رسائی کے لنکس

logo-print

اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے: پاکستانی فوج


فائل فوٹو

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ خطے میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے لیکن خطے کا امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

پاکستان کے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کے بقول ہم خطے میں امن چاہتے ہیں مگر ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بہت سی افواہیں گردش میں ہیں۔ جانے مانے لوگ بھی بات کر رہے ہیں۔ تاہم خطے کی صورت حال میں بہتری کے لیے آرمی چیف کا اہم کردار ہے۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور — فائل فوٹو
پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور — فائل فوٹو

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکہ کے فضائی حملے میں مارے جانے والے ایران کے اہم ترین فوجی افسر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جنرل کے واقعے کے بعد پاکستان کا دفتر خارجہ بیان جاری کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس صورت حال سے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ ہے۔ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور فریقین اپنے باہمی معاملات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سفارتی طریقے سے حل کریں۔

میجر جنرل آصف غفور نے عوام اور ذرائع ابلاغ سے درخواست کی کہ مصدقہ ذرائع کی بات پر توجہ دی جائے۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے خواہاں ہیں لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے جب کہ خطے کا امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان رابطہ کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ایرانی جنرل پر حملے کے بعد خطے کےحالات میں تبدیلی آئی۔ اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات ہوئی۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعے کے روز ٹیلی فون پر افغان صدر اشرف غنی اور پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کی تھی اور عراق میں امریکی حملے میں ایرانی جنرل کی ہلاکت کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔

مائیک پومپیو کی ٹیلی فون کال کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف نے کہا کہ خطے میں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونی چاہے۔ خطہ خراب حالات سے بہتری کی طرف جا رہا ہے۔ یہ خطہ گزشتہ چار دہائیوں سے سیکیورٹی کے حوالے سے مشکلات کا شکار رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان مصالحتی عمل میں کردار ادا کیا۔ پاک افغان سرحد کو محفوظ بنایا۔ خطے میں دہشت گردوں کو شکست دی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے جارحیت دکھائی تو پاکستان نے دو طیارے گرائے اور بھارت کے خلاف پاکستان نے قابل فوج ہونے کا ثبوت دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امن کے لیے بھر پور کردار ادا کریں گے۔ افواج پاکستان ملک کا دفاع کرنا جانتی ہیں اور بھارت اس سے بخوبی آگاہ ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کی طرف سے پاسداران قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے 52 اہم مقامات نشانہ پر ہونے کا جوابی اعلان کیا اور کسی حملہ کی صورت میں سخت ردعمل دینے کا کہا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف بیان سامنے آرہے ہیں جن میں امریکی وزیر خارجہ کے پاکستان کی کسی سیاسی حکمران شخصیت سے رابطہ کے بجائے آرمی چیف جنرل باجوہ کے ساتھ رابطہ پر تنقید کی جا رہی ہے۔

اس بارے میں وزیراعظم عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر بعض صارفین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG