رسائی کے لنکس

ہفتے میں 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنا جان لیوا ہو سکتا ہے: عالمی ادارۂ صحت


ڈبلیو ایچ او کے کہنا ہے کہ عالمی وبا کام کے اوقات کار میں اضافے کے رجحان کو فروغ دے سکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں مقررہ اوقات سے زیادہ کام کرنے کے باعث ہزاروں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو رہے ہیں جب کہ کرونا وبا اور گھروں میں کام کرنے کے رُحجان کے باعث اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ گھر سے کام کرنے کی وجہ سے ملازمین کا وقت پر دھیان نہیں رہتا کہ وہ کتنے گھنٹے کام کر رہے ہیں اور زیادہ تر ملازمین اپنی نوکری کے مقررہ اوقات کار سے زیادہ ہی کام کر رہے ہیں۔

اس سے قبل 'جرنل انوائرمنٹ انٹرنیشنل' میں شائع ہونے والے زیادہ گھنٹے کام کرنے کی وجہ سے ہلاکتوں سے متعلق پہلے عالمی مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ 2016 میں زیادہ گھنٹے کام کرنے والے سات لاکھ 45 ہزار افراد امراض قلب اور فالج کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے تھے۔

تحقیق کے مطابق ہلاکتوں کی یہ شرح سن 2000 کے مقابلے میں 30 فی صد زیادہ تھی۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق ایسے ادارے جہاں ملازمین کے کام کرنے کے لیے پانچ دن مقرر ہیں ان کے لیے ہفتے میں 40 گھنٹے کام کرنے کا معیار مقرر کیا گیا ہے جب کہ ایسے ادارے جہاں ملازمین کے کام کرنے کے لیے چھ دن مقرر ہیں وہاں ملازمین زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں کرونا وبا کے باعث متعدد کمپنیوں نے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو بے شمار مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اب عالمی ادارہ صحت نے پیر کو کہا کہ زیادہ گھنٹے کام کرنے سے لاکھوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں جس میں کرونا وبا کی وجہ سے مزید تیزی آ سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مشترکہ مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر متاثرین میں 72 فی صد درمیانی یا اس سے زائد عمر کے مرد شامل تھے۔

اس مطالعے میں مجموعی طور پر 194 ممالک سے اعدادوشمار مرتب کیے گئے ہیں۔

مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا کہ چین، جاپان اور آسٹریلیا میں رہنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے حالیہ مطالعے کے مطابق ایک ہفتے میں 55 گھنٹے کام کرنے سے فالج کا 35 فی صد زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے جب کہ اس سے امراض قلب سے مرنے کے 17 فی صد زائد خطرات ہوتے ہیں۔

اس مطالعے میں کرونا وبا کا عرصہ شامل نہیں ہے۔ مطالعے میں سن 2000 سے 2016 تک کے عرصے کو شامل کیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کام کے اوقات کار کے رحجان میں اضافے کو فروغ دے سکتی ہے۔ ان کے بقول ایک اندازے کے مطابق کم از کم نو فی صد افراد مقررہ اوقات سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاس کا کہنا ہے کہ ان کا عملہ اور وہ خود بھی کرونا وبا کے دوران زائد گھنٹے کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے محکمہ پبلک ہیلتھ اور ماحولیات کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریہ نیرہ کا کہنا ہے کہ وہ اس تحقیق کی روشنی میں اپنی پالیسی میں بہتری لانے کی کوشش کریں گی۔

ڈبلیو ایچ او کے تیکنیکی افسر فرینک پیگا کا کہنا ہے کہ کام کرنے کے گھنٹوں کو کم کرنا ملازمین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا کیوں کہ اس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

ان کے بقول وبائی امراض کی وجہ سے معاشی بحران کے دوران ملازمین کے کام کرنے کے اوقات میں اضافہ نہ کرنا دانش مندی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG