رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ میں پابندیوں کے باوجود احتجاج، ریل کا نظام معطل


حکومت مخالف احتجاج میں پابندی کے باوجود مظاہرین نے ماسک پہنے ہوئے تھے

ہانگ کانگ میں پابندیوں کے باوجود ہفتے کو ایک بار پھر احتجاج دیکھنے میں آیا۔ مظاہروں کے باعث ریل کا نظام سب وے اور کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کی سربراہ نے کسی بھی احتجاج میں چہرے ڈھانپنے پر گزشتہ روز پابندی عائد کی تھی تاہم جمہوری آزادیوں کے حق میں مظاہرے کرنے والے افراد نے ایک بار پھر ماسک پہن کر ہی احتجاج کیا۔

شہر میں مختلف مقامات پر مظاہرے ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آئے جب ایک رات قبل احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی سب وے اسٹیشنز پر حملے کیے۔ متعدد کاروباری مراکز میں دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ مختلف شاہراہوں پر رکاوٹیں رکھ کر انہیں بند کیا گیا۔

مظاہرین کی جانب سے املاک کو نقصان پہنچانے پر ہانگ کانگ کی سربراہ کیری لم نے مذمت کرتے ہوئے اس سیاہ رات قرار دیا۔

ایک ویڈیو پیغام میں کیری لم نے کہا کہ ہم مظاہرین کو شہر کو مزید نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

انہوں نے عام شہریوں کو احتجاج کرنے والوں سے دور رہنے کی بھی تلقین کی۔

رپورٹس کے مطابق جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کئی مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ متعدد پولیس اہلکار جن کے چہروں پر ماسک تھے انہوں نے ان مظاہرین کو حراست میں لیا جنہوں نے چہروں کو چھپایا ہوا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز مظاہروں میں شدت اس وقت آئی جب ایک سکیورٹی اہلکار نے مظاہرے میں شامل نوجوان کو ٹانگ پر گولی ماری۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سب وے بدستور بند ہے جبکہ اس پر ہونے والی توڑ پھوڑ کے بعد مرمت کا کام جاری ہے۔

بڑے کاروباری مراکز اور بینک بھی نہیں کھل سکے تاہم ایئر پورٹ ایکسپریس بحال رہی۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ہانگ کانگ کی ریل سروس بند ہونے سے عام شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ گزشتہ شب احتجاج کے بعد ایم آر ٹی کارپوریشن نے تمام ریل سروس معطل کر دی تھی۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ریل سروس معطل ہونے سے 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اس سروس سے یومیہ 50 لاکھ افراد استفادہ کرتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق مظاہرین نے پیر کے روز بھی احتجاج کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو ہانگ کانگ میں عام تعطیل ہے تاہم ٹرانسپورٹ کی بندش سے یہ احتجاج کس قدر متاثر ہوگا ابھی اس حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ میں رواں سال جون میں شروع ہونے والے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں مسلسل شدت آ رہی ہے۔ یہ مظاہرے ہانگ کانگ کی حکومت کی جانب سے ملزمان کی چین حوالگی سے متعلق ایک قانونی بل متعارف کروانے پر شروع ہوئے تھے۔

اس بل کے تحت ہانگ کانگ میں جرائم کے مرتکب افراد کا ٹرائل چین میں کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ ہانگ کانگ کے شہریوں نے مجوزہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا تھا۔ ناقدین نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ چین میں رائج سخت قوانین اور کمزور نظام انصاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

گو کہ حکومت نے احتجاج کے باعث یہ بل واپس لے لیا تھا تاہم احتجاج کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ مظاہرین امریکہ اور برطانیہ سے بھی مدد طلب کر چکے ہیں۔

مظاہرین نے اب اپنے مطالبات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران پرامن مظاہرین پر پولیس تشدد کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔

مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ہانگ کانگ میں براہ راست نئے انتخابات کروائے جائیں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ تاہم چین کی مرکزی حکومت نے کیری لیم کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

جون سے جاری احتجاج کے دوران ہانگ کانگ میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG