رسائی کے لنکس

’دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ متبادل بیانیے سے کیا جائے‘


پاکستان کی پارلیمنٹ کی عمارت

سینیٹ اجلاس میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنی تقریروں میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متبادل بیانیہ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹرز نے دہشت گردی کے واقعات میں طالب علموں کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کر تے ہوئے تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا عسکریت پسندی کے خلاف متبادل بیان دینا نیکٹا کی ذمہ داری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونے کی بات کرنے والے اصل میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں کیونکہ 20 نکات میں سے اکثر نکات کا تعلق صوبوں سے ہے۔

تحریک التواء پر سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کےخلاف فوجی سازوسامان کی بجائے عسکریت پسندی کے خاتمہ کے لئے بیانہ تشکیل دینے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں تعلیم یافتہ لوگ ملوث پائے جا رہے ہیں اس لیے نصاب پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کا رپورٹ کارڈ واضح ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی کارگردگی پرکوئی پردہ نہیں رہا۔ ہمارے مذہب کو جنگجوؤں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے،۔

سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ پرویزمشرف اور ضیاء الحق ملک میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے تحریک التواٗ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے بیج خود درآمد کیے گئے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ہمارے پاس کوئی تشريح موجود نہیں۔

سینیٹر حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد نام نہاد دہشت گری کی جنگ میں ملک کو کس نے دھکیلا۔ اس کام میں دینی مدرسے، عوام اور پارلیمنٹ نہیں بلکہ پرویز مشرف شامل ہے۔

ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کرانے پر زور دیا۔

سینیٹر جاوید عباسی نے تعلیمی اداروں میں عسکریت پسندی اور اور طلبا کے دہشت گر تنظیموں میں شمولیت کے خطرناک رجحان ہر توجہ دلوائی۔

سینیٹ میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی اور ناکامی ہم سب کی کامیابی اور ناکامی ہوگی۔ انہوں نے تحریک پر جواب دیتے ہوئےکہا کہ آمروں کے دور میں بننے والے بیانیے نے ملک کو نہیں ان کے ذاتی مفادات کو فائدہ پہنچایا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونے کی بات کرنے والے اصل میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں کیونکہ 20 نکات میں سے اکثر نکات کا تعلق صوبوں سے ہے۔ قومی بیانیہ آئین قانون اور مذہب کے مطابق اور قائداعظم کی واضح پالیسیوں کے عین مطابق ہوگا، چاہتے ہیں جو بھی بیانیہ بنایا جائے وہ متفقہ ہو۔

سینیٹ کے اجلاس میں اس سے قبل بھی سینیٹر فرحت اللہ بابر سمیت کئی سینیٹرز تعلیمی اداروں کے نوجوانوں کی دہشت گردی اور انتہاپسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG