رسائی کے لنکس

میکسیکو: زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری


امدادی کارکن زلزلے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ 20 ستمبر 2017

دارالحکومت کے میئر میگوئل اینجل مانسیرا کے مطابق شہر کے 44 مقامات پر عمارتوں کے منہدم ہونے کی اطلاع ہے

میکسیکو میں امدادی کارکن ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو میکسیکو شہر میں سات اعشاریہ ایک شدت کے ایک مہلک زلزلے سے گرنے والی عمارتوں میں ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے ہیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ منگل کے روز کے زلزلے میں کم از کم 225 لوگ ہلاک ہوئے جب کہ اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امدادی کارکن گرنے والی عمارتوں کے ملبوں کو کھنگال رہے ہیں۔ زلزلے کا مرکز میکسیکو شہر کے جنوب مشرق میں 123 کلومیٹر پر واقع پوبلا کا علاقہ تھا جہاں ابھی تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ایک مقامی باشندے انٹونیو وازکیوزکا کہنا تھا کہ لوگ بہت پریشان ہیں۔ کچھ رو رہے ہیں اور چیخ رہے ہیں۔ میں نے لوگوں کو پریشانی کے عالم میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے، اور وہ گر پڑے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم، اگر آدھی رات کو زلزلے کا کوئی جھٹکا آیا تو کیا کچھ ہو سکتا ہے ۔اس لیے ہمارے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ ہم گھر چھوڑ دیں۔ اندازہ ہے کہ دو یا تین دن میں صورت حال مستحکم ہو جائے گی۔

صدر اینرک پینا نیتونے کہا ہے کہ زلزلے سے کم از کم 38 عمارتیں منہدم ہوئیں۔

زلزلے کا نشانہ بننے والی ایک عمارت
زلزلے کا نشانہ بننے والی ایک عمارت

حالیہ زلزلہ اس سے قبل ملک کے جنوب میں زلزلے سے دو ہفتے سے بھی کم عرصے کے بعد آیا ہے جس میں 90 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی جیالوجیکل سروے نے کہا ہے کہ ان دونوں زلزلوں کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔

یہ زلزله اس کے ٹھیک 32 سال بعد آیا ہے جب آٹھ کی شدت کے ایک طاقت ور زلزلے میں میکسیکو شہر اور اس کے ارد گرد لگ بھگ دس ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق میکسیکو کے وسطی علاقے میں آنے والے شدید زلزلے سے ہلاک افراد کی 248 ہو گئی ہے اور حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

میکسیکو کے شہری دفاع کے ادارے کے سربراہ لوئی فلپ پیونٹے نے کہا ہے کہ صرف دارالحکومت میکسیکو سٹی میں 117 افراد ہلاک ہوئے ہیں جہاں زلزلے کے باعث کئی رہائشی اور سرکاری عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔

میکسیکو سٹی ایک قدیم خشک جھیل کی سطح پر آباد ہے جس کی دلدلی زمین بہت دور آنے والے زلزلے کے جھٹکوں سے بھی بری طرح لرز جاتی ہے۔

زلزلے میں کثیر منزلہ عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں اور لوگ ان میں پھنس کر رہ گئے۔
زلزلے میں کثیر منزلہ عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں اور لوگ ان میں پھنس کر رہ گئے۔

دارالحکومت کے میئر میگوئل اینجل مانسیرا کے مطابق شہر کے 44 مقامات پر عمارتوں کے منہدم ہونے کی اطلاع ہے جب کہ کئی بلند و بالا رہائشی عمارتیں ٹیڑھی ہو گئی ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد نے رات سڑکوں پر گزاری ہے۔

میکسیکو سٹی کے جنوب میں واقع ریاست موریلوس بھی زلزلے سے بری طرح متاثر ہوئی ہے جہاں اب تک 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

منگل کی دوپہر آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 1ء7 ریکارڈ کی گئی تھی۔ زلزلے کا مرکز میکسیکو سٹی سے 123 کلومیٹر جنوب میں ریاست پیوبلا میں تھا جہاں زلزلے سے اب تک 43 افرادکی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

میکسیکو سٹی میں شہریوں نے زلزلے کی آمد سے چند گھنٹے قبل ہی زلزلے سے نبٹنے کی مشقیں کی تھیں جو ہر سال 1985ء میں آنے والے تباہ کن زلزلے کی برسی کے موقع پر کی جاتی ہیں۔

بتیس سال قبل آنے والے زلزلے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ میکسیکو کی جنوبی ساحلی پٹی پر سات ستمبر کو بھی شدید زلزلہ آیا تھا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 1ء8 ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایک ہفتہ پہلے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 90 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

منگل کو جس وقت زلزلہ آیا اس وقت میکسیکو کے صدر اینرک پینا نیتو سات ستمبر کے زلزلے سے متاثر ہونے والے ایک شہر کے دورے پر تھے جو زلزلے کے بعد فوری طور پر دارالحکومت پہنچے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق میکسیکو سٹی اور زلزلے سے متاثر ہونے والے دیگر علاقوں میں منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں تمام رات جاری رہیں۔

زلزلے سے دارالحکومت میں ایک پرائمری اسکول کی عمارت بھی منہدم ہوئی ہے جس کے ملبے سے اب تک 25 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جن میں اکثریت معصوم طلبہ کی ہیں۔

منگل کی شب اپنے ایک ویڈیو بیان میں صدر پینا نیتو نے قوم سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ حکام ہر ممکن سرعت اور وسائل کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

صدر نے کہا کہ زلزلے کے باعث دارالحکومت کا 40 فی صد علاقہ اور ریاست موریلوس کا 60 فی صد علاقہ بجلی سے محروم ہوگیا ہے جس کی بحالی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

حکام اور امدادی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG