رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ پوٹن ملاقات فن لینڈ میں ہی کیوں؟


سربراہی ملاقات سے قبل ہی ہیلسنکی میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب فن لینڈ دنیا کی دو بڑی طاقتوں کی سربراہی ملاقات کی میزبانی کرے گا۔ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ماضی میں بھی فن لینڈ میں ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادی میر پوٹن کے درمیان پیر کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں ملاقات ہوگی۔

گو کہ دونوں رہنماؤں کی اس سے قبل بھی ملاقاتیں ہوچکی ہیں لیکن یہ دونوں صدور کے درمیان پہلی باضابطہ سربراہ ملاقات ہے جس کے باعث اسے خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس ملاقات کے بارے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے خبروں، تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں اٹھنے والے کئی سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آخر اس تاریخی ملاقات کے لیے ہیلسنکی کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا؟

یہ پہلا موقع نہیں جب فن لینڈ دنیا کی دو بڑی طاقتوں کی سربراہی ملاقات کی میزبانی کرے گا۔ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ماضی میں بھی فن لینڈ میں ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

ہیلسنکی میں صدارتی محل کے باہر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
ہیلسنکی میں صدارتی محل کے باہر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

جمہوریہ فن لینڈ شمالی یورپ میں بحیرۂ بالٹک کے کنارے واقع ہے جس کی سرحدیں ناروے، سوئیڈن اور روس سے ملتی ہیں۔

لیکن روس کے ساتھ طویل سرحد ہونے کے باوجود فن لینڈ کے روس کے ساتھ تعلقات خوشگوار رہے ہیں۔ امریکہ روس اور اس سے قبل امریکہ سوویت تنازع میں ہیلسنکی حکومت اکثر اوقات غیر جانب دار رہی ہے اور موجودہ صدر ساؤلی نینیستو بطور خاص روس کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے پرجوش حامی ہیں۔

روس کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود حالیہ عشروں کے دوران فن لینڈ کے یورپ یہاں تک کے نیٹو کی جانب جھکاؤ میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہے۔

لیکن اس کے باوجود فن لینڈ 'نیٹو' کا رکن نہیں اور اس بنیاد پر یورپ میں امریکہ اور روس کی سربراہی ملاقات کی میزبانی کے لیے اس کا انتخاب قابلِ فہم ہے۔

ہیلسنکی میں اس سے قبل بھی امریکی اور روسی صدور کی کئی حساس اور تاریخی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ یہیں امریکی صدر جیرالڈ فورڈ اور سوویت یونین کے رہنما لیونڈ برژنیف نے 1975ء میں 'ہیلسنکی معاہدے' پر دستخط کیے تھے جن میں دونوں ملکوں نے سرد جنگ کی تلخی اور کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکی صدر فورڈ اور سوویت رہنما برژنیف 30 جولائی 1975ء کو مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ہیسلنکی کے امریکی سفارت خانے کے باہر ایک دوسرے سے مصافحہ کر رہے ہیں۔
امریکی صدر فورڈ اور سوویت رہنما برژنیف 30 جولائی 1975ء کو مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ہیسلنکی کے امریکی سفارت خانے کے باہر ایک دوسرے سے مصافحہ کر رہے ہیں۔

ان کے بعد جارج بش سینئر اور سوویت صدر میخائل گوربا چوف نے ستمبر 1990ء میں جب کہ صدر بل کلنٹن نے اپنے روسی ہم منصب بورس یلسن کے ساتھ مارچ 1997ء میں ہیلسنکی میں ملاقاتیں کی تھیں۔

اب فن لینڈ کے حکام اور عوام ایک بار پھر خوش ہیں کہ انہیں دو بڑی عالمی طاقتوں کے تعلقات بہتر بنانے میں مدد دینے کا ایسے وقت موقع مل رہا ہے جب روس کی اپنے پڑوسی ملکوں خصوصاً یوکرائن کے خلاف محاذ آرائی اور 2016ء کے امریکی صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات ایک بار پھر سرد جنگ کے دور کی سطح پر ہیں۔

ہیلسنکی کے میئر جین واپا ووری کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے شہر اولمپکس، ورلڈ کپ، یوروویژن کانسرٹس اور ایسی ہی تقریبات اور جشن کی میزبانی کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ لیکن بہت کم شہر ایسے ہیں جنہیں صدر ٹرمپ اور صدر پوٹن جیسی اہم ترین ملاقاتوں کی وجہ سے اتنی اہمیت اور توجہ ملتی ہے۔

لیکن اس ملاقات سے فن لینڈ میں سب لوگ خوش نہیں اور کئی گروہ، تنظیمیں اور رضاکار اس اہم سربراہی ملاقات کے موقع پر مظاہروں کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG