رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے: جنرل (ر) پیٹریاس


فائل فوٹو

امریکہ کے سابق ملٹری کمانڈر اور سی آئی اے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان 'انتہائی اہم کردار' ادا کر سکتا ہے۔

منگل کے روز وائس آف امریکہ، افغان سروس کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکہ کو پاکستان کے بارے میں کافی تحفظات رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران جنرل پیٹریاس نے کہا کہ سال 2009 میں ایسا وقت آیا تھا جب پاکستانی افواج نے سوات اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیے تھے۔ لیکن شمالی وزیرستان میں زیادہ کاروائیاں نہیں کی گئیں۔

افغانستان سے باہر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک، داعش اور دیگر دہشت گردوں کو پاکستان کی طرف سے محفوظ ٹھکانے مہیا کیے جاتے رہے ہیں۔

کے بارے میں۔ افغانستان کے باہر ان ٹھکانوں کا ذکر کرتے ہوئے، انھوں نے ‘کوئٹہ شوریٰ’ کی موجودہ قیادت کا حوالہ دیا۔

جنرل پیٹریاس نے کہا کہ اگر طالبان ہتھیار ڈالتے ہیں اور افغان معاشرے اور حکومت کا حصہ بنتے ہیں۔ تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ (فائل فوٹوؐ)
جنرل پیٹریاس نے کہا کہ اگر طالبان ہتھیار ڈالتے ہیں اور افغان معاشرے اور حکومت کا حصہ بنتے ہیں۔ تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ (فائل فوٹوؐ)

افغان امن عمل کے سلسلے میں طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات سے متعلق ایک سوال پر سابق امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ طالبان کی کوشش ہے کہ کسی طرح امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں۔ حالانکہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد خود طالبان کا کیا کردار ہوگا۔ کیا وہ انتخابات میں شریک ہوں گے۔ کیا وہ افغان حکومت میں شریک ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں کے دوران دیکھا گیا ہے کہ طالبان داعش کو چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی وہ اپنی عسکری کاروائیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

جنرل پیٹریاس نے کہا کہ اگر طالبان ہتھیار ڈالتے ہیں اور افغان معاشرے اور حکومت کا حصہ بنتے ہیں۔ تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

ٹرمپ کی افغانستان اور پاکستان سے متعلق پالیسی، دفاع اور سلامتی کے امور سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اتحادی افواج کی مدد سے افغانستان میں امریکی فوج کی تعیناتی میں اضافہ کیا تھا۔

جنرل پیٹریاس کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں سابق امریکی صدر براک اوبامہ کو بھی اس کا کریڈٹ دینا چاہیے۔ جو اپنی حکومت ختم ہونے سے پہلے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا چاہتے تھے۔ لیکن امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی وجہ سے وہ ایسا نا کرسکے۔

انھوں نے کہا کہ افغان امن عمل کے دوران پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کیا گیا اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کے کئی ادوار ہوئے۔

جنرل پیٹریاس نے امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کا ذکر کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کو سراہا۔

اس سوال کے جواب میں کہ طالبان کے ساتھ امن عمل میں چین، روس یا ایران کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟۔ سابق امریکی کمانڈر نے کہا کہ یہ ملک اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا خطے میں شرارتی کردار رہا ہے۔ جو افغانستان کے جنوب مغربی علاقے میں چند طالبان کو مسلح کرتا رہا ہے جب کہ روس کی خطے میں تاریخ انتہائی پیچیدہ رہی ہے اور چین نے خطے میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اس لیے اس کا مفاد وابستہ ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ خطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لیے وہ ذاتی طور پر نہیں چاہیں گے کہ امریکی فوج کو افغانستان سے نکالا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG