رسائی کے لنکس

جی سیون اجلاس: ’مستقبل کے افغانستان کو عملی اقدامات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا‘


جی سیون کا ورچوئل اجلاس برطانیہ کی صدارت میں ہوا جس میں نیٹو کے سربراہ سمیت یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ جی سیون میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔ (فائل فوٹو)

دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے گروپ 'جی سیون' کے سربراہان اجلاس کے دوران افغانستان سے انخلا کے جاری مشن کی تاریخ میں توسیع سے متعلق رکن ممالک امریکہ کو رضا مند نہ کر سکے۔

افغانستان کی صورتِ حال پر جی سیون کا ہنگامی اجلاس برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کی زیرِ صدارت ورچوئل ہوا۔ اجلاس میں مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد (نیٹو) کے سربراہ سمیت یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان پر مشتمل جی سیون ممالک نے افغانستان سے شہریوں کے جاری انخلا کے آپریشن سمیت دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کے مطابق جی سیون اجلاس میں برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ طالبان کو لازمی طور پر یہ ضمانت دینا ہو گی کہ وہ شہری جو انخلا کی 31 اگست کی حتمی تاریخ کے بعد بھی افغانستان سے جانا چاہیں تو انہیں محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

اجلاس میں بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ افغانستان سے آخری لمحات تک انخلا کا عمل جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے افغانستان سے نو ہزار افراد کا انخلا کیا ہے اور اب بھی ہزاروں دیگر افراد کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا کہ افغانستان سے انخلا کا عمل جس رفتار سے جاری ہے اس سے مشن 31 اگست تک مکمل ہو جائے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جتنا جلد یہ مشن مکمل ہو جائے تو بہتر ہے۔

رپورٹس کے مطابق برطانیہ جی سیون کے دیگر ارکان کے ہمراہ خواہش مند تھا کہ امریکہ افغانستان سے انخلا کے جاری عمل کی حتمی تاریخ کو 31 اگست سے آگے لے جائے۔ کیوں کہ ان ممالک کے حکام کا خیال ہے کہ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکہ کی افواج کی عدم موجودگی میں ان کے لیے انخلا کا مشن جاری رکھنا نہ ممکن ہے۔

دوسری جانب صدر جو بائیڈن نے منگل کو قوم سے خطاب میں ایک بار پھر اعلان کیا کہ افغانستان سے انخلا کا عمل 31 اگست تک مکمل ہو جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ 14 اگست کے بعد سے افغانستان سے امریکہ نے 70 ہزار سے زائد لوگوں کا انخلا ممکن بنایا ہے اور اس ضمن میں طالبان متعلقہ حکام سے تعاون کر رہے ہیں۔

قوم سے خطاب میں صدر بائیڈن کا 31 اگست کی حتمی تاریخ کے حوالے سے کہنا تھا کہ جی سیون میں شامل ممالک کے سربراہان امریکہ کے فیصلے کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں اور مقررہ تاریخ پر مشن مکمل ہوگا۔

جی سیون اجلاس کے بعد ایک پانچ نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق اس وقت سب سے اہم بات اُن شہریوں یا افراد کو افغانستان سے نکالنا ہے جنہوں نے 20 برس تک افغان جنگ میں معاونت کی۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جی سیون ممالک افغانستان کے مستقبل کے حالات کو کہی جانے والی باتوں یا الفاظ سے نہیں بلکہ کیے جانے والے عوامل یا اقدامات کی بنیاد پر دیکھیں گے۔

واضح رہے کہ طالبان نے یہ تصور پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ماضی سے مختلف ہیں اور وہ خواتین کے حقوق کا خیال رکھیں گے۔ تاہم انہوں نے ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

کابل ایئر پورٹ پر وی او اے کی نامہ نگار نے کیا دیکھا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:07:21 0:00

افغان طالبان نے 1996 سے 2001 میں حکومت کے خاتمے تک ملک میں سخت قوانین کا نفاذ کیے رکھا تھا۔

جی سیون اجلاس میں سربراہانِ مملکت نے کہا کہ طالبان کو دہشت گردی کے خاتمے اور انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ مشترکہ حکومت کے قیام کے حوالے سے اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا ہو گا۔

جی سیون اجلاس کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کا جہاں بھی خطرہ ہو، جی سیون کے ارکان نیٹو کے ہمراہ اتحاد کے ساتھ لڑائی جاری رکھیں گے۔

افغانستان کی مستقبل کی حکومت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مستقبل کی حکومت کو بین الاقوامی ذمہ داریوں اور یقین دہانیوں کے مطابق افغانستان کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنا ہو گا اور تمام شہریوں کو حقوق دینا ہوں گے۔

اعلامیے میں منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے تدارک پر بھی زور دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG