رسائی کے لنکس

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک انتقال کرگئے


فائل فوٹو
فائل فوٹو

مصر پر 30 برس تک حکمرانی کرنے والے سابق صدر حسنی مبارک انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 91 برس تھی۔

حسنی مبارک کے انتقال کا اعلان ان کے بیٹے اعلیٰ مبارک نے منگل کی صبح اپنی ایک ٹوئٹ میں کیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق حسنی مبارک کی حال ہی میں سرجری ہوئی تھی جس کے بعد سے وہ قاہرہ کے ایک اسپتال میں تشویش ناک حالت میں زیرِ علاج تھے۔

حسنی مبارک نے 1981 میں مصر کی صدارت سنبھالی تھی اور وہ 2011 تک آبادی کے اعتبار سے عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک کے بلا شرکتِ غیرے حکمران رہے تھے۔

مبارک ایک سابق ایئر فورس پائلٹ تھے جنہوں نے 1972 میں مصری ایئر فورس کی کمان سنبھالی تھی۔

ان کی قیادت میں مصری ایئر فورس نے 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے آغاز پر اسرائیل کے خلاف بعض کامیاب کارروائیاں کی تھیں جس پر انہیں جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی تھی۔

مصر کے صدر انور السادات نے 1975 میں حسنی مبارک کو اپنا نائب صدر مقرر کیا تھا۔ اس عہدے پر وہ چھ سال تک فائز رہے۔ بعد ازاں 1981 میں انور السادات کے قتل کے ایک ہفتے بعد حسنی مبارک نے مصر کی صدارت سنبھال لی تھی۔

حسنی مبارک تین دہائی تک مصر کے مطلق العنان صدر رہے جنہوں نے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سختی سے دبائے رکھا تھا۔

عرب اسپرنگ کے زیرِ اثر 2011 میں چلنے والی 18 روزہ کامیاب عوامی تحریک کے نتیجے میں بالآخر حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔ تاہم اقتدار سے علیحدگی کے باوجود مبارک اور ان کا خاندان مصر میں ہی مقیم رہا۔

اقتدار کے خاتمے کے دو ماہ بعد حکام نے سابق صدر کو گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد کا بیشتر عرصہ انہوں نے جیل اور فوجی اسپتالوں میں زیرِ علاج رہتے ہوئے گزارا۔

حسنی مبارک کو مصر کی ایک عدالت نے 2011 کی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے 239 مظاہرین کے قتل کی سازش کا الزام ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

لیکن بعد ازاں ایک اعلیٰ عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیا تھا جس پر مصر کے کئی حلقوں نے کڑی تنقید کی تھی۔

تاہم سابق صدر اور ان کے دو بیٹوں پر 2015 میں سرکاری فنڈز میں خرد برد کرنے اور اس رقم کو اپنی ذاتی املاک کی مرمت پر خرچ کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا جس پر ایک عدالت نے تینوں کو تین، تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سابق صدر کے خلاف بدعنوانی کے کئی اور الزامات کی بھی تحقیقات اور مقدمات جاری تھے۔

سابق صدر کے اہلِ خانہ نے تاحال ان کی تدفین کی جگہ اور وقت کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن مصری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سابق صدر کی تدفین پورے فوجی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG