رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ بیک وقت منفی اور مثبت بھی آ سکتی ہے؟


فائل فوٹو

لاہور سمیت پنجاب کے شہروں میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ٹیسٹ رپورٹس کبھی مثبت اور کبھی منفی آ رہی ہیں۔ محکمۂ صحت پنجاب کے مطابق کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹس مختلف ہو سکتی ہیں۔

حال ہی میں ملتان سے ایک واقعہ سامنے آیا تھا جس میں اٹلی سے آنے والے ایک نوجوان کی نجی لیب سے کرونا وائرس ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی تھی۔ لیکن جب اسے محکمہ صحت کی ٹیم نے نشتر اسپتال لا کر کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا تو وہ منفی تھا۔ سو اسے اس کے گھر بھیج دیا گیا۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار جمشید رضوانی کے مطابق ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے ملتان کے قرنطینہ میں 16 دن گزارنے کے بعد 1158 زائرین کا کرونا وائرس ٹیسٹ کرایا۔ لیکن ان کی حتمی رپورٹس آنے سے قبل ہی زائرین کو ان کے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

پنجاب حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ جب تک ان افراد کی حتمی رپورٹ نہ آئے، اس وقت تک انہیں گھر بھیجنے کے بجائے آئسولیشن یا قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کتنا پھیل سکتا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:57 0:00

بعد ازاں جب رپورٹ آئی تو ان میں سے 457 زائرین کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔ ان زائرین کو اب پنجاب کے مختلف اضلاع میں قائم قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے جب کہ باقی افراد کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

کرونا وائرس کی رپورٹس مختلف آنے کے معاملے پر محکمہ پرائری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کے ترجمان حافظ قیصر عباس کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کے مشتبہ افراد کی رپورٹس سرکاری لیبارٹریوں اور نجی لیبارٹریوں میں علیحدہ علیحدہ ٹیسٹ کرنے پر بھی مختلف ہو سکتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ قیصر عباس نے بتایا کہ لاہور میں کرونا وائرس کا جو سب سے پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا، وہ شخص لندن سے لاہور آیا تھا۔ جب اس کا نجی لیبارٹری 'چغتائی لیب' میں ٹیسٹ کیا گیا تو وہ مثبت آیا تھا جب کہ اسی شخص کا میو اسپتال میں ٹیسٹ منفی آیا۔ پھر تیسری مرتبہ ٹیسٹ رپورٹ مثبت آنے پر اُس شخص کا علاج شروع کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسی شخص کا جب 19 روز بعد دوبارہ ٹیسٹ ہوا تو دوبارہ دو دنوں میں دو مختلف رپورٹس آئی تھیں۔

حافظ قیصر عباس کے مطابق صوبۂ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں اور نجی لیبارٹریوں میں استعمال ہونے والی کرونا ٹیسٹنگ کٹس کا معیار مختلف ہو سکتا ہے جس کے باعث مختلف رپورٹس آ رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب میں شوکت خانم اسپتال اور آغا خان لیبارٹری کو کرونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس صوبائی حکومت فراہم کر رہی ہے۔ لیکن یہ دونوں نجی لیبارٹریاں صرف انہی لوگوں کے ٹیسٹ کرتی ہیں جنہیں محکمۂ صحت پنجاب تجویز کرتا ہے۔

دونوں نجی لیبارٹریاں سرکاری کٹس کا کمرشل استعمال نہیں کر رہیں۔ اِن کے علاوہ دیگر مختلف نجی لیبارٹریاں بھی کرونا وائرس کا ٹیسٹ کر رہی ہیں جو اپنے طور پر ٹیسٹنگ کٹس منگواتی ہیں۔

اسی معاملے پر میو اسپتال لاہور کے سی ای او ڈاکٹر پروفیسر اسد اسلم کہتے ہیں کہ کسی بھی مریض کی ایک ہی دن میں دو مختلف اور متضاد رپورٹیں آنا خطرے کی بات نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم نے بتایا کہ کرونا سمیت مختلف بیماریوں کی بیک وقت رپورٹس مختلف آ سکتی ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کو عام بخار ہو تو اُس کا درجۂ حرارت گھر میں چیک کرنے اور اسپتال تک آنے میں مختلف ہو سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کے کسی مریض کا بلڈ پریشر بھی ایک وقت میں مختلف مشینوں پر مختلف آ سکتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم نے بتایا کہ اُن کے پاس ایسے کیس آئے ہیں کہ ایک شخص کا سرکاری لیبارٹری میں پہلے دن کرونا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹو آیا جب کہ دوسرے دن اُسی لیبارٹری میں ٹیسٹ کرنے پر منفی آیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں وہ مریض کو نگرانی میں رکھتے ہیں اور دو ٹیسٹ ایک جیسے آنے پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔

ان کے بقول کرونا وائرس بعض اوقات کسی شخص میں اپنی موجودگی کو زبرست طریقے سے ظاہر کرتا ہے جب کہ کچھ کیسز میں انسانی قوت مدافعت وائرس کو حاوی نہیں ہونے دیتی۔ انسانی جسم میں ہر وقت کرونا وائرس اور قوت مدافعت کے درمیان لڑائی جاری رہتی ہے۔

دوسری جانب محکمۂ صحت پنجاب نے صوبے بھر میں انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ قرنطینہ مراکز میں رکھے گئے افراد کی حتمی رپورٹیں آنے اور ڈاکٹروں کی اجازت کے بغیر انہیں گھر جانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔

محکمۂ صحت کے مطابق قرنطینہ مراکز میں رکھے گئے تمام افراد کا ریکارڈ متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور صوبائی محکمہ صحت کے مرکزی دفتر میں جمع کیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG