رسائی کے لنکس

فنڈز کی براہِ راست فراہمی معطل، پاکستان میں ایڈز کنٹرول پروگرام کتنا متاثر ہو گا؟


سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں ایک ڈاکٹر ایچ آئی وی سے متاثرہ چار سالہ بچے کا معائنہ کر رہا ہے۔

پاکستان کے صوبۂ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے علاقے رتوڈیرو میں دو سال قبل پھوٹنے والی وبا ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے سیکڑوں بچوں میں مقامی صحافی گل بہار شیخ کی دو سالہ بیٹی بھی شامل تھی۔

گل بہار کے لیے یہ قبول کرنا انتہائی مشکل اور تکلیف دہ امر تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ اگر ایچ آئی وی سے متاثر نہیں تھے تو ان کی بیٹی کس طرح اس کا شکار ہو گئی؟

لیکن اب گل بہار کو یہ تشویش ہے کہ اس مہک بیماری کی روک تھام کے لیے امداد فراہم کرنے والے ادارے 'گلوبل فنڈ' کی جانب سے مہیا کی جانے والی سات کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کی امداد حکومت کے بجائے اقوامِ متحدہ کے ادارے 'یو این ڈی پی' کے تحت خرچ کی جائے گی۔

لہذٰا گل بہار کو یہ پریشانی ہے کہ کیا ان کی بیٹی کے لیے علاج معالجے کی سہولت سرکاری سطح پر جاری رہے گی یا نہیں؟

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ 'گلوبل فنڈ' نے یہ فیصلہ ایڈیشنل سیف گارڈ پالیسی کے تحت کیا ہے تاکہ ملک میں ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے امداد کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

تاہم حکام نے واضح کیا کہ اس پالیسی کا اطلاق ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں شورش، سیاسی عدم استحکام یا فنڈز کے استعمال میں مبینہ بدعنوانی کے شواہد ہوں۔

'سسرال نے ایڈز کی وجہ سے گھر سے نکال دیا'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:32 0:00

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ صورتِ حال نہیں ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کے بارے میں اگر کوئی تحفظات ہیں تو انہیں باہمی تعاون اور اشتراک سے دور کیا جا سکتا ہے۔

'سرکاری اداروں کا کردار محدود ہو سکتا ہے'

​پاکستان ایڈز کنٹرول پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ عیسانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے لیے یو این ڈی پی کی شمولیت پر اُنہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ان کے بقول یو این ڈی پی کا کردار بھی اس حوالے سے اہم ہو گا لیکن وہ یہ کہتی ہیں کہ اس اقدام کی وجہ سے ایچ آئی وی اور ایڈز کنٹرول کرنے والے سرکاری اداروں کا کردار محدود ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان میں سرکاری سطح پر ایچ آئی وی اور ایڈز کے علاج کی سہولت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب سندھ اور پنجاب کی حکومتیں بھی اس اقدام کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں۔ ان صوبوں میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔

سندھ کے محکمۂ صحت نے وائس آف امریکہ کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گلوبل فنڈ کے اس اقدام سے صوبے میں 'ایچ آئی وی' کی روک تھام اور اس وبا سے متاثر افراد کے علاج کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

صوبے کے محکمۂ صحت نے گلوبل فنڈز سے ایچ آئی وی کے تدارک کے لیے امداد براہِ راست صوبوں بالخصوص سندھ کو دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تاہم گلوبل فنڈ نے وائس آف امریکہ کو بذریعہ ای میل بھیجے گئے ایک بیان میں بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں اس وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے کی گئی پیش رفت ناکافی تھی۔

ان کے بقول پاکستان میں ایڈز کنٹرول کرنے کے لیے ایک مؤثر میکنزم ضروری تھا جس میں 'یو این ڈی پی' اور دیگر شراکت داروں کی شمولیت ضروری ہو گئی تھی۔

'پاکستان اور فلپائن میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ تشویش ناک'

ایشیا گلوبل فنڈ کا کہنا ہے کہ ایشیا کے زیادہ تر ممالک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں کمی آرہی ہے لیکن تنظیم کے لیے یہ بات باعث تشویش ہے کہ پاکستان اور فلپائن میں ایچ آئی وی انفیکشن تشویش ناک شرح سے بڑھ رہی ہے۔

گلوبل فنڈ کے مطابق رتو ڈیرو میں بہت کم عرصے میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کے مثبت کیس پاکستان میں اس وبا کی سنگینی کا مظہر ہیں۔

یادر ہے کہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو میں غیر محفوظ سرنجز کے استعمال کی وجہ سے سیکڑوں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہو گئے تھے۔

گل بہار کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے علاج کے اخراجات برداشت کرنا اُن کے لیے مشکل ہے۔ لہذٰا اُنہیں یہ سہولت بالکل مفت ملنی چاہیے۔

لیکن 'گلوبل فنڈ' کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں عالمی امدادی فنڈ کے ذریعے ایچ آئی وی کی وبا کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم تشدہ مؤثر طریقہ کار کے تحت ایچ آئی وی کے متاثرین کو ان کے گھروں کے قریب علاج کی سہولت فراہم کرنا اُن کی ترجیح ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرکاری سطح پر ایڈز کنٹرول پروگرام کی موجودگی کے باوجود پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے تدارک کے کسی غیر سرکاری ادارے کو شامل کرنے سے اخراجات میں اضافہ ہو گا۔

خواجہ سرا اپنی کمیونٹی کو ایچ آئی وی سے کیسے بچا رہے ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:42 0:00

لیکن گلوبل فنڈز کا کہنا ہے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 'ایچ آئی وی' کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مناسب پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے اس وبا کو کنٹرول کے لیے ایک مؤثر ڈھانچے کو تشکیل دینا ضروری ہو گیا تھا۔

بیماری کے ساتھ ساتھ سماجی مسئلہ

دوسری جانب پنجاب میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے سابق سربراہ ڈاکٹر منیر ملک کا کہنا ہے کہ گلوبل فنڈ کے حالیہ فیصلے سے پنجاب میں حکومت کی سطح پر جاری ایڈز کنٹرول پروگرام پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

اُن کے بقول حکومت نے اس پروگرام کے لیے مناسب فنڈز مہیا کر رکھے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر منیر کے بقول ایچ آئی وی اور ایڈز طبی کے ساتھ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔

ڈاکٹر منیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں میں اس وبا سے ممکنہ طور پر شکار ہونے والے سیکس ورکرز بھی سماجی ڈر اور خوف کی وجہ سے سامنے آنے کے لیے تیار نہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ ایچ آئی وی سے معاشرے کے مخصوص افراد ہی متاثر ہوتے ہیں لیکن رتوڈیرو کے صحافی گل بہار کا کہنا ہے یہ مرض اب عام آبادی میں بھی پھیل رہا ہے۔

ان کے بقول رتو ڈیرو کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ افراد پر مشتمل ہے لیکن ان کا کہنا ہے اب تک صرف 50 ہزار افرد کی اسکریننگ ہوئی ہے جن میں سے دو ہزار سے زائد افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔

'یو این ڈی پی' کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 190,000 افراد ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں ہیں۔ تاہم حکومتی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایک اندازے پر ہی مبنی ہیں۔

لیکن دوسری طرف پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثر لگ بھگ 25 ہزار افراد کا ریکارڈ موجود ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG