رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: لیاری میں پولیس آپریشن کے خلاف مظاہرے اور چھڑپیں، نظام زندگی مفلوج


کراچی کے علاقے لیاری میں جمعہ کو بھی پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس سے نظام زندگی بری طرح مفلوج ہوگیا۔ پولیس نے جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں ایک درجن سے زاید افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ لیاری کے حالات بہتر کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

تین روز قبل لیاری کے مختلف علاقوں میں پولیس کے چھاپوں کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج و ہنگامہ آرائی میں جمعہ کو اس وقت شد ت آ گئی جب پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی ۔ مظاہرین نے لیمارکیٹ کے علاقے میں پولیس کی گاڑیوں پر پیٹرول بموں سے حملے کئے اور شدید پتھراؤ کیا ۔

لیمارکیٹ سب سے زیادہ متاثر ہ علاقہ ہے جہاں سڑکوں پر ہر طرف پتھر اور شیلنگ کے خول نظر آ رہے ہیں ۔ گزشتہ رات بھی اس علاقے میں وقفے وقفے سے پولیس اور مظاہرین میں آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا ۔ اس کے علاوہ آٹھ چوک ، نیا آباد اور و گردو نواح کے علاقوں میں پولیس کی جانب سے داخل ہونے کی کوشش کی جاتی رہی جس پر اسے سخت مزاحمت کا سامنا ہے ۔ مظاہرین نے مذکورہ علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جنہیں پولیس ہٹانے کی کوشش کرتی رہی ۔

علاقے میں گزشتہ دو روز سے کاروباری مراکز بند ہیں ۔سڑکیں سنسان ہیں تاہم وقفے وقفے سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں ۔دن بھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی علاقے کی نگرانی کی جاتی رہی۔ اس تمام صورتحال میں علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اشیائے خردونوش کا حصول مشکل ہو گیا ہے ۔ صورتحال کے پیش نظر پولیس کی مدد کیلئے رینجرز کو بھی علاقے میں تعینات کیا گیا ہے تاہم مکینوں کی جانب سے رینجرز کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی گئی ۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے گناہ لوگوں کو حراست میں لے رہے ہیں ۔جرائم پیشہ عناصر اگر لیاری میں ہیں تو پورے شہر میں ہیں ، صرف لیاری ہی کو ہدف کیوں بنایا جا رہا ہے ؟

ادھر اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ لیاری کی فضائی نگرانی کے لئے چار ہیلی کاپٹرز بھیج دئیے ہیں۔ حالات کی بہتری کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔ کراچی کے مزید چار علاقوں میں آپریشن کیا جائے گا۔

ادھر ایس ایس پی سی آئی ڈی گارڈن چوہدری اسلم کے مطابق لیاری میں آپریشن نہیں کیا جا رہا ہے صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ۔ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر لیاری میں امن وامان کے قیام کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور کسی بھی جرائم پیشہ عناصر کو ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا ۔

دریں اثنا لیاری میں آپریشن پر حکومت کی اہم اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی تحفظات کا اظہار کر دیا ۔ ایک جلسے میں خطاب کے دوران اے این پی کے جنرل سیکریٹری بشری جان نے کہا ہے کہ لیاری میں ہونیو الے یکطرفہ آپریشن کی مذمت کرتے ہیں ،قانون نافذ کرنیو الے اداروں کو یکطرفہ آپریشن سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ شہر کو اسلحہ سے پاک کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG