو ٹیسٹ فوری کرا لینا بہتر ہے۔ (فائل فوٹو)

ڈاکٹر عاطف کے مطابق کرونا کی تشخیص کے لیے اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے جس میں مریض کا بلڈ ٹیسٹ ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں کرونا وائرس کا اینٹی باڈی ٹیسٹ فی الحال رائج نہیں۔ البتہ ان کے بقول ملک میں جس طرح کی صورتِ حال ہے اس میں شاید جلد ہی اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی ہوںے لگیں۔

ڈاکٹر عاطف یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ کرونا وائرس ٹیسٹ فوری طور پر کرانا ضروری نہیں، اس لیے اگر کسی مریض کو کوئی شکایت بھی ہو تو وہ روزہ افطار کرنے کا انتظار کر سکتا ہے۔

اُن کے بقول کرونا وائرس کی علامات میں شدت آجائے تو ٹیسٹ فوری کرالینا بہتر ہے اور اس کے لیے افطار تک انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG