رسائی کے لنکس

logo-print

'مدارس کے نصاب میں مداخلت قبول نہیں'


وفاق المدارس العربیہ کے صوبائی ناظم قاضی عبدالرشید۔ فائل فوٹو

پاکستان میں مدرسوں کے نظام تعلیم سے متعلق ایک غیر سرکاری ادارے وفاق المدارس العربیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ وہ مدارس میں جدید علوم پڑھانے پر تیار ہیں۔ لیکن، نصاب میں بیرونی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔

وفاق المدارس العربیہ کے پنجاب کے ناظم، قاضی عبدالرشید نے کہا ہے کہ وہ مدرسوں کو وزارت تعلیم کے تحت رجسٹر کرنے کے حکومتی اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم، اس عمل کو آسان اور سہل بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مدراس میں جدید مضامین پڑھانے پر تیار ہیں۔ لیکن، انہیں مدارس کے نصابی معاملات میں بیرونی مداخلت کسی طور قبول نہیں ہے۔

قاضی عبدالرشید کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے مدرسوں کو مرکزی دھارے میں لانے اور ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم تشکیل دینے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں محکمہ تعلیم کے تحت مدرسوں کی رجسٹریشن کرانے کی منظوری بھی دی ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران عبدالرشید نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں مختلف مسالک کے لگ بھگ 30 ہزار مدارس کام کر رہے ہیں اور ان میں تقریبا 30 لاکھ بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘‘مدارس کے نصاب کے لیے وفاق المدارس کی نصاب کمیٹی پہلے سے موجود ہے۔ وہ نصاب بنائے گی۔ وزارت تعلیم کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مدارس کا نصاب وضع کرے۔’’

تاہم، انہوں نے کہا کہ ‘‘عصری مضامین کے لیے حکومت سے منظور شدہ کتابیں پہلے ہی مدارس میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ لیکن، درس نظامی کا نصاب وفاق المدراس میں پڑھایا جائے گا۔ "

’مدارس کے نصاب میں مداخلت قبول نہیں‘
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:10 0:00

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض مدارس ملک میں تشدد اور انتہا پسندی کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔ اس لیے، ان کے تعلیمی نصاب میں جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات کرنا ضروری ہیں۔

تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2001ء کے بعد سے کئی بار مدرسوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن، یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

بقول ان کے، ‘‘مدرسے مذہبی اور سیاسی قوت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس لیے بعض گروپ ان پر اپنا کنڑول ختم کرنے پر تیار نہیں ہوں گے۔’’

تاہم، حسن عسکری کا کہنا تھا کہ‘‘ مدارس اس حد تک حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہیں، اگر ان کی اسناد کو میٹرک، بی اے اور ایم اے کے مساوی تسلیم کیا جائے۔ لیکن، وہ اپنے اندرونی معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔’’

پاکستان کی موجودہ حکومت نے ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ لیکن، حسن عسکری کے بقول، ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے لیے یکساں نصاب وضع کرنا شاید اتنا آسان نہیں ہے۔

تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم بہتر بنا دیا جائے تو نہ صرف نجی اسکولوں کا کردار کم ہو جائے گا بلکہ لوگ اپنے بچوں کو مدرسوں میں بھیجنے کے بجائے سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے کو ترجیج دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG