رسائی کے لنکس

logo-print

انصاف کی جلد فراہمی کے لیے شام کے اوقات میں عدالتیں قائم کرنے کی تجویز


وزیر قانون زاہد حامد

زاہد حامد نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ چار سالوں کے دوران ملک کے نظام قانون میں اصلاحات متعارف کروانے کے لیے کئی اقدمات کئے ہیں جس میں ماتحت عدالتوں میں مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیےتنازعات کے متبادل تصفیے کا قانون بھی شامل ہے

پاکستان کے وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ حکومت نے انصاف کی جلد فراہمی اور مقدمات کو بروقت نمٹانے کے لیے ملک میں شام کے اوقات میں عدالتیں قائم کرنے کے لیے ایک مجوزہ بل تیار کیا ہے۔

زاہد حامد نے یہ بات پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی رکن عاشہ سید کی طرف سے موجودہ حکومت کی طرف سے نظام انصاف میں اصلاحات کے لیے کیے گيے اقدامات سے متعلق پوچھے گيے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ چار سالوں کے دوران ملک کے نظام قانون میں اصلاحات متعارف کروانے کے لیے کئی اقدمات کئے ہیں جس میں ماتحت عدالتوں میں مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیےتنازعات کے متبادل تصفیے کا قانون بھی شامل ہے۔

زاہد حامد نے کہا کہ اب حکومت نے انصاف کی جلد فراہمی کے لیے شام کے اوقات میں عدالتوں کے قیام کے لیے ایک مجوزہ بل بھی تیار کیا ہے۔

معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ کہتے ہیں کہ شام کے اوقات میں عدالتین چھوٹے مقدمات کا فیصلے کرنے کے لیے تو موزوں ہو سکتی ہیں۔ تاہم، بڑے مقدمات کے لیے معمول کی عدالتیں ہی بہتر ہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ ان مجوزہ عدالتوں کا دائرہٴ کار معمول کی عدالتیں کی طرح ہی ہوگا اور یہ متعلقہ ہائی کورٹ کے تحت کام کریں گی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ان مجوزہ عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے لیے فریقین کی رضامندی ضروری ہو گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔

اگرچہ ملک کی ان مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ لیکن، روز بروز دائر ہونے نئے مقدمات کی وجہ سے ان پر مقدمات کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کر کے زیر التوا مقدمات کے معاملے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG