رسائی کے لنکس

تحریکِ انصاف کی حکومت کی تین سالہ کارکردگی؛ ماہرین کیا کہتے ہیں؟


تحریکِ انصاف کی حکومت 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔ عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو قائم ہوئے تین سال مکمل ہونے پر انتخابی منشور کے اہداف کا جائزہ لیا جا رہا یے۔

حکومت نے اپنی تین سالہ کارکردگی پیش کرنے کے لیے اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں تقاریب کا انعقاد کیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ کا اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں اجرا کیا۔

تحریکِ انصاف کی حکومت 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔ عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

تحریکِ انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں معیشت، احتساب، طرز حکمرانی اور سفارت کاری کے شعبے سے متعلق جو وعدے اور اعلانات کیے تھے وہ کس حد تک مکمل ہو سکے اس پر مبصرین کے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

معیشت

سال 2018 میں جب تحریکِ انصاف اقتدار میں آئی تو وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے اصل مشکل معیشت کو سہارا دینا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی تین سالہ کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت میں آئے تو تقریباََ 20 ارب روپے کا خسارہ تھا۔ پاکستان دیوالیہ ہونے والا تھا کیوں کہ بیرونی قرض کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں حکومت سنبھالی اور یہ تین سال بھی بہت مشکل سے گزرے ہیں۔ اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارت اور چین مدد نہ کرتے تو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس مجبوری میں جانا پڑا۔

عمران خان نے کہا کہ جس سے قرضہ لیتے ہیں وہ پوچھتا ہے کہ واپس کیسے کرو گے۔ شرائط لگائی جاتی ہیں جب ان شرائط پر چلتے ہیں تو عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس مشکل وقت سے نکل ہی رہے تھے کہ کرونا آ گیا۔

معاشی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ ملکی معیشت میں کچھ بہتری ضرور آئی مگر اس کے بہتر نتائج کے لیے حکومت کو اس کے اثرات عام آدمی تک پہنچانا ہوں گے۔

معاشی امور کے ماہر اور سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جب یہ حکومت آئی تھی تو معیشت کے حالات اچھے نہیں تھے اور حکومت کی ابتدائی معاشی ٹیم مسائل سمجھنے میں ناکام رہی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے سال ایک کے بعد دوسرا بحران اور دوسرے سال آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کی وجہ سے حکومت معیشت میں بہتری کے لیے کچھ زیادہ نہیں کرسکی۔

وہ کہتے ہیں کہ کرونا وبا سے بہتر انداز میں نمٹنے کے باعث ملک کی معیشت میں بہتری اور کاروباری طبقے میں اعتماد پیدا ہوا ہے جس کی ایک وجہ اس عرصے میں آئی ایم ایف پروگرام کا معطل ہونا بھی ہے۔

حکومت نے گزشتہ مالی سال کی مجموعی ترقی یعنی جی ڈی پی کا اندازہ 2.1 فی صد رکھا تھا جو کہ بہتر معاشی حکمتِ عملی کے نتیجے میں 3.9 فی صد رہی۔

اس حوالے سے ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بعد حکومت کا اس تسلسل کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا کیوں کہ گزشتہ تین ماہ میں روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 16 روپے تک گر چکی ہے۔

تبدیلی اور اصلاحات

تحریکِ انصاف تبدیلی کے نعرے یعنی اصلاحات کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی حکومت تین سال میں زیادہ کامیاب دیکھائی نہیں دیتی۔

ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے وزیرِ اعظم عمران خان نے اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کو اپنا مشیر مقرر کیا ہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات تین سال میں حاصل نہیں ہوسکتیں۔ بلکہ اس عمل کے لیے 10 سے 12 سال درکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات میں کچھ چیزیں قلیل وقت میں ہو سکتی ہیں۔ کچھ درمیانی مدت میں اور کچھ طویل مدتی ہیں۔ حکومت کے اقدامات کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔

عشرت حسین کا کہنا تھا کہ اصلاحات یا ادارہ نظام میں تبدیلی لاتے ہوئے یہ بات مدنظر رکھنی ہوتی ہے کہ نظام متاثر نہ ہو کیوں کہ اگر نظام متاثر ہوگا تو معاشی سرگرمی رک جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کی تعداد 441 سے کم کرکے 307 ہو گئی ہے جن میں سے 206 خود مختار ادارے، 91 ایگزیکٹو باڈیز اور 10 آئینی ادارے ہیں۔

عشرت حسین کے مطابق سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقریری کا طریقۂ کار بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس طریقۂ کار کو اپناتے ہوئے 62 سرکاری اداروں کے سربراہان تعینات کیے جا چکے ہیں۔ اصلاحات کے نتیجے میں اب وفاقی وزارتوں میں ای آفس کا استعمال کا کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے بتایا کہ حکومت ادارہ جاتی اصلاحات پر تیزی سے کام کر رہی ہے اور اس ضمن میں ریلوے، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن، پاکستان اسٹیل ملز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، مسابقتی کمیشن، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں تنظیم نو پر کام جاری ہے۔

احتساب

حکومت کی جانب سے احتساب پر بھی خاصہ زور دیا جاتا رہا ہے اور وزیرِ اعظم عمران خان کہتے رہے ہیں کہ وہ احتساب پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے چاہے ان کی حکومت ہی چلی جائے۔

تین سالہ کارگردگی تقریب سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک کا مسئلہ قانون کی حکمرانی نہ ہونا ہے۔ کوئی ملک قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا احتساب کے عمل کا تمام تر زور صرف سیاسی رہنماؤں پر ہونے کی وجہ سے متنازع ہوکر رہ گیا ہے جس پر اعلیٰ عدلیہ بھی احتساب کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا چکی ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی احتساب کی کارگردگی بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے تین سالہ دور میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 519 ارب روپے وصول کیے ہیں اور اسی طرح پنجاب کے انسداد بدعنوانی کے محکمے نے ساڑھے چار سو ارب روپے بدعنوان افراد سے واپس لیے۔

حزبِ اختلاف حکومت کے احتساب کے اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

مہنگائی و بیروزگاری

حکومت کے ناقدین کہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے دور میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جب کہ ڈالر کی قدر بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیا ہے۔

معاشی مبصرین کے مطابق اگست 2018 سے اب تک مہنگائی میں مجموعی طور پر 26 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ کھانے پینے کی اشیا میں 36 فی صد اضافہ ہوا۔

گزشتہ مالی سال کے اقتصادی سروے کے اجرا کے موقع پر وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ کرونا وائرس کے آغاز کے وقت تقریباً پانچ کروڑ 60 لاکھ افراد برسرِ روزگار تھے جن کی تعداد گھٹ کر تین کروڑ 50 لاکھ پر آ گئی ہے یعنی تقریباََ 2 کروڑ افراد بے روزگار ہوئے۔

حزبِ اختلاف کے رہنما بیروزگاری پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا۔

ماہر معیشت اشفاق حسن کہتے ہیں کہ ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے نے مستقبل میں معیشت کے حوالے سے پیش گوئی کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم کے بعض لوگ پاکستان کو آئی ایم ایف کے دوسرے پروگرام کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG