رسائی کے لنکس

logo-print

'کلین کراچی' مہم مکمل؛ کیا شہر صاف ہوگیا؟


کراچی کی ایک شاہراہ پر کچرے کے ڈھیر کے باعث شہریوں کو گزرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی خصوصی ہدایت پر شہر کراچی میں ایک ماہ کی خصوصی صفائی مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ لیکن شہری ناخوش ہیں۔

'کلین مائی کراچی' مہم کے دوران شہر کے تمام چھ اضلاع اور ضلعی کونسل میں کچرا ٹھکانے لگایا گیا اور صفائی کی گئی۔

یہ مہم ایک ماہ قبل صوبائی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے شہر میں گندگی اور کچرے کے ڈھیروں سے متعلق ملکی اور غیر ملکی میڈیا پر چلنے والی درجنوں رپورٹس، سوشل میڈیا پر حکومت پر سخت تنقید اور اپوزیشن کے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر شروع کی تھی۔

صوبائی حکومت کے دعوے:

صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے دعوے کے مطابق، ایک ماہ کی صفائی مہم کے دوران چار لاکھ 64 ہزار 390 ٹن کچرا لینڈ فل سائٹ منتقل کیا گیا۔

اُن کے بقول، ضلع کورنگی سے 73 ہزار 463 ٹن، ملیر سے 36 ہزار 993 ٹن، ضلع وسطی سے 91 ہزار 511 ٹن، ضلع جنوبی سے 45 ہزار 38 ٹن، ضلع غربی سے ایک لاکھ 7 ہزار ٹن اور ضلع شرقی سے 87 ہزار 662 ٹن کچرا اٹھایا گیا۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ جس تاریخ کو کتنا کچرا اٹھایا گیا اور کتنا کچرا لینڈ فل سائٹ پر پہنچا۔ اس سے متعلق ان کے پاس تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

کراچی کا علاقہ کورنگی جہاں اب بھی مختلف مقامات پر کچرے کے ڈھیر موجود ہیں۔
کراچی کا علاقہ کورنگی جہاں اب بھی مختلف مقامات پر کچرے کے ڈھیر موجود ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی بتایا کہ شرافی گوٹھ گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن تک چار لاکھ 55 ہزار ٹن کچرا منتقل کیا گیا جو کہ لینڈ فل سائٹ منتقل کیے جانے والے کچرے کے علاوہ ہے اور اب اس اسٹیشن سے یہ کچرا بھی لینڈ فل سائٹ تک منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح شہر سے کل 9 لاکھ 20 ہزار ٹن کے قریب کچرا اٹھایا گیا ہے۔

انہوں مزید بتایا کہ دیگر جی ٹی ایس سے کچرے کو منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے، جبکہ اس سلسلے کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

صفائی مہم مکمل ناکام رہی، اپوزیشن کا دعویٰ

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی کی حکومت کی صفائی مہم مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے الزام عائد کیا ہے کہ اس مہم کے تحت شہر تو صاف نہیں ہوا مگر ان فنڈز کا ضرور صفایا کیا گیا جو 'کلین کراچی' مہم میں جاری کیے گئے۔

اُن کا کہنا ہے کہ شہر میں کچرے کے ڈھیر جوں کے توں ہی ہیں اور گٹر ابل رہے ہیں۔ حکومت نے یہ صفائی مہم اپنی میڈیا کیمپین کے طور پر استعمال کی۔

حلیم عادل شیخ کے مطابق، اپوزیشن اپنی مہم کا آغاز کر رہی ہے جس میں صوبائی حکومت کی اس ناکام مہم کو بے نقاب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا "ہمیں بتائیں کہ کلین کراچی کہاں ہے؟ یہ مہم ایک گورکھ دھندا تھی جس سے وزراء، کمشنرز اور انتظامیہ کے دیگر لوگ خوب مستفید ہوئے ہیں۔

میئر کراچی کیا کہتے ہیں؟

اگرچہ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس صفائی مہم میں میئر کراچی وسیم اختر اور تمام اضلاع کی ضلعی میونسپل کارپوریشنز کا بھی مکمل تعاون حاصل رہا۔ لیکن میئر وسیم اختر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل جوں کے توں ہی ہیں۔

پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے سامنے شہر کے تمام مسائل رکھے ہیں۔ تاہم، اجلاس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا کہ کراچی کو فوری طور پر وسائل ملنے والے ہیں جس سے یہاں صفائی ستھرائی، پینے کا پانی اور دیگر مسائل فوری حل ہونا شروع ہوں۔

ملیر کا رہائشی علاقہ جہاں کچرے کا بڑا ڈھیر نمایاں ہے۔
ملیر کا رہائشی علاقہ جہاں کچرے کا بڑا ڈھیر نمایاں ہے۔

میئر کراچی نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے تمام تر اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، صوبائی حکومت یہ اختیارات بلدیاتی اداروں اور ضلعی حکومتوں کو فراہم کرے تاکہ مسائل حل ہوں۔

انہوں نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ یہ مسائل مہمات سے حل ہوں گے بلکہ میئر کراچی کے مطابق کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے نظام کو مضبوط اور وضع کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ جوں کا توں ہے

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 14 سے 16 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے۔ اگر صوبائی حکومت کے اعداد و شمار کا ہی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کراچی میں اس وقت بھی کئی لاکھ ٹن کچرا نہیں اٹھایا جاسکا۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر اے ڈی سجنانی کے مطابق 'کلین مائی کراچی' مہم شروع ہونے سے قبل شہر میں 16 لاکھ ٹن کچرے کا بیک لاگ موجود تھا۔ اور اگر حکومتی اعداد و شمار پر ہی بھروسہ کرلیا جائے تو بھی 6 لاکھ ٹن سے زائد کچرا نہیں اٹھایا جا سکا۔

سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی اور شہری امور کے ماہر سمجھے جانے والے فہیم الزمان بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ کراچی کے مسائل کا حل مہم یا وقتی اقدامات میں نہیں ہے بلکہ اس کے لیے کراچی کے بلدیاتی اداروں کو وسائل فراہم کرنا اور انہیں مضبوط کرنا ضروری ہے جس سے صوبائی حکومت انکاری رہی ہے۔

ان کے بقول، وفاقی حکومت کو بھی ملک کے سب سے بڑے شہر کے دھائیوں سے حل طلب مسائل جن میں صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی، ٹرانسپورٹ کے منصوبے مکمل کرنے اور اس طرح کے دیگر مسائل حل کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

صوبائی حکومت کی ایک ماہ کی صفائی مہم کے دوران بڑے پیمانے پر کچرا ان علاقوں سے بھی اٹھایا گیا جہاں عام طور پر صفائی ہوتی ہی نہیں تھی۔ خاص طور پر اس مہم میں ضلع جنوبی، شرقی، وسطی اور غربی کے علاقوں میں صفائی کی مہم کافی حد تک کامیاب رہی۔ لیکن ضلع کورنگی، ملیر اور ضلع کونسل میں یہ مہم زیادہ کامیاب نظر نہیں آتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG