رسائی کے لنکس

logo-print

بی جے پی کی شکست کا اثر 2019 کے انتخابات پر بھی پڑے گا: تجزیہ کار


راہول گاندھی کی پریس کانفرنس

تین ریاستوں چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں آئندہ چند دنوں میں کانگریس حکومت بنانے والی ہے۔ مدھیہ پردیش میں جہاں کانگریس اور بی جے پی میں کانٹے کی ٹکر تھی، ’ایس پی‘ اور ’بی ایس پی‘ نے کانگریس کو حمایت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے گورنر سے مل کر حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا ہے۔

ان ریاستوں میں کانگریس کی فتح اور بی جے پی کی شکست سے 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی کے امکانات پر بے یقینی کے سائے گہرے ہو گئے ہیں۔ اس نے 2014 کے عام انتخابات میں ان ریاستوں میں 65 میں سے 62 پارلیمانی نشستوں پر قبضہ کیا تھا۔

لیکن، اگر موجودہ نتائج کے آئینے میں پارلیمانی انتخابات کو دیکھیں تو بی جے پی 31 پارلیمانی نشستیں ہار سکتی ہے اور ملک گیر سطح پر 80 سے 100 نشستوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ 2014 کے عام انتخابات میں اسے 543 میں سے 282 پارلیمانی نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔

ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار شاہد فریدی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان ریاستوں میں بی جے پی نے 180 اسمبلی نشستیں گنوائی ہیں۔ لیکن، اب وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس کام کرنے کے لیے وقت نہیں بچا ہے۔ دو ماہ کے اندر ملک میں مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہو جائے گا۔ مارچ، اپریل اور مئی کے اوائل میں انتخابات ہونے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ابھی تک اقتدار کے ایوانوں میں یہ باتیں ڈھکے چھپے انداز میں کہی جا رہی تھیں، مگر اب بی جے پی کے اندر بھی یہ باتیں اٹھنے لگی ہیں کہ فرقہ وارانہ سیاست نے نقصان پہنچایا ہے۔ مندر، مسجد، گائے اور مورتی کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی سیاست کارگر نہیں ہوئی۔

بقول ان کے، ’’ملک کے ہندو ووٹروں نے بی جے پی کو بتا دیا کہ ہم نے تمھیں ترقی کے نام پر ووٹ دیا تھا۔ لیکن، تم نے مسلمانوں کے خلاف ہندووں کو متحد کرنے کی کوشش کی اور ترقی کے کام کرنے کے بجائے دوسری طرف بھٹک گئے۔

شاہد فریدی کہتے ہیں کہ ان انتخابات کو مرکزی حکومت کے کاموں پر ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان نتائج کا 2019 کے الیکشن پر براہ راست اثر پڑے گا۔

معروف ویب پورٹل، ’دی وائر‘ کے بانی مدیر وینو گوپال کہتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو زیادہ دنوں تک بانٹا نہیں جا سکتا۔ جذباتی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر انتخابات نہیں جیتے جا سکتے۔ زمین پر ترقیاتی کام کرنے ہوتے ہیں۔

ان کے بقول، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے لوگوں کی تجارت تباہ کر دی۔ حکومت نوجوانوں اور کسانوں کے مسائل حل نہیں کر کسی۔

ایک آزاد صحافی، آشیش رنجن کہتے ہیں کہ تینوں ریاستیں بی جے پی کا گڑھ تھیں۔ ان میں اس کی شکست کا 2019 پر ضرور اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ کانگریس کے حوصلے بلند رہیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک جو علاقائی پارٹیاں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد قائم کرنے میں جھجک رہی تھیں وہ اب اس کے جھنڈے تلے آجائیں گی۔

مذکورہ تینوں ریاستوں کے بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی کسانوں اور نوجوانوں کے مسائل پر سنجیدگی سے کام نہیں کر سکی۔ اعلیٰ کمان کی مداخلت نے کارکنوں کو ناراض کر دیا تھا۔

لیکن، ایک اور سینئر تجزیہ کار اجے کمار کہتے ہیں کہ یہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات تھے۔ ان کا پارلیمانی انتخابات پر اثر نہیں پڑے گا۔ کیونکہ بقول ان کے اس وقت قومی ایشوز پر بحث ہوگی مقامی ایشوز پر نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ دراصل ان ریاستوں کے عوام تبدیلی چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ بی جے پی چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں پندرہ اور راجستھان میں پانچ برسوں سے حکومت کر رہی تھی۔

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور بی جے پی کے ترجمان کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان نتائج کا پارلیمانی نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور بی جے پی پھر برسراقتدار آئے گی۔

ادھر، متعدد اخباروں نے اپنے اداریوں اور تجزیوں میں بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو بھی اس کی شکست کا ایک سبب قرار دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG