رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور قلندرز کا پلیئرز ڈویلپمنٹ پروگرام کے کھلاڑیوں پر انحصار


بیٹنگ کے شعبے میں لاہور قلندرز کے پاس فخر زمان، کرس لین، بین ڈک، سلمان بٹ، محمد حفیظ، لینڈل سمنز اور سہیل اختر جیسے نامی گرامی بلے باز شامل ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن میں شامل ٹیم لاہور قلندرز آج ایونٹ کا اپنا پہلا میچ ملتان سلطانز کے خلاف کھیلے گی۔

ماضی کے برعکس قلندرز کے لیے یہ پہلا موقع ہو گا کہ وہ ناتجربہ کار کپتان سہیل اختر کی قیادت میں میدان میں اُتریں گے۔ اس سے قبل اس ٹیم کی قیادت برینڈن میکولم اور اے بی ڈویلیئرز جیسے بڑے کرکٹر کر چکے ہیں۔

قلندرز کے اسکواڈ میں جہاں تجربہ کار اور منجھے ہوئے کرکٹرز شامل ہیں وہیں لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈویلپمنٹ پروگرام سے تربیت حاصل کرنے والے نوجوان کھلاڑی بھی ہیں۔

لاہور قلندرز کے پاس بیٹنگ، اوپننگ، فاسٹ اور اسپن بالنگ کے شعبے کے بڑے نام موجود ہیں جو اسکور بورڈ پر بڑا ہدف جمانے اور ہدف کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لاہور قلندرز کے اسکواڈ میں محمد حفیظ، ڈیوڈ ویسے، سیکیوج پراسانا اور سمت پٹیل آل راؤنڈر کی حیثیت سے ٹیم میں شامل ہیں جو بیٹنگ اور بالنگ دونوں ہی شعبوں میں کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بیٹنگ کے شعبے میں لاہور قلندرز کے پاس فخر زمان، کرس لین، بین ڈک، سلمان بٹ، محمد حفیظ، لینڈل سمنز اور سہیل اختر جیسے نامی گرامی بلے باز شامل ہیں۔

اسی طرح فاسٹ بالنگ کے شعبے میں قلندرز کا انحصار شاہین شاہ آفریدی، عثمان شنواری، ڈیوڈ ویسے اور حارث رؤف پر ہو گا۔ جب کہ اسپن شعبے میں قلندرز کے پاس سمت پٹیل اور محمد حفیظ جیسے تجربہ کار بالرز ہیں۔

پی ایس ایل کے قواعد کے مطابق ہر ٹیم کو میچ کے لیے ایک ایمرجنگ کھلاڑی کو بھی ٹیم میں شامل کرنا لازمی ہے۔ قلندرز کے پاس ایمرجنگ کھلاڑیوں کے لیے اپنے پلیئرز ڈویلپمنٹ پروگرام سے تربیت حاصل کرنے والے فرزان راجا، دلبر حسین اور محمد فیضان شامل ہیں۔ فرزان اور دلبر بطور بالر اور فیضان بیٹسمین کی حیثیت سے ٹیم کا حصہ ہیں۔

لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر عاطف رانا کے مطابق اس بار وہ بڑے ناموں کے بجائے اپنے کھلاڑیوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ٹیم کی قیادت لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈویلپمنٹ پروگرام سے تربیت پانے والے سہیل اختر کو سونپی ہے۔

اُن کے بقول، "ہمارے ناقدین کہتے تھے کہ آپ کرس گیل، اے بی ڈویلیئرز، برینڈن میکولم جیسے کھلاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ ہم نے اپنے پلیئرز ڈویلپمنٹ پروگرام سے زیادہ کھلاڑی شامل کیے ہیں۔"

اُن کے بقول، لاہور انتظار کر رہا تھا کہ لیگ پاکستان میں آجائے اور کھلاڑی اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیلیں۔ اس پریشر سے اُن کے خیال میں نتائج بالکل مختلف ہوں گے۔

پی ایس ایل میں پہلی مرتبہ کسی ٹیم کی قیادت کرنے والے کپتان سہیل اختر کہتے ہیں کہ لاہور قلندرز کی قیادت ان کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اتنی بڑی اور متحرک فرنچائز کی قیادت کرنا قابلِ فخر بات ہے۔

سہیل اختر کہتے ہیں کہ محمد حفیظ اور سلمان بٹ بہت زیادہ سپورٹ کر رہے ہیں اور کوشش کریں گے کہ ان کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔

'قلندرز کی کپتانی بڑا چیلنج ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:08 0:00

سہیل اختر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہو خامیاں تھیں ان پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ ٹیم میں شامل جتنے بھی غیر ملکی کھلاڑی ہیں ان کا انتخاب بہترین ہے جو بھی ٹیم کا حصہ بنیں گے امید ہے کہ وہ بہترین کریں گے۔

کپتان سہیل اختر کے مطابق ان کے پاس اوپننگ میں کئی نام ہیں۔ کرس لین، فخر زمان، سلمان بٹ اور محمد حفیظ مضبوط امیدوار ہیں۔ صورت حال کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

لاہور قلندرز کے فاسٹ بالر حارث رؤف کوچنگ اسٹاف اور کپتان کی نظروں میں ہیں اور انہیں فاسٹ بالنگ کا اہم ہتھیار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں حارث رؤف نے بگ بیش میں شاندار بالنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔ بگ بیش لیگ میں اپنی پرفارمنس پر حارث رؤف کہتے ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

حارث رؤف کے مطابق شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ ڈیتھ اوورز میں بالنگ کرانے کا انہیں خاصہ تجربہ ہے اور وہ اس تجربہ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کریں گے۔

حارث رؤف کے مطابق آخری دو ایونٹ میں آخری نمبر پر تھے لیکن اس بار ٹیم متوازن ہے اور کھلاڑی بھی جیت کے لیے تیار ہیں۔ بالنگ اور بیٹنگ کا کمبی نیشن بہترین ہے اس لیے امید کرتے ہیں کہ پی ایس ایل ٹرافی جیتیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG