رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ اور پوٹن کی مجوزہ ملاقات اور بالٹک ریاستوں کی پریشانی


صدر ٹرمپ اور روس کے سربراہ پوٹن پیر کے روز ہیلسنکی میں ملاقات کر رہے ہیں۔

بالٹک سمندر سے پارہیلسنکی سے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب پیر کے روز ایک ایسے سر براہی اجلاس میں ملاقات کریں گے جس کا بہت عرصے سے انتظار کیا جا رہا ہے، ایسٹونیا حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ ملک کسی زمانے میں ایک سوویت ری پبلک تھا لیکن اب وہ کسی بھی روسی در اندازی کو روکنے کے لیےنیٹو فورسز کی میزبانی کرتا ہے ۔ وائس آف امریکہ کے ہنری رجول کا کہنا ہے کہ ماسکو کی جانب سے کرائمیا کے زبر دستی الحاق اور یوکرین کے خلاف دوسرے اقدامات کے باعث فرنٹ لائن بالٹک ریاستیں روس کے ساتھ کسی بھی مصالحت کے بارے میں پریشان ہیں ۔

روسی سرحد سے ایک ٹینک کے ذریعے تین گھنٹے سے بھی کم فاصلے پر واقع اس ہموار زمین پر نیٹو کے تربیت دیتے ہیں۔

یارک شائر رجمنٹ کی فرسٹ بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹننٹ کرنل جم کینڈی کہتے ہیں کہ ہم یہاں نیٹو کے بنیادی ذمہ داری، یعنی اجتماعي دفا ع کے لیے موجود ہیں ۔ ہم یہاں معدافعتی انداز میں کمر بستہ ہیں ۔ لیکن ہم یہاں ضرورت پڑنے پر لڑنے اور دفاع کے لیے موجود ہیں۔

یہ ایک ایسا منظر نامہ ہے جس کے بارے میں یورپ کو ڈر ہے کہ وہ ایسٹونیا اور دوسری بالٹک ریاستوں میں جنم لے سکتا ہے جو کسی زمانے میں سوویت یونین کا حصہ تھیں اور اب نیٹو کی فرنٹ لائن ارکان ہیں ۔ روس کی جانب سے 2014 میں کرائمیا کے الحاق نے اتحاد کو پریشان کر دیا اور وہ اب کوئی خطرہ مول نہیں لے رہا۔

ایسٹونیا نے نیٹو کی تعیناتی کا خیر مقدم کیا ہے، جس کا مقصد روس کو یوکرین پر دوبارہ حملے سے روکنا ہے ۔ ہزاروں مضبوط فوجیوں پر مشتمل اس جنگی گروپ میں برطانیہ کے 800 فوجی شامل ہیں ۔ یہ فوجی چھ ماہ کے ایک دورے کا آغاز کر رہے ہیں یارک شائر رجمنٹ کی فرسٹ بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹننٹ کرنل جم کینڈی کہتے ہیں کہ ایسٹونیا کے لوگوں نے نیٹو کی اس تعیناتی کو ممکن بنانے کے لیے اپنے دفاعی بجٹ سے کہیں زیادہ بہت بھاری رقم خرچ کی ہے تاکہ ہمیں ہر وہ چیزمل جائے جس کی ہمیں ضرورت ہے ۔ اور بلا شبہ روس کے ساتھ نمٹتے ہوئے نیٹو کی حکمت عملی ایک دوہرے راستے کے انداز کی ہے۔ یہ طاقت اور اپنے اجتماعي دفاع پر عمل درآمد کے لیے تیاری ظاہر کررہی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ڈائیلاگ پر بھی مبنی ہے ۔ اس لیے ہم بھی دوسروں کی طرح یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ ہیلسنکی میں کیا ہوتا ہے۔

پیر کے روز ہونے والا ہیلسنکی کا اجلاس ایسٹونیا اور نیٹو کے بہت سے دوسرے اتحادیوں کو پریشان کر رہا ہے۔

سینٹر فار ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی کے تجزیہ کار کیلیو سٹوئی کسکو کہتے ہیں کہ چونکہ وہاں ہمیشہ ایک غیر یقینی صورت حال کا عنصر موجود ہوتا ہے جس پر کچھ عرصہ قبل پوٹن کی اجارہ داری تھی اور اب یقینی طور پر ٹرمپ کی ہے ۔ روسی توقعات امریکی جانب کی توقعات سے زیادہ ہو سکتی ہیں ۔ یقینی طور پر وہ پراپیگنڈے کی کامیابی کی توقع کر رہے ہیں۔

اب جب نیٹو اور روس اور صدر ٹرمپ اور صدر پوٹن کے درمیان جغرافیائی سیاست کا کھیل جاری ہے۔ روسی سرحد سے صرف 140 کلومیٹر پر واقع ایسٹونیا میں نیٹو کے قدم تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہیلسنکی سر براہی اجلاس ماسکو سے تعلقات از سر نو ترتیب دے سکتا ہے ۔اور بالٹک سمندر کے پار نیٹو کے فوجی ایک واضح پیغام بھیج رہے ہیں اور وہ یہ کہ اتحاد کسی بھی قسم کے نتیجے کے لیے تیار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG