رسائی کے لنکس

logo-print

عراق سے فوجی انخلا کا خط غلطی سے جاری ہوا: امریکی محکمہ دفاع


امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے واضح کیا ہے کہ عراق سے فوجی انخلا کب کرنا ہے اس کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق سے فوجی انخلا سے متعلق جاری ہونے والا خط اصلی ہے اور یہ غلطی سے جاری ہوا ہے۔

تین جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراقی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں غیر ملکی افواج کو ملک سے باہر نکلنے کا کہا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی بریگیڈیئر جنرل ولیم سیلے نے اتوار کو بذریعہ خط اپنے عراقی ہم منصب کو آگاہ کیا تھا کہ امریکی فوجی عراق چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ "ہم آپ کے ملک کی خودمختاری اور اپنی افواج کی ملک سے بے دخلی کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔"

امریکی فوج کے خط میں کہا گیا کہ اتحادی افواج کے انخلا کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جائے گا۔

پیر کی شب بغداد میں کئی ہیلی کاپٹروں کی آوازیں بھی سنی گئی تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جا رہا تھا یا نہیں۔

امریکی فوجی خط پر امریکی میرین کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ولیم سیلے کے دستخط تھے، جو عراق میں داعش کے خلاف امریکی اتحادی افواج کے کمانڈر ہیں۔

عراق سے امریکی فوج کے انخلا کا خط سامنے آنے کے بعد عراقی محکمہ دفاع میں یہ اس خط کی تصدیق کا معاملہ زیر غور آیا۔

بعدازاں امریکی اور عراقی حکام نے اس خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو لکھا گیا خط اصلی ہے جب کہ پینٹاگون نے اسے 'غلطی' سے جاری ہونا قرار دیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایپسر کا کہنا ہے کہ امریکہ کا عراق سے فوری طور پر انخلا کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ہم اتحادیوں کے ساتھ مل کر عراق میں اب بھی داعش کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس خط سے متعلق نہیں جانتے تاہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ خط کہاں سے جاری ہوا۔

مارک ایسپر نے واضح کیا ہے کہ عراق سے فوجی انخلا کب کرنا ہے اس کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ عراق سے فوجی انخلا سے متعلق لکھا گیا خط ابتدائی مسودہ تھا جس کا مقصد محض فوجیوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کو کم کرنا تھا۔

یاد رہے کہ عراق میں لگ بھگ پانچ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جن سے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ مقامی فورسز کی تربیت کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر، آرمی جنرل مارک ملے اور دیگر اعلیٰ حکام نے حالیہ صورت حال پر سینیٹ کو بدھ کو بریفنگ دینے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

بعض ارکان کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی تھی کہ وائٹ ہاؤس کسی حکمت عملی کے بغیر بیرون ملک تنازعات کا رسک لے رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG