رسائی کے لنکس

logo-print

قندیل بلوچ قتل کیس: والدین کی بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست مسترد


فائل فوٹو

قندیل بلوچ قتل کیس میں عدالت نے والدین کی جانب سے ملزم بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

ملتان کی مقامی عدالت کے جج عمران شفیق نے قندیل کے والدین کی طرف سے دو بیٹوں کو معاف اور بری کرنے کی دائر درخواست پر فیصلہ سنایا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے کا فیصلہ تمام گواہان کی شہادتیں قلم بند ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

عدالت نے دو روز میں اس قانونی نکتے پر دونوں فریقین کے وکلا کے دلائل سنے کہ غیرت کے نام پر ہونے والے اس قتل میں مدعی اور قندیل کے والد ملزموں کو معاف کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

قندیل بلوچ کو 15 جولائی 2016 کو ملتان میں اس کے گھر میں قتل کیا گیا تھا جبکہ اُس وقت قندیل کے والد عظیم بخش ماہڑہ نے تھانہ مظفر آباد میں جو مقدمہ درج کروایا تھا اس میں تین بیٹوں وسیم، اسلم شاہین اور عارف کو نامزد کیا تھا۔

قندیل بلوچ کے والد کی گفتگو
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:16 0:00

قندیل کے والد کی درخواست پر درج مقدمے کے مطابق، وسیم نے اپنے بھائیوں کے مشورے پر بہن کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔ قتل کے الزام میں وسیم گرفتار ہے جبکہ اسلم شاہین ضمانت پر رہا اور عارف مفرور ہے۔

گزشتہ روز عدالت میں قندیل بلوچ کے والد عظیم بخش نے وکیل سدرہ شمیم مرزا کے ذریعے درخواست جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کیس میں وسیم اور اسلم شاہین کو بری کیا جائے۔

عظیم بخش کی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ مدعی اور اس کی بیوی مقتولہ کے حقیقی والدین ہیں۔ لہذا، انہوں نے محمد وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کر دیا ہے۔ اس درخواست کو منظور کر کے دونوں کو بری کیا جائے۔

قندیل کے والد کی اس درخواست کی سرکاری وکیل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سید سلیم بہار نے مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے کہا کہ یہ درخواست رد کی جائے۔

سید سلیم بہار کے مطابق، کریمنل لا میں ترمیم کے بعد غیرت کے نام پر قتل میں صلح نہیں ہو سکتی۔ صلح صرف اس وقت ہو سکتی ہے جب اس میں غیرت کا عنصر شامل نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ایک قانونی وارث دوسرے قانونی وارث کو کیسے معاف کر سکتا ہے جبکہ وہ ملزم بھی ہو۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سید سلیم بہار کہتے ہیں کہ ملتان میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی ایف آئی آر ہے جس میں مدعی نے خود کہا کہ یہ قتل غیرت کے نام پر ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر قتل کے اس طرح کے کیس صرف زیر دفعہ 302 کے تحت درج ہوتے ہیں جبکہ اس میں بھی مدعی یا پولیس کے تفتیشی افسران اس کا حوالہ نہیں دیتے کہ یہ قتل غیرت کے نام پر ہوا ہے۔ گھریلو جھگڑا، ناچاقی یا مخالفت ہی وجہ قرار دے دی جاتی ہے۔

قتل کے جن مقدمہ میں غیرت کا معاملہ شامل نہ ہو ایسے کیسز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دفعہ 302 کے تحت مقدمات میں صلح یا مدعی کا پیچھے ہٹنے کا جواز موجود رہتا ہے اور اسے کسی حد تک قانونی راستہ بھی مل جاتا ہے۔ لیکن، اس کیس میں دفعہ 311 لگی ہوئی ہے۔ یعنی فساد فی الارض، ایسا جرم جسے عدالت معاشرے اور سماج کے خلاف سمجھے۔

سید سلیم بہار نے مزید بتایا کہ "اس طرح کے مقدمات میں صرف ریاست کو مدعی بننا چاہیے۔ لیکن، ایسا ہوتا نہیں۔ قانون پر عمل نہیں ہو رہا۔"

انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل میں مدعی ہی وارث ہوتا ہے۔ گواہ بھی وارث ہوتے ہیں جبکہ مدعی اور گواہ غیر جانبدار ہونے چاہیئں اور پولیس کے تفتیشی افسر بھی غیرت کے نام پر قتل کو عام قتل کے طور پر نہ دیکھے۔ ان کے بقول، میری ذاتی رائے میں غیرت کے نام پر قتل کو بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں چلنا چاہیے۔

قندیل بلوچ قتل کیس پر ماہرِ قانون ملک ریاض گنب ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت کو اس مقدمے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کا جائزہ لینا ہوگا۔

ملک ریاض کے مطابق، قانونی طور پر آئین کے آرٹیکل 12 ون بی کے مطابق جب بھی کسی قانونی ترمیم کے تحت کسی جرم کی سزا بڑھائی جائے گی تو اس کا اطلاق اس تاریخ سے قبل ہونے والے جرائم یا سزاؤں پر نہیں ہوگا۔

ان کے بقول، عدالت کو یہ اخلاقی پہلو بھی مدّنظر رکھنا ہوتا ہے کہ اگر کوئی گواہ اپنی شہادت سے منحرف ہو رہا ہے تو اس کی وجہ ملزم سے رشتہ داری تو نہیں ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ عدالت صرف مدعی کی خواہش پر کسی ملزم کو معاف نہیں کر سکتی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے بیشتر واقعات میں ملزمان کو معافی دینے اور صلح کرنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG