رسائی کے لنکس

نئی دہلی: گزشتہ برس شہر میں فسادات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے گئے تھے، ہائی کورٹ


فائل فوٹو

بھارت کی دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ 2020 کے اوائل میں دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے فسادات منظم منصوبہ بندی اور سازش کے تحت کرائے گئے تھے۔

بھارتی نشریاتی ادارے 'این ڈی ٹی وی' کے مطابق پیر کو فسادات میں ملوث ایک ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ فسادات کسی واقعے کی بنیاد پر نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے گئے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ویڈیوز میں مظاہرین کے طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ وہ نقصِ امن میں خلل ڈالنے اور حکومتی مشینری کو مفلوج کرنے پر تلے ہوئے تھے۔

دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سبرامنیم پرساد نے ریمارکس دیے کہ مظاہرین نے منظم منصوبہ بندی کے تحت پہلے سی سی ٹی وی کیمروں کو تباہ کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان فسادات کی پہلے سے ہی پلاننگ کی گئی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ بلوائی ڈنڈوں اور چھڑیوں سے لیس تھے اور اُن پر قابو پانے کے لیے پولیس اہل کاروں کی تعداد بہت کم تھی۔

دہلی میں گزشتہ برس ہونے والے فسادات میں املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
دہلی میں گزشتہ برس ہونے والے فسادات میں املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

خیال رہے کہ متنازع شہریت ترمیمی بل (سی اے اے) مخالف مظاہروں کے دوران گزشتہ برس کے اوائل میں شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اس سلسلے میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقامی رہنماؤں پر بھی الزامات عائد کیے گئے تھے۔ 23 فروری سے 29 فروری تک تشدد برپا رہا تھا جس میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک شدگان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی ان فسادات میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق مسلمانوں کا بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ متعدد مساجد، درگاہوں و مزارات کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے سیکڑوں ایف آئی آر درج کیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کیے تھے۔

پیر کی سماعت میں کیا ہوا؟

پیر کو مذکورہ فسادات کے دوران پولیس اہل کاروں پر حملہ کرنے کے الزام میں محمد ابراہیم نامی ملزم کی درخواست ضمانت مسترد جب کہ ایک اور ملزم محمد سلیم خان کی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی۔

جسٹس سبرامنیم پرساد نے ریمارکس دیے کہ سی سی ٹی وی کیمرے میں واضح ہے کہ ابراہیم تلوار اُٹھائے دھمکیاں دے رہا تھا۔

ابراہیم پر یہ الزام تھا کہ اُس نے مشتعل ہجوم کے ہمراہ ایک پولیس کانسٹیبل رتن لال کو قتل کیا جب کہ ابراہیم کے وکلا کا مؤقف ہے کہ رتن لال ابراہیم کی تلوار سے ہلاک نہیں ہوا تھا۔

ابراہیم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے تلوار صرف اپنے اور اہلِ خانہ کے تحفظ کے لیے اُٹھائی تھی۔

البتہ عدالت نے ابراہیم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس نے ایک مہلک ہتھیار اُٹھا رکھا تھا جس سے کسی بھی شخص کو شدید زخمی حتیٰ کے قتل بھی کیا جا سکتا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG