رسائی کے لنکس

'دہشت گردی کے خلاف منبر سے موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے'


فائل فوٹو

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے مسلمانوں کے اہم ترین مذہبی مقام خانہ کعبہ کے امام شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید کا کہنا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فرد واحد یہ اختیار نہیں رکھتا کہ وہ نہ صرف کسی مسلمان بلکہ کسی بھی شخص کو واجب القتل قرار دے اور اس کا اختیار صرف مسلم ریاست کے پاس ہے۔

دہشت گرد واقعات کے تناظر میں خاص طور پر مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی منافرت کے پیش نظر اس سے قبل بھی نامور اور اہم مذہبی شخصیات ایسے ہی بیانیے کو فروغ دینے کی بات کرتے آئے ہیں لیکن اس ضمن میں تحفظات کو دور کرنے میں کوئی قابل ذکر کامیابی دیکھنے میں نہیں آئی۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں خاص طور پر نوجوانوں میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور ان کے شدت پسند تنظیموں کے نظریات سے متاثر ہونے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

ملک کے معروف مذہبی دانشور ڈاکٹر راغب نعیمی کے نزدیک حقیقت پر مبنی اس بیانیے کو فروغ دینے میں حکومت کے ساتھ ساتھ مذہبی حلقے بھی ناکام رہے۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف اس بیانیے کا تذکرہ حالیہ چند برسوں سے کیا جانے لگا ہے جب کہ 2001ء میں امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں اور پھر ایک دہائی تک اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا جو ان کے بقول اُس وقت بہت ضروری تھا۔

"جس بیانیے کی بات ہم کر رہے ہیں وہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بیانیے کو تیار کر کے محراب و منبر کے ذریعے معاشرے میں پھیلاتی۔۔۔گویا ہم بیانیہ بنانے میں من حیث المجموع ناکام ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اب تک ہم لوگوں کو آگاہ کرنے میں کامیاب ہیں ہو سکے کہ ریاست کی ذمہ داری کیا ہے فرد واحد کی ذمہ داری کیا ہے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ اس میں محراب و منبر پر بیٹھنے والے ذمہ داری ہیں۔

"ہمارے معاشرے میں خاص طور پر محراب و منبر پر بیٹھنے والے افراد جو ہیں انھیں عمرانیات کا شہریت کا اور خاص طور پر وہ قواعد و ضوابط جن کا تعلق سماجی شعور سے ہوتا ہے ان کے بارے میں آگاہی نہیں ہے تو میں سمجھتا ہوں محراب و منبر سے بھی اس طریقے سے آواز نہیں اٹھ سکی جس طریقے سے اٹھنی چاہیے تھی۔"

تاہم ڈاکٹر راغب نعیمی کے بقول صورتحال میں ماضی کی نسبت خاصی تبدیلی آ رہی ہے اور انھیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں بہت مزید مثبت تبدیلیاں ہوں گی۔

پاکستانی حکومت نے بھی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مذہبی حلقوں کی مشاورت سے کام شروع کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG