رسائی کے لنکس

logo-print

9/11 برسی، امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم


گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں وائٹ ہاؤس کی ایک تقریب میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

امریکہ میں بدھ کو گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی 18ویں برسی منائی گئی۔ اس موقع پر مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا اور مرنے والوں کی یادگارہوں پر پھول بھی رکھے گئے۔

دہشت گردی کے ان حملوں میں نیویارک، ورجینیا اور پنسلوانیا میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خاتون اول میلائنا ٹرمپ کے ہمراہ وائٹ ہاؤس کے مشرقی لان میں دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

یہ تقریب اس وقت کی مناسبت سے منعقد کی گئی جب نیویارک شہر میں قائم ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے دہشت گردوں نے پہلا مسافر طیارہ ٹکرایا تھا۔

نائن الیون کی یاد منانے کے لیے ایک ایسی ہی تقریب نیویارک کے 'گراؤنڈ زیرو' پر ہوئی جس میں ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے رشتے داروں اور زندہ بچ جانے والوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

نائن الیوں کے دہشت گرد حملوں کی برسی کے موقع پر نیویارک کے گراؤنڈ زیرو میں خصوصی تقریب
نائن الیوں کے دہشت گرد حملوں کی برسی کے موقع پر نیویارک کے گراؤنڈ زیرو میں خصوصی تقریب

گراؤنڈ زیرو وہ مقام ہے جہاں 11 ستمبر 2001 تک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دو بلند و بالا ٹاور تھے۔ ان ٹاورز میں ایک سو سے زیادہ منزلیں تھیں اور وہاں مختلف کاروباری اداروں کے دفاتر تھے جن میں ہزاروں لوگ کام کرتے تھے۔

یاد رہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں نے مسافروں کے روپ میں چار مسافر برادر طیارے ہائی جیک کیے اور ان میں سے پہلے طیارے کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی اور دوسرے طیارے کو جنوبی ٹاور سے ٹکرا کر تباہ کر دیا تھا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز میں مسافر بردار طیارے ٹکرانے کے بعد دھواں اٹھنے کا منظر۔ (فائل فوٹو)
ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز میں مسافر بردار طیارے ٹکرانے کے بعد دھواں اٹھنے کا منظر۔ (فائل فوٹو)

طیارے ٹکرانے سے ان میں آگ بھڑک اٹھی اور طیاروں میں سوار تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔ اس آگ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ زمین بوس ہو گئے۔ ان ٹاورز کے تباہ ہونے سے 2595 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نائن الیون کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک تقریب پینٹاگون میں ہوئی جہاں القاعدہ کے دہشت گردوں نے ہائی جیک کیا ہوا تیسرا مسافر طیارہ ٹکرا کر تباہ کیا تھا۔

اس تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں امن مذاكرات کے سلسلے میں طالبان کے ساتھ طے شدہ ملاقات اس لیے منسوخ کر دی کیونکہ انہوں نے چند روز قبل کابل میں خودکش حملہ کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کا خیال تھا کہ اس حملے سے ان کی طاقت کا اظہار ہو گا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے ان کی کمزوری ظاہر ہوئی ہے۔

صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلائنا ٹرمپ، پینٹاگون میں نائن الیوں کی 18 برسی کے موقع پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلائنا ٹرمپ، پینٹاگون میں نائن الیوں کی 18 برسی کے موقع پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ چار دنوں میں ہم نے طالبان کے خلاف اتنے سخت حملے کیے ہیں جتنے اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

امریکی صدر افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ان کا اب کہنا ہے کہ امن مذاكرات ختم ہو چکے ہیں۔

نائب صدر مائیک پینس نے ریاست پنسلوانیا کے قصبے شانکس ول میں نائن الیون کی اٹھارویں برسی کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں القاعدہ کے دہشت گردوں کا ہائی جیک کیا جانے والا چوتھا مسافربردار طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا اور اس پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شانکس ول میں نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کی یادگار،
شانکس ول میں نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کی یادگار،

11 ستمبر 2001 کی صبح القاعدہ کے 19 دہشت گرد امریکہ کے مختلف ایئر پورٹس پر مسافروں کے روپ میں چار طیاروں پر سوار ہوئے اور عملے کو یرغمال بنا کر طیاروں کا کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد انہوں نے یکے بعد دیگرے ہائی جیک کیے گئے طیارے نیویارک، پینٹاگون اور پنسلوانیا میں اپنے اہداف سے ٹکرا دیے۔

ان حملوں کے جواب میں امریکہ نے افغانستان سے، جہاں طالبان کی حکومت تھی اور القاعدہ کی قیادت اور جنگجوؤں نے پناہ حاصل کر رکھی تھی، مطالبہ کیا کہ وہ القاعدہ کو اپنے ملک سے نکال دیں، لیکن طالبان نے انکار کر دیا۔ جس کے بعد امریکہ نے بین الاقوامی فورسز کی مدد سے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔

اس واقعہ کو 18 سال گزر چکے ہیں۔ افغانستان میں امریکی قیادت میں جنگ اب بھی جاری ہے اور آج بھی ملک کے ایک بڑے حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG