رسائی کے لنکس

پاکستانی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالا دینے اور معیشت کی بحالی کے لئے اقتصادی ماہرین نے ایک بار پھر ٹیکس اصلاحات اور تجارتی خسارہ کم کرنے کے لئے قومی ایکشن پلان کے تحت ہنگامی بنیادوں پر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کے باعث کرنسی مارکیٹ میں سراسیمگی پیدا ہوگئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اسٹیٹ بینک ایک بار پھر مداخلت کرکے صورتحال کو سنبھالا دینے کی کوشش کرے گا۔

پاکستان میں ان افواہوں کے بعد کہ آئی ایم ایف کی ہدایت پر روپے کی قدر میں پانچ فیصد کمی کی جائے گی، کرنسی مارکیٹ میں ایک مایوسی پھیل گئی ہے اور حیرت انگیز طور پر بعض مواقع پر ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں انٹر بینک کی سطح پر زیادہ ہوگئی تھی۔

ایکسچنج کمپنیز ایسوسی ایشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل، ظفر سلطان پراچہ کہتے ہیں کہ عام طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ روپے کی قدر میں 20 فیصد تک کمی کی جائے گی؛ اور اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچے گا؛ جب کہ اس سے مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہوگا، جس کی وجہ پیدا ہونے والے حالات سنبھالے نہیں جا سکیں گے۔

بقول ظفر پرچہ، اسٹیٹ بنک کہہ چکا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے مطابق پانچ سے دس فیصد روپے کی قدر کم کرنی ہے۔ لیکن، یہ کمی دراصل 20 فیصد تک متوقع ہے۔ اس غیر یقنی صورتحال کے باوجود، مارکیٹ میں ڈالر موجود ہے اور اس کی طلب میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ مارکیٹ مستحکم ہے، لیکن بتایا جاتا ہے کہ انٹر بینک قیمت میں اضافہ کے باعث مارکیٹ میں سراسیمگی ہے۔

معروف اقتصادی ماہرین ڈاکٹر شاہد حسن کے کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کی وجہ پاکستان کا مسلسل بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے۔ ملک کے طاقتور حلقے نہ ٹیکس اصلاحات کے لئے تیار ہیں اور نہی کرپشن ختم کرنے کے لئے، جس کی وجہ سی ملکی تجارتی خسارہ گزشتہ سولہ مہینے میں بڑھ کر 42 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ اس دوران زرمبادلہ کے ذاخائر میں 6.2 ارب ڈالر کمی ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر شاہد حسن کے بقول، ملکی تجارتی خسارہ 2015 سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17.3 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ اسیٹ بینک کو چاہئے تھا کہ اکتوبر 2016 میں ہی روپے کی قدر کم کردیتے۔ لیکن، حکومت نے مداخلت کرکے بینک کو ایسا کرنے سے باز رکھا، بلکہ پانچ جولائی 2017 کو جب روپے کی قدر کم کی گئی تو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسے سٹہ قرار دے کر اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو واپس لینے پر مجبور کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’حکومت کے پاس دو ہی راستے رہ گئے ہیں۔ اول یہ کہ روپے کی قدر کم کرے یا پھر اسٹیٹ بنک کی مانٹری پالیسی پر نظرثانی کرے۔ حکومت ٹیکس کے نظام میں بہتری لائے اور بجلی اور گیس کے نرخ میں کمی کرے‘‘۔​

ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ ’’نیشنل ایکشن پلان میں اقتصادی بحالی کو بھی شامل کیا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر تجارتی خسارہ ختم کرنے اور ٹیکس نظام کی اصلاح کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ ورنہ اسٹیٹ بینک کے عارضی اقدامات سے معیشت کو سنبھالا نہیں دیا جاسکتا‘‘۔

قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل کہتے ہیں کہ ’’ڈالر کی قیمت میں اضافہ ملکی صنعتوں کے مطالبے پر کیا گیا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی سے ملکی صنعت کو فروغ ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، جبکہ درآمدات مہنگی ہونے کی وجہ سے اس میں کمی آئے گی‘‘۔

بقول رانا افضل، ’’پاکستان کی معیشت توسیع کے مراحل میں ہے۔ سی پیک کے باعث درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، نئی مشنری آ رہی ہے۔ ان طویل مدتی سرمایہ کاری سے آنے والے وقتوں میں ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا‘‘۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف طویل عرصے سے پاکستان پر ٹیکس اصلاحات کے لئے زور ڈالتا رہا ہے۔ لیکن صوبائی ہو یا وفاقی کوئی حکومت اس جانب توجہ دینے کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔ اور اگر عارضی طور پر روپے کی قدر کو سنبھالا دینے کے کوشش کی بھی گئی تو یہ مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG