رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں لاک ڈاؤن میں توسیع، پنجاب اور سندھ کو وفاق کے فیصلے کا انتظار


وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کو بڑھانے کا فیصلہ وفاقی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے۔ (فائل فوٹو)

کرونا وائرس کے سد باب کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں توسیع کے لیے صوبہ پنجاب اور سندھ نے وفاق سے رہنمائی طلب کر لی ہے جب کہ بلوچستان نے 21 اپریل تک توسیع اور خیبرپختونخوا کی حکومت اب تک کوئی واضح اعلان نہیں کر سکی ہے۔

محکمہ صحت پنجاب نے صوبائی حکومت سے لاک ڈاؤن میں توسیع کی سفارش کی ہے۔ جب کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ وفاقی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اس فیصلے پر عمل درآمد پر کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔

خیبر پختونخوا میں مارچ کے تیسرے ہفتے میں کیے گئے لاک ڈاؤن کا دورانیہ منگل کو ختم ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے اب تک اس میں توسیع یا اسے ختم کرنے کے بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ سے تمام تجارتی اور کاروباری حلقوں میں ابہام پایا جاتا ہے۔

اُدھر بلوچستان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تمام چھوٹے بڑے شہروں میں لاک ڈاﺅن 21 اپریل تک ہو گا۔

پنجاب میں لاک ڈاؤن میں توسیع کی سفارش

لاہور میں وائس آف امریکہ کے نمائندے ضیاءالرحمٰن کے مطابق صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں اضافے کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

'محکمہ سیکنڈری اینڈ پرائمری ہیلتھ'’‬ پنجاب کے سیکریٹری کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان یونس کا کہنا ہے کہ صوبے میں لاک ڈاؤن کے مفید نتائج سامنے آ رہے ہیں جس کے باعث محکمۂ صحت نے حکومت کو اِس میں مزید اضافے کی سفارش کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن میں اضافے کی سفارش کا فیصلہ ماہرینِ صحت نے ایک اجلاس میں دیا ہے۔ جس میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماہرین، سی ای او میو اسپتال پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم، محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ پنجاب اور دیگر ماہرین صحت شامل تھے۔

سیکرٹری صحت پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تو ہو رہا ہے۔ البتہ اُس کی شرح میں کمی ہے۔

کرونا ایڈوائزری کمیٹی نے اپنی سفارشات حکومت پنجاب کو دی ہیں۔ حکومت پنجاب کے مطابق یہ سفارشات ‪'‬قومی رابطہ کمیٹی'’‬ کو بھجوا دی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب میں نافذ کردہ جزوی لاک ڈاؤن کی مدت رواں ماہ 14 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔

سندھ حکومت کا دو ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع پر غور

کراچی میں وائس آف امریکہ کے نمائندے محمد ثاقب کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ وفاقی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ فیصلے پر عمل درآمد میں کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں ماہرین نے کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے مزید دو ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کو بڑھانے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مگر اس معاملے پر اکیلے فیصلہ نہیں کریں گے۔ اس پر وفاق تمام لوگوں کی مشاورت سے فیصلہ کرے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے مسئلے پر وہ اکیلے بیٹھ کر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اگر وفاقی سطح پر اس کا بروقت فیصلہ کر لیا جاتا تو آج جیسی صورتِ حال نہ ہوتی۔

انہوں نے اس بات زور دیا کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کے معاملے پر قومی سطح پر ایکشن پلان بنانے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے مسئلے پر وہ اکیلے بیٹھ کر فیصلہ نہیں کرسکتے۔ (فائل فوٹو)
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے مسئلے پر وہ اکیلے بیٹھ کر فیصلہ نہیں کرسکتے۔ (فائل فوٹو)

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ مگر ایسے مکس سگنلز کی وجہ سے لاک ڈاؤن متاثر بھی ہوا ہے۔ تمام صوبے الگ الگ فیصلہ کریں گے تو اس سے عوام کی تکالیف بڑھیں گی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بعض وفاقی وزرا کی جانب سے ان کی حکومت کی کرونا وائرس کے دوران اختیار کی گئی پالیسیوں پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سے غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ مگر ان کی نیت غلط نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں سے وہ نمٹ لیں گے۔ سندھ حکومت پر وہ لوگ تنقید کر رہے ہیں۔ جو وزیرِ اعظم کی زیر صدارت کرونا سے متعلق اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوتے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ڈھائی لاکھ راشن بیگز تقسیم کیے ہیں۔ جب کہ تین لاکھ کے قریب راشن بیگز فلاحی تنظیموں نے تقسیم کیے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ راشن تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم راشن کی تقسیم پر رش لگا کر لاک ڈاؤن کے مقصد کو فوت نہیں کرنا چاہتے۔

اُن کے بقول سندھ حکومت نے اس مقصد کے لیے تین ارب روپے دیے ہیں۔ جب کہ پرائیویٹ ڈونرز کے علاوہ بیرون ملک سے بھی اس مقصد کے لیے فنڈز آئے ہیں اور اس فنڈ کی پرائیوٹ فرم آڈٹ کرے گی۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کرونا سے متعلق تین کروڑ 88 لاکھ روپے خرچ کر چکی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ان کی حکومت کو جو امید تھی، اتنی امداد نہیں ملی۔ لیکن پھر بھی شکر گزار ہیں۔

دوسری طرف صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں اب تک 13840 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ جن میں سے 1452 مثبت آئے ہیں۔

مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ اتوار کو کرونا وائرس کے مثبت آنے والے نتائج کی تعداد 41 تھی۔ اسی طرح صوبے میں اب تک 419 لوگ صحت یاب بھی ہوچکے ہیں اور 31 افراد وائرس سے موت کا شکار ہوئے۔

بلوچستان میں لاک ڈاؤن میں 21 اپریل تک توسیع

صوبہ بلوچستان میں لاک ڈاﺅن میں 21 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں لاک ڈاﺅن 21 اپریل تک جاری رہے گا۔

بلوچستان سے وائس آف امریکہ کے نمائندے عبدالستار کاکڑ کے مطابق لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ حکومت صوبے میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دیکھ کر فیصلہ کرے گی کہ لاک ڈاﺅن مزید جاری رکھنا ہے یا اسے ختم کرنا ہے۔

لیاقت شاہوانی کے بقول، صوبے میں اس وقت کرونا وائرس کے 231 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 65 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پیر تک صوبے بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 231 ہو گئی ہے۔ اب تک 95 افراد صحت یاب اور 132 مریض زیر علاج ہیں۔

خیبر پختونخوا میں لاک ڈاؤن کی توسیع سے متعلق ابہام

پشاور میں وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں پچھلے ماہ مارچ کے تیسرے ہفتے میں کیے گئے لاک ڈاؤن کا دورانیہ رواں ہفتے منگل کو ختم ہو رہا ہے اور اب تک حکومت نے اس میں توسیع کرنے یا اسے ختم کرنے کے بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔ جس کے وجہ سے تمام تجارتی اور کاروباری حلقوں میں ابہام پایا جاتا ہے۔

‘‬پاکستان فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری‪‬ کے سیکرٹری جنرل حاجی غلام علی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ لاک ڈاؤن کے لیے طریقہ کار واضح کرے اور تمام تاجر اور دکاندار اس طریقہ کار پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہوں گے۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اسپتالوں میں خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹروں اور انتظامی عہدیدار بھی کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتِ حال میں لاک ڈاؤن کے جاری رہنے کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کی حکومت نے لاک ڈاؤن کو مزید موثر بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ اختیارات ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور پبلک ہیلتھ ایکٹ کے تحت دیے گئے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنرز قانون کے تحت سزا دینے کے مجاز ہو گئے ہیں۔ جب کہ ڈپٹی کمشنرز افسران کے اختیارات کے استعمال کے لیے حدود کا تعین کریں گے۔

کشمیر میں لاک ڈاؤن میں 21 اپریل تک توسیع

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن 21 اپریل تک جاری رہے گا۔

لاک ڈوان مزید ایک ہفتہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ پیر کو کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔

کشمیر کی حکومت کے وزیر برائے بہبود آبادی مصطفیٰ بشیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جنوبی اضلاع میرپور اور بھمبر میں بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے گزشتہ ماہ کی 23 مارچ کو تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے 40 کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ دو افراد مرض سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

کشمیر میں اب بھی 38 افراد زیر علاج ہیں تاہم وبا سے کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی۔

حکام کے مطابق کشمیر میں ایک ہزار کے قریب افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

'لاک ڈاؤن کے حوالے سے فیصلہ وفاق اور صوبوں کی مشاورت سے ہوگا'

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبے اور وفاقی حکومت مشاورت سے فیصلہ کریں گے

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کے حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منگل کو ہوگا جس میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن ہٹنے کی صورت میں کاروبار کرنے والوں پر بڑی ذمہ داری ہو گی کہ مزدوروں کی صحت کا خیال رکھیں اور ان مزدوروں کے لیے حفاظتی انتظامات کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG