رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: مسجد کی 'بے حرمتی' پر حکام کی معذرت


امام مسجد محمد ارشاد نے کیری لام کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی کمیونٹی امید رکھتی ہے کہ ہانگ کانگ میں لوگ پُرامن طریقے سے رہیں گے۔

ہانگ کانگ کی سربراہ کیری لام نے احتجاج کے پولیس کی جانب سے ملک کی سب سے بڑی مسجد کی 'بے حرمتی' پر معذرت کرلی ہے۔

ہانگ کانگ میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

اتوار کو کولون کے علاقے تسم شاہ تسوئی میں مظاہرین سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے کہ اس دوران پولیس نے اُنہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور نیلے رنگ کے اسپرے کا استعمال کیا۔

ایک موقع پر واٹر کینن کی گاڑیاں ہانگ کانگ کی سب سے بڑی کولون مسجد کے مرکزی دروازے پر آئیں۔ اس دوران مظاہرین سے جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکاروں نے مسجد کے دروازے پر ہی نیلے رنگ کا اسپرے اور پانی پھینکا جس کے باعث نمازیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ہانک کانگ کی سربراہ نے دورۂ جاپان سے قبل پیر کی صبح متاثرہ مسجد کا دورہ کیا اور وہاں موجودہ مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران مسجد پر واٹر کینن کے استعمال پر معذرت کی۔

ہانک کانگ کی سربراہ نے دورۂ جاپان سے قبل پیر کی صبح متاثرہ مسجد کا دورہ کیا۔
ہانک کانگ کی سربراہ نے دورۂ جاپان سے قبل پیر کی صبح متاثرہ مسجد کا دورہ کیا۔

امام مسجد محمد ارشاد نے کیری لام کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی کمیونٹی امید رکھتی ہے کہ ہانگ کانگ میں لوگ پُرامن طریقے سے رہیں گے۔

دوسری جانب پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسجد پر حادثاتی طور پر اسپرے کیا گیا، پولیس مذہبی آزادی اور مقدس مقامات کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے۔

دو ہفتوں کے ٹھہراؤ کے بعد اتوار کی شب ہونے والے مظاہروں کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر جمع ہوئی جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔

پولیس کی جانب سے مظاہرے کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود لوگوں نے سڑکوں پر مارچ کیا جس کے دوران ان کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مظاہرین نے چین سے تعلق رکھنے والے بینک اور دیگر تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا جب کہ نتھن روڈ پر مظاہرین نے دکانوں میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے ان کے سامنے آگ بھی لگائی۔

مظاہرین نے چین سے تعلق رکھنے والے بینک اور دیگر تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا۔
مظاہرین نے چین سے تعلق رکھنے والے بینک اور دیگر تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ رواں سال جون میں شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 2600 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جن میں بڑی تعداد 18 سال کے نوجوانوں کی ہے۔ مظاہروں میں دو افراد فائرنگ سے ہلاک اور سیکڑوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ چین کے اقدامات نے ان سے آزادی کا حق چھین لیا ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ سے 1997 میں آزادی کے بعد ہانگ کانگ چین کے زیر کنٹرول ہے اور چین کانگ کانگ کے معاملے پر ایک ملک اور دو نظام کا نعرہ لگاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG